بس کریں، ملک چلنے دیں
05 اکتوبر 2020 (13:52) 2020-10-05

ملک کے حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں، معاف کیجیے بگاڑے جا رہے ہیں، جذبات کا دھواں فضا مکدر کر رہا ہے، لیکن اتنی جلدی بگاڑ؟ سچ پوچھیں تو توقع نہیں تھی، حکومت اور اپوزیشن دونوں انتہاؤں کو چھونے لگی ہیں، ن لیگ اور دیگر مخالف پارٹیوں نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔ حکومت بھی بھرپور تیاری کا تاثر دے رہی ہے، آنکھ مچولی جاری جو پہلے چھولے وہی سکندر، حکومت تیار، اپوزیشن الرٹ، گرفتاریاں، مقدمات، جا و بے جا انکوائریاں، طلبیاں، نوٹسز، عدالتوں میں مقدمات کا رش، وکلا مصروف، ججوں کے ریمارکس حالات کے بگاڑ کی نشاندہی، ملک و قوم کے لیے نیک شگون نہیں ”ہائبرڈ وار“ جاری، حکومت کے سارے وزیر مشیر ترجمان پراپیگنڈہ وار کے ماہر سارے گھوڑے تیار، اپوزیشن بھی ہتھیار بند، طبل جنگ بج گیا۔ پراپیگنڈہ وار میں اصل حقائق جاننا مشکل، مفاہمتی سیاست مزاحمتی سیاست کی طرف تیزی سے گامزن، جنگ اور محبت میں سب جائز، کہاں کی محبت کہاں کی مروت، دشمنی پھل پھول رہی ہے، ریاست مدینہ سے قبل ایام جاہلیت کی دشمنی کا دور پلٹ آیا ہے۔ اپوزیشن نے پی ڈی ایم کا روپ دھار کر 11 اکتوبر سے حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا محاذ جنگ پر اپوزیشن کی پیش قدمی، ادھر سے چیخ و پکار ”ابتدائے جنگ ہے ہوتا ہے کیا“ کہتے ہیں دسمبر جنوری تک صورتحال تبدیل ہوجائے گی۔ لیکن اکتوبر کا مہینہ بھی کم اہم نہیں، سیانے اسے تاریخ ساز مہینہ قرار دیتے ہیں۔ ایوب خان، پرویز مشرف کے طویل ادوار اقتدار اسی مہینے سے شروع ہوئے۔ اکتوبر کے آغاز سے ہی ہل چل میں اضافہ، نواز شریف کے پے در پے دو خطابات نے مسلم لیگیوں کا لہو گرما دیا ہے۔ لہجہ انتہائی سرد لیکن بلا کا تلخ، دو خطابات کا رد عمل، تین بار کے وزیر اعظم پر غداری، بغاوت کے الزامات، لندن میں برسوں سے مقیم سابقون الاولون سے ملانے کی کوششیں،، لہجوں کی تلخی بڑھ رہی ہے وزیر اعظم کا ترکی بہ ترکی جواب۔ سیاسی گرما گرمی، دور تک دیکھنے والے کہنے لگے ہیں کہ تلخی اور بڑھے گی آخر میں دمادم مست قلندر، حافظ حسین احمد نے اہم سوال اٹھا دیا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کی لڑائی کو ”سہ فریقی“ بنانے کی کوشش کون کر رہا ہے؟ اپنی جنگ لڑیں، تیسرا فریق ایرینا سے باہر ہے، اسے کیوں ملوث کیا جائے، فواد چوہدری اپنی ”سائنس“ بھول گئے۔ ریاضی کے سوال حل کرنے لگے۔ معصومانہ لہجہ میں کہا کہ اپوزیشن کی تحریک کا اخلاقی جواز نہیں، ایسی تحریک کیسے کامیاب ہوگی؟ آپ کے منہ میں دیسی گھی، براؤن شکر، کم و بیش 50 وزیروں، مشیروں میں سے کسی نے تو اخلاقیات کی بات کی، پے در پے خبروں اور دلدوز واقعات کے بعد سے تو اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے۔ جنگلوں کے درندے سڑکوں اور ہوٹلوں میں دندناتے پھرتے ہیں۔ عزتیں کھیتوں میں نظر آتی ہیں آپ کس اخلاق کی بات کر رہے ہیں۔

ان حالات میں پوری قوم ذہنی ٹینشن میں مبتلا تناؤ کا شکار جس سے حال احوال پوچھا تلخ لہجہ میں بولا، بس کرو یار ملک چلنے دیں، ملک کیسے چلے گا؟ سوال طویل بحث کا متقاضی، عوام مہنگائی کے ہاتھوں تنگ زندگی سے بیزار، ایک سینئر تجزیہ کار کے مطابق حکومتی اہلکار کہتے ہیں جان بچانے والی ادویات مارکیٹ میں دستیاب نہیں تھیں، 262 

فیصد قیمتیں بڑھانی پڑیں، اب مل رہی ہیں لیکن لوگ خرید نہیں سکتے۔ غریب کیسے جئے، آمدنی، تنخواہ، محدود وسائل دواؤں اور دیگر ضروری اشیا کی خریداری میں رکاوٹ، چند دن پہلے یوٹیلٹی اسٹورز سے گھی، چینی، آٹا غائب ہوگیا۔ اچانک قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ڈبوں اور پیکٹوں سے اسٹور بھر گئے۔ گھی 33 روپے کلو مہنگا، کوکنگ آئل میں 20 روپے کلو اضافہ، چینی 100 سے کم میں دستیاب نہیں، سبزیاں زمین میں اگتی ہیں لیکن قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، غریبوں کو اوپر لانا حکومتی ویژن لیکن سارے اقدامات غریبوں کو اوپر بھیجنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ مہنگائی، بد امنی، بیروزگاری ریاست کے اصل چینلجز، بنیادی مسائل لیکن سیانے بیانے تجزیہ کار بھی کہنے لگے ہیں کہ ملک سیاسی بونوں کے سپرد کردیا گیا ہے۔ جنہیں مسائل کا ادراک ہے نہ احساس، دن رات 24 گھنٹے اندھیرے اجالے ٹی وی چینلز، اخبارات، سوشل میڈیا پر ایک ہی موضوع زیر بحث، بھاگ گیا، پکڑو واپس لاؤ جیل میں ڈالو، دھوکہ دے کر نکل گیا۔ کیفر کردار تک پہنچانا ہے۔ نشان عبرت بنانا ہے۔ خود ہی بھیجا خود ہی واویلا، رونا دھونا، صوبائی وزیر صحت ابھی تک بضد کہ بیماری کی رپورٹس باکل درست تھیں، علاج کے لیے ہی بھیجا گیا تھا۔ ”بیٹوں کی شکلیں دیکھ کر آگئی ہے منہ پر رونق، یہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے“ ترجمان ”ہوئی صبح اور کان پر رکھ کر قلم نکلے“ کے مصداق آنکھ کھلتے ہی ٹی وی کیمروں کے جھرمٹ میں آ بیٹھتے ہیں، دن بھر ایک ہی موضوع بیشتر وزیر مشیر اور معاونین خصوصی کا تعلق بیرون ملک سے ہے، بائبرڈ وار کے ماہر، دن کو پریس کانفرنسز، رات کو ٹاک شوز،”اب تو آرام سے گزرتی ہے عاقبت کی خبر خدا جانے“ حکومت چلانا ان کی ذمہ داری، ان کے مہنگے گھر چلانا حکومت کی اولین ترجیح، ٹاک شوز کیا ہیں، ایک بندہ ن لیگ، دوسرا پی ٹی آئی تیسرا پی پی اور چوتھا خود اینکر موضوع فرار، مفرور، مجرم، نمبر ون نمبر ٹو واپسی ممکن ہے؟ کیسے ممکن ہے دل کی پھپولے جلتے رہتے ہیں۔ اینکر پرسن سب سے زیادہ بولتا ہے باقی تینوں ”عادی سیاستدان“ حسب استطاعت اس کار خیر میں حصہ بٹاتے ہیں، اختتام دنگا فساد پر ہوتا ہے۔ منڈوا ختم دی اینڈ، ٹی وی تفریح کا ذریعہ یا ذہنی پراگندگی اور ٹینشن کا مشینی آلہ، گھر سے باہر مہنگائی کی ٹینش، بیروزگاری کا ہوکا، لوٹ مار کے خدشات، عزت و ناموس کا خطرہ، دیہات اور شہروں کی تخصیص نہیں، جنگل کا قانون جنگل کا دستور، بینک، اے ٹی ایم، سڑکیں، بازار ڈاکو ڈکیتوں سے کوئی جگہ محفوظ نہیں،گھر کے اندر کھانے پینے کے لالے، بچوں کے مطالبات پر فریق ثانی سے جھگڑے، ملکی معیشت کے صدقے سارے گھریلو بجٹ فیل، غربت سے نکلنے کے سارے راستے بند، شہری جتنا کماتے ہیں گیس اور بجلی کے بلوں میں نکل جاتا ہے۔ 22 کروڑ عوام میں صرف پچاس وزیر مشیر اور ترجمان بے فکر اور خوشحال تمام غموں سے فرار کے لیے آنکھیں بند کریں تو ذہن کی اسکرین پر شیخ رشید اور دیگر ترجمانوں کے بیانات یا پھر اجتماعی زیادتیوں کی خبریں، کسی نے شفقت محمود سے راولپنڈی کے سقراط بقراط کے بارے میں پوچھ لیا کہ انہیں گرفتاریوں اور جھاڑو پھرنے کی خبریں کون دیتا ہے شفقت محمود بھی بقراط عصر کے دیوانے پروانے نکلے کہنے لگے وہ کیس دیکھ کر متوقع نتائج کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ حیرت ہوئی کہ کیس عدالت میں بقراط عصر گھر میں کیس کون دکھاتا ہے کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ایک بات قابل غور، شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد سے شیخ صاحب غائب ہوگئے ہیں۔ اضطراب ہے یا مشن کی تکمیل پر اطمینان، آرام کی مہلت مل گئی، تازہ دم ہونے کے بعد محاذ جنگ پر نکلیں گے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ملک چلانے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ضروری ورنہ تصادم ہوگا، مذاکرات کیسے اور کس سے ہوں گے؟ حضرت تو اپوزیشن کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں، دو سال سے آمنا سامنا نہیں ہوا، شہباز شریف آصف زرداری اور بلاول کی شکلیں تک بھول گئے ہوں گے۔ مل بیٹھیں تو مذاکرات ہوں سمتیں الگ وژن جدا، دلوں میں نفرت، نیتوں میں فتور، مل بیٹھنا ممکن نہیں، اکتوبر میں شروع ہونے والی سیاسی لڑائی کا پہلا فیز یا مرحلہ دسمبر جنوری میں مکمل ہوگا جس کے بعد سروائیول اور بقا کی جنگ تیز ہوگی۔ مارچ میں سینیٹ کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو سبقت حاصل ہوجائے گی تو اس کے لیے قانون سازی آسان ہوگی کسی ماجے ساجے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اپوزیشن عضو معطل ہو کر رہ جائے گی اس کے لیے اپوزیشن کو فیصلہ کن جنگ لڑنی ہوگی۔ ورنہ اس کی سیاسی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔ ساری باتیں تجزیے، امکانات قبل از وقت ہائبرڈ جنگ کا حصہ لیکن عوام کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں وہ برملا کہتے ہیں کہ بس کریں ملک چلنے دیں تاہم انہیں بھی پتا نہیں کہ ملک کیسے چلے گا۔


ای پیپر