مہنگائی
05 اکتوبر 2020 (13:43) 2020-10-05

قادر مطلق نے اس کائنات کے تمام وسائل انسانی دسترس میں دیتے ہوئے کوئی امتیاز نہیں برتا،اگر کالے کو معدنیات کی نعمت سے نوازا ہے تو گورے کو سر سبزوشاداب لہلاتے کھیت دیئے،اگر مسلم کوتیل کی دولت سے مالا مال ہے تو کافر کو سمندر کے خزانے دیئے،عدل پر مبنی خوبصورت جہاں کو کھڑا کر کے حضرت انسان کو بھی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں منصوبہ بندی کا درس دیا،یہی نہیں کیا بلکہ تمام مخلوقات کے رزق کا ساماں پیدا کیا اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ کوئی بھی چیز بے فائدہ پیدا نہیں کی،انسان کو شعور اور فہم عطا کیا اور اس یونیورس کو مسخر کر نے کی دعوت دی،زیر زمیں خزانوں کی نشاندہی کی،آسمان کی نئی دنیا کا علم دیا،مٹی، ہوا، پانی،آگ کے فائدے گنوائے، سمند ر کوتجارت کی راہ گزر بنایا، انسان کو سعی کرنے کی ترغیب دی۔

 انسانوں کے ایک گروہ نے عالمی وسائل کو اپنی قابلیت اور صلاحیت سے تعبیر کر کے دوسروں کو اس سے محروم کردیا،صرف یہی نہیں کیا بلکہ ان پر قبضہ کرنے کے لئے جنگ وجدل کا بازار گرم کیا،دنیا میں بد امنی پھیلا کر لوٹ کھسوٹ کی، اس کی کھوکھ سے غربت اور افلاس نے جنم لیا،آج کی اس مہذب دنیا میں بھی لاکھوں انسان دو وقت کی روٹی کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں، ایک بڑی تعداد کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہے، تاہم ان افراد کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے، جن کے پاس دولت کے انبار ہیں، جب تخلیق کائنات نے بلا امتیاز رنگ ونسل تمام وسائل انسانی دسترس میں دے کر عدل و انصاف کی اعلیٰ مثال قائم کی تو اس کے نائب کو بھی یہی وطیرہ اپنا کر دولت کی منصفانہ تقسیم کو روا رکھنا چاہئے تھا، والدین کے سامنے بھوک سے بلکتے بچے، افلاس کی بیماری کے ہاتھوں مرتے انسان، تعلیم سے محروم معاشرہ کے ا فراد کیا اپنی نالہ و فریاد لے کر خدا کے حضور حاضر نہ ہوں گے،اللہ تعالیٰ نے یوم حساب اسی لئے مقرر کر رکھا ہے کہ مقتدر طاقتوں اور افراد سے یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ تم نے کمزور اور لاچار انسانوں کو ان نعمتوں سے کیوں محروم رکھا جو اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے لئے فراہم کر رکھی تھیں،تمھیں کس نے اختیار دیا تھاکہ وسائل کی یوں بندر بانٹ کرو۔ ایک طرف کسی کو رہنے کے لئے چند گز زمین بھی میسر نہیں تو دوسری طرف لاکھوں ایکٹر اراضی پر محیط بر اعظم بے کارپڑے ہیں۔ کیا عالمی مالیاتی ادارے اس لئے وجود میں لا ئے گئے ہیں کہ وہ ترقی پذیر اور غریب ممالک کے عوام سے جینے کا حق چھین لیں؟ قانون خواہ عالمی ہی کیوں نہ ہو انسانی فلاح کے لئے بننا چاہئے تھا، یہ کسی  بڑے ساہو کار کا اگر سہولت کار ہے تو پھر ضابطہ کیسا؟

اپنی سرزمین کی ہی خبر لیجیے آپکو یہاں اللہ کی عطا کردہ بے شمار نعمتیں اردگرد پھیلی دکھائی دیں گی مگر لاچار انسانوں کا بھی شمار نہیں،جن کو دو وقت کی روٹی نے غلام بنا رکھا ہے حالانکہ خیبر سے کراچی تک، اور دیر سے گوادر تک آپکو ہرے بھرے کھیت کھلیان ملیں گے، گہرے سمندر، چٹیل میدان، طویل صحراء، بلند و بالا پہاڑ،فلک بوس چوٹیاں اور ان پر ڈھکی برف، گلیشیرز، طرح طرح کے پھل، موسم اسکی خاص کرم نوائی ہے جو اس قوم کا نصیب ہے یہ فطری تقسیم بطوررحمت کم ہی کسی کا مقدر بنی ہے۔

ہر سو بے تابی بتاتی ہے کہ کفران نعمت کیا گیا ہے،اسوقت عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے،ہر نیا دن ان کیلئے مشکل ہوتا جارہا ہے،عالمی ادارے اپنے ایجنڈا کی تکمیل کے لئے تمام تر دباؤ سرکار پر ڈال رہے ہیں جس کا نزلہ عوام پر گرنا لازمی امر ہے۔ ماں کا درجہ رکھتی  ہوئی ریاست کی شفقت سے بیچاری عوام کب تلک محروم رہے گی،اسکا کوئی پرسان حال نہیں ہے، اتنے وسائل رکھنے کے باوجود عوام کی عدم آسودگی بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے، آخر سماج کے محدود طبقہ ہی کو ساری مراعات کیوں میسر ہیں؟ دولت فطری قوانین کے برعکس چند ہاتھوں ہی میں کیوں مرتکز ہے، ہر حکومت کے بعد صرف مخصوص کلاس ہی کیوں مالی اعتبار سے خوشحال ہو جاتی ہے۔

مڈل کلاس میں مسلسل کمی آنا کسی بھی معاشرہ کے لئے اچھی علامت نہیں ہے، ہمارے مقتدر طبقہ کیا اس پر غور نہیں فرمائے گا؟ کہ ہم زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم، چینی باہر سے درآمد کیو ں کرواتے ہیں،اگر اسکو مافیا ہی کا کھیل سمجھ لیا جائے تو ان کے آگے سر نگوں سرکار پر کون ٹرسٹ کرے گا،تاریخ پر نگاہ رکھنے والے جب اعداو شمار سامنے رکھتے ہیں تو وہی چند معدودے افراد اور خاندان اس نوع کی سرگرمی شریک دکھائی دیتے ہیں جنہوں نے ہر سرکاری حکم کو ہوا میں اڑا کر عوام پر عرصہ حیات تنگ کئے رکھا ہے، ان پر ہاتھ نہ ڈالنے میں کون سی مصلحت کارفرما ہے،راوی اس بابت خاموش ہے، لیکن اس کے بڑے ہی مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں، سماج کی باصلاحیت کلاس اس ملک کو خیر آباد کہہ رہی ہے، بے روزگاری، مہنگائی نے جینا دو بھر کر دیا ہے۔ایک نئی ایلیٹ کلاس وجود آرہی ہے احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔

 جب ایک خوانچہ فروش ریاست کی رٹ کو چیلنج کر نے لگے تو اس سے کیا مطلب اخذ کیا جائے،اشیاء کے نرخ ناموں سے لے کر ناجائز تجاوازات تک سرکاری ہرکارے کو وہ جب خاطر ہی میں نہ لائے تو بھلا غیر ملکی سرمایہ دار کو یہ کیسے یقین دہانی کرائی جائے کہ یہاں قانون کی عمل داری بلا تفریق ہوتی ہے۔ 

عالمی معاشی گماشتوں کی کڑی شرائط اور مصنوعی مہنگائی کے درمیان سماج کا سفید پوش طبقہ، سرکاری ملازمین،دہاڑی دار ”سینڈوچ“ بن کے رہ گیا ہے، وہ کس کرب سے گذر رہا ہے اس کا اندازہ محلات میں بیٹھ کر نہیں کیا جا سکتا، بچوں کے روزگار سے لے کر انکی شادی کے معاملات  کی فکر نے عام شہری کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔

 مافیاز کے طاقتور ہونے اعتراف کے بعد ریلیف کس سے طلب کیا جائے،ان سے جو اپنی ذات کے سحر میں مبتلا ہو کر اولاد سمیت اس دھرتی کو داغ مفارقت دے کر باہر جا بسے، مفادات سمیٹ کر اچھی زندگانی کا خواب سجانے والے بھلا اب کیوں لوٹ کر آئیں گے جن کی ناقص پالیسیوں نے غربت کے دکھ کو اور بھی گہرا کر دیا ہے،معروف مفکر نوم چومسکی کہتے ہیں کہ ”غریب ملک“ نام کی دنیا میں کوئی چیز نہیں پائی جاتی،جب کوئی نظام، ملک کے وسائل کو صحیح استعمال کرنے میں ناکام ہو جائے اسی کو غربت کہتے ہیں۔

ایک طرف قدرتی وسائل سے مالا مال یہ پاک سر زمین دوسری طرف عوام کی مفلوک الحالی یہ پتہ دیتی ہے کہ ہم وسائل کے بہتر استعمال میں بری طرح ناکام رہے ہیں اس لئے غربت ہمارا مقدر قرار پائی ہے،باجود اس کے کہ قادر مطلق نے بھاری بھر نعمتیں عطا فرما کر ارباب اختیار کا کام آسان کر دیا تھا،مگر یہ اپنی حماقتوں کے بوجھ تلے دب گئے،کشکول کی روایت کو آگے بڑھاتے رہے،اپنی ہی نہیں قوم کی عزت کو بھی خاک میں ملا چکے ہیں،اس نے خودی اس سفر کو کھوٹھا کر کے رکھ دیا ہے،خود انحصاری منزل دور سے دور ہوتی جارہی ہے،اس کی بھاری قیمت ہمیں عالمی مطالبات کو مان کر ادا کرنا پڑ رہی ہے،انکا دخول اب اتنا بڑھ گیا ہے کہ سرکارمعاشی پالیساں مرتب کرنے اور ریلیف فراہم کرنے میں بے بس نظر آتی ہے، اپوزیشن سے نبردآزماء وزراء کرام کی فوج ظفر موج کب عوامی جذبات سے کپتان کو آگاہ کرے گی؟ 


ای پیپر