سی پیک پاکستان کو غربت سے نکال سکتا ہے؟
05 اکتوبر 2020 (13:36) 2020-10-05

چین پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پی ای سی) کے ساتھ منسلک سرگرمی میں حالیہ اضافے نے بہت سے نکتہ چینوں کو خاموش کر دیا ہے جو یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ عمران خان کی زیرقیادت حکومت بی آر آئی کے فلیگ شپ پروجیکٹ (بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو) پر عمل کرنے میں سنجیدہ نہیں کیونکہ ان میں اس ہائی پروفائل منصوبے کی ضروریات سے نمٹنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ بعض افراد کی رائے کے مطابق پاکستان کے بدعنوانی کے خلاف سخت پالیسی سے انحراف کے سبب چینی پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

گزشتہ دو سال سے آئی ایم ایف کی طرف سے عائد کفایت شعاری کے باعث، پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم ہو گیا۔ سی پیک پروجیکٹس کی سست رفتاری ان کی دوبارہ جانچ اور کووڈ19 کے سبب کام رک جانے کا نتیجہ تھی۔ انفراسٹرکچر، سماجی شعبے اور صنعتی زون کے کچھ منصوبوں کو سی پیک کے دوسرے مرحلے کے نام پر روکا گیا ہے۔

سی پیک منصوبہ دراصل 1950 کے اس تصور کی جد ید شکل ہے جس کے تحت 1960 کی دہائی کے دوران شاہراہ قراقرم کی تعمیر ہوئی، جو چین اور پاکستان کو ملانے والی سڑک ہے، پہاڑی علاقے کی جغرافیائی اور موسمی ساخت کو دیکھتے ہوئے یہ غیر معمولی کارنامہ تھا۔ سی پیک اپنی موجودہ شکل میں 2015 میں شروع کیا گیا تھا، صدر ژی جن پنگ اس کے محرک تھے۔ گوادر سی پیک کا آخری مقام ہے، اس کی ترقی کے لئے ایک ارب ڈالر کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔ 70,000 ٹن جہاز اور 2200 ایکڑ تجارتی رقبے کی گنجائش والی بندرگاہ 43 برس کی لیز پر چین کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اس میں شامل مینوفیکچرنگ اور لاجسٹک مراکز کو پاکستان نے ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

سی پیک کے معاملہ میں چین اور پاکستان کی پالیسی واضح ہے۔ چین یوریشیا، افریقہ اور اس سے بھی آگے کی تجارت کے لئے انفراسٹرکچر تیار کرنے کا خواہش مند ہے۔ امریکہ کی طرف سے تیل کی فراہمی میں خلل کے خدشہ کے سبب چین نے گوادر کے گہرے پانی کی قدرتی بندرگاہ کو مغربی چین سے ریل، سڑک اور پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے منسلک کیے جانے کا تصور پیش کیا۔ ٹرمپ کی چین دشمنی نے اس منصوبے کی رفتار کو جلا بخشی ہے۔ سی پیک پاکستان کے لئے، اپنے روایتی دوستوں کی مدد سے، اقتصادی اور معاشرتی بہتری کی امید ہے۔ پاکستانی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات میں گہرائی اور وسعت سے ملک کے خلاف ہندوستان کی سازشوں اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹا جا سکے گا۔

منصوبے کی ترقی اور اس پر عمل درآمد میں سب سے بڑا مسئلہ پاکستان کے وفاقی نظام کی وجہ سے پیدا ہوا، خاص طور پر اس کے بعد جب 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت بہت سارے اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیئے گئے تھے۔ اس نے مختلف وفاقی اکائیوں کے مابین کام کی رفتار اور عمل کی یکسانیت کو بری طرح متاثر کیا۔ اس مسئلے کو اب ایک خود مختار ’ سی پی ای سی اتھارٹی‘ بنا کر حل کیا گیا ہے تاکہ سی پک سے متعلقہ تمام سرگرمیوں کو مربوط اور منظم کیا جا سکے۔ پاک فوج بھی سی پیک پر عمل درآمد میں تیزی کی متمنی ہے۔

سی پیک کے معاملہ پر کسی بھی سیاسی جماعت میں دو رائے نہیں۔ چینی کمیونسٹ پارٹی اور متعدد پاکستانی سیاسی جماعتیں اس پر مکمل اتفاق رائے رکھتی ہیں۔ ہاں البتہ، اس کے تناظر میں مشاورت کی کمی اور مقامی لوگوں، خاص طور پر بلوچستان میں ممکنہ فوائد کی غیر منصفانہ تقسیم پر کچھ تحفظات بہر حال موجود ہیں۔ اگرچہ سی پیک کے ثمرات کو مکمل طور پر سمیٹنے میں برسوں لگ سکتے ہیں لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان حکومت نے تحفظات کو سننے اور ان کی تائید کے بجائے مقامی برادریوں کو ڈرا دھمکا کر جواب دیا ہے۔

سی پیک کا ایک اہم جز پاکستان اور چین سرحد پر گوادر سے خنجراب تک 1250 کلومیٹر طویل ریلوے لائن (ایم ون) بچھانا اور برطانوی دور کے 872 کلومیٹر کراچی پشاور ٹریک کو جدید بنانا ہے۔ یہ لائنیں مکمل ہونے پر ریلوے بلوچستان کے کچھ کم ترقی یافتہ اضلاع کو قومی معیشت کے دھارے میں لا سکے گا۔ ان ریلوے لائنوں پر صنعتی زون بننے سے روزگار پیدا ہو گا اور ترقی میں مدد ملے گی۔

چین اور تیل پیدا کرنے والے ممالک گوادر بندرگاہ، اس کی پائپ لائنز، ریل اور روڈ نیٹ ورک مکمل ہونے پر اس سے کلی طور پر مستفید ہو پائیں گے۔ ان وسائل کو براہ راست چین پہنچانا اور خلیجی منڈیوں اور اس سے آگے کے لیے اپنے سامان کی برآمد چین کا بنیادی مقصد ہے۔

چند ایک مغربی تجزیہ کار پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں چین کی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو قرض کے جال کا نام دیتے ہیں۔ پاکستان کے لئے زیادہ تر چینی رقم گرانٹ اور مراعاتی قرضوں کی شکل میں ہے جن کی ادائیگی میں لچک کی سہولت موجود ہے۔ اب چیلنج یہ ہے کہ پاکستان اپنے انتظامی معاملات کو آسان بنانے، بدعنوانی کے خاتمے، معاشرتی اصولوں میں بہتری اور کے ذریعے اس موقع سے کیسے اور کتنے فوائد کشید کرتا ہے۔ یو این ڈی پی کے مطابق سی پیک 15 سے 29 سال کی عمر کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی رکھنے والے ملک پاکستان کے لیے غربت سے نکلنے کا سنہری موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

بشکریہ: گلف نیوز


ای پیپر