چیف جسٹس کی حق بات اور 26 ماہ کی کارکردگی
05 اکتوبر 2020 (13:23) 2020-10-05

2018ء کے الیکشن سے قبل کپتان نے کئی نعرے دئیے‘ پولیس کو غیر سیاسی کرنے اور پولیس کلچر میں تبدیلی کے عہد و پیمان کئے‘ پچاس لاکھ گھروں اور ایک کروڑ نوکریوں کے لالی پاپ دئیے تو سیاست کے پُرانے پردھانوں اور صحافت کے سیانوں نے کہا تھا کہ کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں سے بھی ”اُوکھا“ کام اپنی پولیس کو سیاست سے پاک کرنا ہے۔ ”شوباز“ نے پولیس کی وردی تبدیل کر کے تبدیلی دی اور کپتان نے چھبیس ماہ میں چھ آئی جی بدل کر تبدیلی دی بلکہ ایسا ریکارڈ قائم کیا اور ”تبدیلا“ دیا کہ نہ بولنے والے بھی بول اُٹھے۔ ملک کا سب سے بڑا قاضی بھی بول پڑا اور حق بات بیان کر دی۔ عدلیہ ”ایویں“ ہی نہیں بولتی جب ظلم حد سے بڑھنے لگے تبھی بولتی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے موٹروے پر خاتون سے زیادتی کے واقعہ کو شرمناک قرار دیتے ہوئے بالکل بجا کہا کہ پنجاب پولیس میں ہونے والے تبادلے سیاسی مداخلت کی علامت ہے‘ حکومت ہوش کے ناخن لے۔ پولیس کے سیاسی ہونے سے ملک میں لوگوں کے جان و مال محفوظ نہیں رہے‘ ہائی وے پر بھی معصوم مسافروں کی زندگیاں محفوظ نہیں رہیں۔ گذشتہ دنوں ایک تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس نے صد فیصد درست کہا کہ ”سیاسی مداخلت سے کوئی بھی پولیس فورس پروفیشنل طور پر اپنا کام نہیں کر سکتی‘ حکومت ساکھ بحال کرے اور سیاسی مداخلت کو روکے“۔ عوام خاص و عام تمام‘ ہم سب اپنے 

معزز چیف جسٹس کی دل سے تکریم کرتے ہیں احترام کرتے ہیں لیکن بصد ادب و عاجزی عرض ہے کہ جب سیاسی مداخلت کو روکنے والے خود سیاسی مداخلت فرما رہے ہوں گے تب کیا ہوگا؟ زینب پہ ظلم‘ سانحہ ساہیوال اور موٹر وے ایسے واقعات ہی سامنے آئیں گے۔  

اس نئے پاکستان میں تبدیلی سرکار کی دو ماہ و دو سالہ کارکردگی یہ ہے کہ 2018 ؁ء میں آٹے کی قیمت 20 کلو 771 روپے‘ آج 1010 روپے سے بھی زیادہ ہے‘ چینی فی کلو 56 روپے آج 85 روپے‘ گھی 150 روپے تھا آج 245 روپے‘ دودھ فی لیٹر 85 روپے تھا آج 110 روپے لیٹر ہے۔ 2018 ؁ء میں آلو فی کلو 33 روپے تھے آج 62 روپے‘ ٹماٹر فی کلو 65 روپے تھے آج 80 روپے، دال ماش 146 روپے فی کلو تھی آج 242 روپے ہے‘ 2018 ؁ء میں دال مونگ113 روپے فی کلو تھی‘ آج 2020 ؁ء میں 248 روپے فی کلو ہے اور اسی طرح دیگر چیزوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی میں اضافے سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ معاشی بحران‘ غربت بھوک بے روزگاری اس دو سالہ عہدِ عمرانی اور کپتان کی پہچان بن گئی ہے اور اب کہیں سے بھی یہ صدا بلند نہیں ہو رہی کہ کون بچائے گا پاکستان‘ عمران خان عمران خان۔ کپتان کی خدمت میں عرض ہے کہ اس قوم نے آپ سے ایک آس باندھ رکھی تھی بڑی ہی اُمیدیں تھیں اور توقعات وابستہ کر رکھیں تھیں کہ آپ شریفوں کی طرح نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں قرضے اتاریں گے اور اس ملک کو سنواریں گے لیکن صد افسوس کہ نظریاتی لوگوں کو بھلا دیا گیا اور کپتان نے سارے فصلی بٹیروں اور لٹیروں کو جمع کر کے اپنی تحریک انصاف کو پی ٹی آئی میں تبدیل کر لیا اور پھر آگئی ”تبدیلی“ 2011 ؁ء میں اس پی ٹی آئی کو ”پَر“ لگے تو آج اُونچی ہواؤں میں اُڑ رہی ہے۔ اور اب اگر ہم بات کریں قرضوں کی تو اس حوالے سے بھی ہمارا کپتان کسی سے کم نہیں ہے۔ دھوم دھڑلے سے قرضے لیے جا رہے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کی دستاویزات کے مطابق پیارے پاکستان پر مجموعی قرضوں کا بوجھ 36300 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے اور پچھلے دو سالوں میں قرضوں میں 11300 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2017-18 ؁ء میں پاکستان کے مجموعی قرضے 25000 ارب روپے تھے۔ ان دو سالوں میں پاکستان کے بیرونی قرضوں میں 4600 ارب روپے اضافہ ہوا جبکہ مقامی قرضوں میں 6800 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے اور خبر یہ بھی ہے کہ حکومت مزید قرضے لینے کیلئے بھی ہاتھ پاؤں مار رہی ہے‘ آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے۔ سوچنا یہ ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہوگا؟ خدارا خدا کا خوف کرو اب معاف کر دو میرے پاکستان و اہلِ پاکستان کو‘ کل کو کیسے واپس کریں گے یہ بھاری قرضے‘ ہم کب تک IMF‘ عالمی بینکوں کے بھاری سودی قرض کے شکنجوں میں کَسے رہیں گے۔ کب بدلیں گے حالات ختم ہو گی تاریک رات اور نئی صبح کا آغاز ہو گاآخر کب۔۔؟


ای پیپر