جنگ حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہوگی: مولانا فضل الرحمن
05 اکتوبر 2019 (17:08) 2019-10-05

پشاور:جمعیت علما اسلام(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نا اہل اور ناجائز حکومت کا جانا ٹھہر گیاہے اور اب یہ جنگ حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہوگی ، پورا ملک جنگ کا میدان ہوگا، اسلام آباد پہلا پڑا ئوہوگا، بی اور سی پلان کی طرف بھی جائیں گے، انسانی سیلاب سے حکمران تنکے کی طرح بہہ جائیں گے،اداروں سے کہنا چاہتا ہوں ناجائز حکومت کی پشت پناہی کرنا بند کریں۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مدارس میں انعامات تقسیم کرکے عمران خان کو کوئی پذیرائی نہیں ملے گی،جن کے دھرنوں میں شیر خوار بچوں کو لایا گیا وہ مدارس کے بچوں کی بات کرتے ہیں، حکومت کا مدارس والا کارڈ فیل ہوچکا اور ہمارے مدارس حکومت کا اثر نہیں لے رہے، مدرسوں کا معاملہ اٹھا کر حکومت بین الاقوامی حمایت لینا چاہتی ہے، مدارس کے طلبہ میں انعامات تقسیم کرکے ہمیں کائونٹرکرنیکی کوشش کی، احتجاج میں مدارس کے طلبہ کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب ملک معاشی لحاظ سے ڈوبتا ہے تو یہی جغرافیائی تبدیلیوں کا سبب بنتا ہے ۔ اس وقت ملک کی بقاء اور ملک کا وجود رسک پر ہے۔ہم نے عا م عادمی کی آواز بننا ہے، ہر پاکستانی کی آواز بننا ہے اور اس کے کرب میں اس کا ترجمان بننا ہے۔بین الاقوامی سطح پر ایٹمی جنگ کی بات کر کے جعلی حکمران نے پاکستان کو بین الاقوا می کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے ، جنگ کی دھمکیوں پہ آنا یہ سفارتی ناکامی کا اعتراف ہوا کرتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دھرنے کا لفظ چھوڑ دیں یہ آزادی مارچ ہے، ہم 27 اکتوبر سے آزادی مارچ کاآغاز کریں گے جوجاری رہے گا، اسلام آباد ہمارا پہلا پڑائو ہو گا اور اس کے ساتھ ہم بی اور سی پلان کی طرف بھی جائیں گے ، ہماری حکمت عملی میں جمود نہیں ہو گا۔ ہم صورتحال سے نمٹنے کے لئے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے رہیں گے ،لیکن پورے ملک سے انسانوں کا ایک سیلاب آرہا ہے اور جعلی حکمران اس میں ایک تنکے کی طرح بہہ جائیں گے۔ اب ملک میں کوئی حکومت موجود نہیں ہے۔ ہم اب بھی کہنا چاہتے ہیں کہ اقتدار چھوڑ کر ازسر نوالیکشن کرائے جائیں اور قوم کو حق دیا جائے کہ وہ اپنے حقیقی ووٹ سے ایک جائز حکومت تشکیل دے سکیں۔


ای پیپر