کسی کو ہماری فکر بھی ہے؟
05 اکتوبر 2020 2020-10-05

دل بہت کڑھتا ہے کہ آخر ہمارے ہاں ایسی کیا خرابی ہے کہ سیاسی استحکام نام کی چیز پچھلے 73 سالوں سے ناپید ہے۔ غور کریں مسلسل انتشار، اکھاڑ پچھاڑ اور عد م استحکام کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ سلسلہ آج بھی نہ صرف جاری ہے بلکہ اپنے عروج پر ہے۔ غضب خدا کا ، ہم اسی مار دھاڑ میں آدھا ملک بھی گنوا بیٹھے ہیں لیکن اپنی نالائقی اور کوتاہیوں سے کچھ سیکھنے اور اپنا چلن تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں۔ اخبارات پر نظر ڈالیں یا ٹی ۔وی کی سکرین پر، ایک ہنگامہ نظر آتا ہے۔ دن طلوع ہوتے ہی الزامات ، بیانات، پریس کانفرنسوں اور توتکار کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو شام تک جاری رہتا ہے۔ پھر ٹاک شوز کا تماشا لگتا ہے اور لڑائی جھگڑے کا ایک اور میدان سج جاتا ہے، جو رات گئے تک سجا رہتا ہے۔آج کل نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایک دوسرے کی حب الوطنی کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ غدار کے القابات بانٹے جا رہے ہیں اور کردار کشی کا ایسا کھیل جاری ہے جس کی ماضی قریب میں بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔اگرچہ تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو غداری کا الزام لگانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس ملک میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو بھی غدار کہا جاتا رہا۔ انہیں بھارتی اور امریکی ایجنٹ قرار دیا گیا تھا۔ 

آج کل سیاسی ہنگامہ آرائی اپنے عروج پر ہے۔ یہ سب کچھ ان حالات میں نہیں ہو رہا کہ ہم نے اپنے بنیادی مسائل پر قابو پا لیا ہے اور چونکہ کوئی سنگین مسئلہ باقی نہیں رہا اس لئے فراغت کے ماحول میں ہم یہ کھیل کھیلنے میں لگے ہیں۔ اس کے برعکس ملک بے پناہ مسائل میں گھرا ہے۔ محاورتا نہیں واقعتا عام آدمی کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل تر ہو گیا ہے۔ لوگ مسلسل غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے ہیں۔ مہنگائی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ بے روزگاری نے ایک سیلاب کی شکل اختیار کر لی ہے۔ معیشت بدتریں صورتحا ل سے دوچار ہے۔ بار بار یہ تلخ (مگر سچ) بات دہرانا پڑتی ہے کہ محض دو برس کے عرصہ میں ہمارا روپیہ نہ صرف بھارت بلکہ بنگلہ دیش، نیپال اور افغانستان کی کرنسی سے بھی نیچے گر چکا ہے۔ ترقی کی شرح منفی ہو گئی ہے۔ بھارت نے کشمیر ہڑپ کرنے کا وہ ایجنڈا مکمل کر لیا ہے جس کی اسے کبھی جرات نہ ہوئی تھی۔ دنیا میں کوئی ہماری بات سننے اور اس پر یقین کرنے پر آمادہ نہیں۔ ہمارا ساتھ دینے والے ممالک کی تعداد سکڑتی جا رہی ہے۔ ہمارے دوستوں کی گرم جوشی میں کمی آ رہی ہے۔ فاٹف کی ننگی تلوار ہمارے سر پر لٹک رہی ہے اور کچھ پتہ نہیں کہ ہم گرے سے نکل کر وائٹ لسٹ میں آتے ہیں یا " ترقی" پا کر بلیک لسٹ میں جاتے ہیں یا پھر گرے لسٹ میں ہی پڑے رہتے ہیں۔ قرضوں کا بوجھ انتہائی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور خزانہ اس تیزی سے بھر نہیں پا رہا۔

ان مسائل میں مبتلا ملک کی حکومت کی ترجیح کیا ہونی چاہیے؟ اور ان مسائل میں مبتلا اپوزیشن کو کس قدر ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے؟ یہ سوال عوام کے سامنے ہے جو حیرت اور افسردگی سے یہ سارا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ دکھ اس لئے بھی ہے کہ ہم نے ایٹم بم تو بنا لیا لیکن ہماری اجتماعی قومی دانش ابھی تک اس سوال کا جواب نہ تلاش کر سکی کہ آخر ایسی کیا بیماری ہے جو ہمیں سنبھلنے، سنجیدہ عمل اختیار کرنے اور ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے سے روک رہی ہے۔ بلکہ یہ کہنا ذیادہ مناسب ہے کہ آگے بڑھنے کے بجائے ہم نے ریورس گیئر لگا رکھا ہے۔دن بدن پیچھے کی طرف لڑھک رہے ہیں۔ بھارت کو ہم اپنا دشمن خیال کرتے ہیں اور اس میں کوئی شک بھی نہیں۔ برہمنی سامراج نے آج تک ہمارے وجود کو تسلیم نہیں کیا اور مسلسل ہمارے خلاف سازشوں میں لگا رہتا ہے۔ لیکن اپنی بربادی اور اس انتشار کا ذکر کرتے ہوئے بھارت کی مثال دینا اس لئے ناگزیر ہے کہ وہ بھی ہمارے ساتھ انگریز کی غلامی سے نکلا۔ کیا وجہ ہے کہ انسانی حقوق اور رویوں سے قطع نظر، ایک جمہوری نظام کی حد تک وہ طے شدہ آئینی اور قانونی راستے پر چل رہا ہے۔ اس نے آزادی کے فورا بعد اپنا آئین بھی بنا لیا۔ہمیں 26 سال ٹھوکریں کھانے اور آدھا ملک گنوانے کے بعد 1973 میں یہ توفیق ہوئی۔ اس آئین بنانے والے وزیر اعظم کو بھی یہاں پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ بھارت نے پہلے جمہوری انتخابات صرف چار سال بعد 1951 میں کرا لئے۔ہمیں 1970 تک انتظار کرنا پڑا۔ اور یہ انتخابات پاکستان کے دو لخت ہونے کا سبب بن گئے۔ 

میں نے ابھی ابھی بھارت کے 2019 ، یعنی گزشتہ انتخابات کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی ہے۔ لوک سبھا کی 543 نشستوں کے لئے سات مرحلوں پر مشتمل انتخابی عمل تقریبا ڈیڑھ ماہ جاری رہا۔ 91 کروڑ سے زائد ووٹروں میں 60 کروڑ سے زائد نے ووٹ ڈالے۔ یہ شرح 67.40 فیصد بنتی ہے۔ دس لاکھ سے ذیادہ پولنگ سٹیشنوں پر تقریبا چالیس لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں استعمال کی گئیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہاں نہ الیکشن کمیشن پہ کوئی جھگڑا ہوا، نہ کوئی لولی لنگڑی نگران حکومت بنی، نہ فوج کو ملوث کیا گیا۔ مودی کی حکومت برقرار رہی۔ اس نے الیکشن کرائے اور جب 23 مئی کو حتمی نتائج کا اعلان ہوا تو کوئی طوفان نہ اٹھا۔ بر سر اقتدار جماعت جیت گئی ا ور کہیں سے " دھاندلی" کا آتش فشاں نہ پھوٹا۔

 بھارت بڑے تسلسل کیساتھ 73 برس میں 17 انتخابات کراچکا ہے۔ ہمارے ہاں یہ سلسلہ 1970 سے شروع ہوا۔ بیس برس تو فوجی حکومتیں رہیں۔ باقی تیس سالوں میں ہم نو انتخابات کرا چکے ہیں۔ یعنی اوسطا تقریا ہر تین سال بعد۔ حاصل وصول یہ کہ پہلے الیکشن کے نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا۔ دوسرے انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کو پہلا متفقہ آئین دینے اور ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے والے ذولفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ غیر جانبدار نگران حکومتوں کے باوجود تمام انتخابات متنازعہ رہے اور فساد ہوتا رہا۔2018 میں ہم نے ملکی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات کروائے ، اسکے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ 

آج پھر ہم انتخابات ہی کی غیر جانبداری کے حوالے سے ایک دوسرے کے گریبان پر ہاتھ ڈال رہے ہیں۔ الزامات کا ایک طوفان بپا ہے۔ ایسے میں بے پناہ مسائل میں گھرے ملک کے خستہ حال عوام سوچ رہے ہیں کہ کیا کسی کو ہماری فکر بھی ہے؟


ای پیپر