سانحہ بابری مسجد
05 اکتوبر 2020 (13:48) 2020-10-05

 یہ مو سمِ سر ما کی ایک سر د صبح تھی جب بی جے پی کے سر کردہ رہنما لال کرشن ایڈوانی نے راشٹریہ سیوک سنگھ کے ساتھ مل کر 1992ء میں بابری مسجد کے خلاف ہندو رائے عامہ کو بھڑکانے کے لیے رتھ یاترا کی تھی۔ اس یاترا کے بعد ایودھیا میں لاکھوں ہندو انتہا پسند رضا کار (کارسیوک) جمع ہوئے جنہوں نے 6 دسمبر 1992ء میں بابری مسجد کی عمارت کو منہدم کردیا تھا۔ سول سوسائٹی اور مسلم تنظیموں نے عدالت کے اس فیصلے کو بھارت کے کریمنل جسٹس سسٹم کی مکمل ناکامی اور انصاف کاخون قرار دیا ہے۔ اس سے قبل نومبر 2019ء میں بھارتی سپریم کورٹ بابری مسجد کی زمین کی ملکیت کا فیصلہ ہندو انتہا پسندوں کے حق میں دے چکی ہے۔ ہندوؤں کا الزام تھا کہ چھ سو سال تک مسلمانوں کے استعمال میں رہنے والی عبادت گاہ برصغیر کے پہلے مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر نے مندر کی جگہ پر تعمیر کرائی تھی۔ اس الزام کو سچ ثابت کرنے کے لیے ہندوؤں نے ہر حربہ استعمال کیا۔ یہاں تک کہ مذہبی کارڈ کی ایسی کہانی گھڑی کہ حد ہی پار ہوگئی۔ ہندو انتہا پسندوں کا دعویٰ تھا کہ جس جگہ پر یہ مسجد تعمیر کی گئی ہے وہاں پر ان کے دیوتا رام چندر کا جنم ہوا تھا۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین کے متعلق حتمی فیصلہ ہندو فریق کے حق میں دیا تھا لیکن اسی فیصلے میں یہ الفاظ بھی استعمال کیے تھے کہ بابری مسجد پر حملہ اور انہدام ایک ناقابل معافی مجرمانہ فعل تھا۔ بھارت کی سپریم کورٹ ہو یا مقامی عدالت، اس فیصلے نے ثابت کردیا ہے کہ دنیا میں سیکولرازم کا نعرہ لگانے والا بھارت صرف ہندو مائل جمہوریت پر یقین رکھتا ہے۔ باقی تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھارتی شہریوں کی حیثیت اچھوت سے بھی کم تر ہے۔اور اب اٹھا ئیس بر س کے بعدبھارتی عدالت نے بابری مسجد شہید کرنے کے مقدمے میں نامزد تمام 32 ملزمان کو بری کردیا ہے۔ بابری مسجد کے انہدام کا منظر ساری دنیا نے دیکھا تھا، سبھی نشریاتی ادارے اس وقت کی تصاویر اور ویڈیوز کو چلا رہے تھے، آج بھی سوشل میڈیا پر ان گنت ویڈیوز موجود ہیں لیکن اس کے باوجود عدالت نے اسے قابل قبول شہادت نہ گردانتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ ”سی بی آئی کے ذریعے پیش کردہ آڈیو اور ویڈیو ٹیپ کی معتبریت ثابت نہیں ہوسکی، تقریر کی آڈیو بھی پوری طرح صاف نہیں ہے۔“ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی عدالت دباؤ میں ایسے فیصلے کر رہی ہے جو انصاف کا خون ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہندوستان کی عدلیہ اور جج انتہا پسندوں کا دباؤ برداشت نہیں کر پارہے ہیں۔ یوں سمجھ لیجئے کہ انڈیاتباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ بھارت کے عوام یہ سمجھنے سے قطعی قاصر ہیں کہ یہ ہو کیا رہا ہے؟ اس سے پہلے بھی سمجھوتہ ایکسپریس میں زندہ جلا دینے والے واقعے کے ملزمان بھی بری ہوگئے تھے۔ فیصلے سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ بھارت کا عدالتی نظام انتہا پسندوں کے سامنے کھڑا ہونے کی سکت نہیں رکھتا۔ ماضی میں بھارتی عدلیہ نے اندرا گاندھی کے ایمرجنسی لگانے کے خلاف فیصلہ دیا تھا جبکہ اب بھارتی عدلیہ انصاف پر مبنی فیصلے کی راہ سے ہٹ رہی ہے۔ نریندر مودی رام مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ کر خوش نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت وہ 

نفرت، تعصب اور مسلم دشمنی میں پاگل پن کی حدوں کو چھو رہے ہیں۔وطنِ عز یز پاکستان نے بابری مسجد شہید کرنے والے ملزموں کی رہائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارتی عدالت کے فیصلے کو شرم ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی عدالت کے فیصلے سے بھارت سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی۔ مسجد شہید کرنے کے نتیجے میں بی جے پی کی زیر قیادت فرقہ وارانہ تشدد ہوا اور تشدد کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔دوسری جانب کانگریس نے بھی لکھنؤ کی خصوصی عدالت کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔ یہ فیصلہ جو 28 برس بعد سنایا گیا ہے  اس کے مطا بق  بی جے پی کے مرکزی رہنماؤں ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت دیگر ملزمان کو بری کردیا گیا ہے۔ خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مسجد کو کسی منصوبہ بندی کے تحت شہید نہیں کیا گیا اور نہ ہی مقدمے میں نامزد ملزمان کے خلاف ثبوت فراہم کیے گئے۔ بابری مسجد کی زمین کی ملکیت کے مقدمے میں گزشتہ سال سپریم کورٹ اپنا فیصلہ سنا چکی ہے جس میں قرار دیا گیا تھا کہ جس زمین پر پانچ سو برس قبل مسجد تعمیر کی گئی وہ مندر کی ملکیت ہے۔ اس فیصلے کے بعد گزشتہ ماہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس زمین پر مندر کی تعمیر کا افتتاح کرچکے ہیں۔ کیا ہم اس بات کی اہمیت و افادیت سے انکار کرسکتے ہیں کہ عدالت کی ذمہ داری انصاف کی فراہمی ہے لیکن اگر اسے سیاسی مقاصد کے حصول کا آلہ کار بنالیا جائے تو وہی ہوتا ہے جو پچھلے کئی سالوں سے بھارت میں ہو رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال بابری مسجد کا قضیہ ہے۔ گزشتہ سال اپنا متنازعہ فیصلہ سنانے سے قبل عدالتِ عظمیٰ میں دو باتیں تسلیم کی گئی تھیں۔ پہلی تو یہ کہ 1949ء میں بابری مسجد کے اندر چوری چھپے مورتیوں کا رکھا جانا عباد ت گاہ کی بے حرمتی تھا۔ اس جرم کے ہندو گواہ یعنی چوکیدار وغیرہ اس وقت موجود تھے۔ عدلیہ اگر ان کی شہادت پر مورتیاں ہٹوادیتی تو اگلے 70 سالوں تک وہاں مورتیوں کے ظاہر ہونے کا جھوٹ نہیں پھیلایا جاسکتا تھا اور وہ نفرت و عناد کا ماحول بنانا بھی ممکن نہیں تھا جس نے ہزاروں معصوموں کی جان تلف کی اور کروڑوں ذہنوں کو مسموم کیا۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بات بھی تسلیم کی تھی کہ بابری مسجد کو شہید کیا جانا ایک مجرمانہ فعل تھا۔ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دینے کا مقدمہ لکھنؤ سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں 28 سال سے چل رہا تھا۔ 30 ستمبر 2020 کو ثبوتوں میں کمی کے بہانے ایک اور متنازع فیصلہ میں سارے ملزمان کو بری کردیا گیا۔ یعنی وہی روایت قائم رہی کہ جرم تو سرزد ہوا لیکن چونکہ سارے ثبوت مٹادیئے گئے تھے، اس لیے کسی کو سزا نہیں سنائی جاسکی۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہی کرنا تھا تو لمبے چوڑے ناٹک کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اس عدالتی ڈرامہ بازی پر ایک اچٹتی نگاہ دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد بنیادی طور پر دو ایف آئی آر کی بنیاد پر مقدمات قائم کیے گئے۔ ان میں سے ایک میں نامعلوم لوگوں پر بابری مسجد شہید کرنے کا الزام تھا۔ مجرم کے نامعلوم ہونے کا اعلان اگر پہلے سے کردیا جائے تو سزا دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس لیے بات ختم ہوگئی۔ دوسری ایف آئی آر ابتدا میں صرف آٹھ لوگوں کے خلاف تھی۔ اس میں بڑے حساب کتاب سے بی جے پی کے چار اور وی ایچ پی کے چار افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ بی جے پی کے لال کرشن ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی کے علاوہ بجرنگ دل کے صدر اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ ونئے کٹیار اِس میں شامل تھے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ یہ چاروں لوگ زندہ تو ہیں لیکن سب کے سب اقتدار سے محروم بلکہ رکن پارلیمان تک نہیں ہیں۔ اوما بھارتی بھی ایوان بالا میں ہیں مگر انہیں وزارت سے محروم کیا جاچکا ہے۔ فی الحال وہ کورونا سے متاثر چل رہی ہیں۔ وی ایچ پی کے جن چار لوگوں کو نامزد کیا گیا تھا ان میں سے صرف سادھوی رتھمبرا حیات ہیں باقی تین پرلوک سدھا چکے ہیں۔ اب جب فیصلہ آیا تو ملزموں نے رہائی کے فوراً بعد کمرہ عدالت سے باہر نکلتے ہی باآواز بلند یک طرفہ کارروائی کا اعتراف کیا۔ ملزم جے بھگوان گوئل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہنے لگا کہ ہندوؤں میں سخت غصہ تھا۔ ہر کار سیوک میں ہنومان جی سماگئے تھے، ہم نے مسجد توڑی تھی۔ اگر عدالت سے سزا ملتی تو ہم اسے خوشی سے قبول کرلیتے لیکن عدالت نے سزا نہیں دی۔ یہ ہندو مذہب کی فتح ہے، ہندو قوم کی جیت ہے۔ احاطہ عدالت سے باہر نکلتے ہی تمام ملزموں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور جے شری رام کے نعرے لگانے لگے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انتہا پسندوں کے سامنے بے بس بھارت کی عدالتوں اور ججز نے نظریہ ضرورت ایجاد کرلیا ہے۔ 


ای پیپر