پیغمبر ِ اَمنﷺ
05 نومبر 2020 (08:50) 2020-11-05

پیغمبر ِ رحمتؐ جس دین کا پیغام لائے‘ وہ سراسر اَمن اور سلامتی سے متصف ہے۔ لفظ اسلام  کے لغوی معنی ہی سلامتی کے ہیں۔ لفظ سے معانی کا سفر ‘عمل کا سفر ہے۔ سفر راست سمت میں ہو تو راست معانی تک پہنچاتا ہے۔ سفر ‘ سفرِ معکوس بن جائے تو علم کی جگہ بدعلمی اور عمل ِ راست کی جگہ عملِ زشت پرورش پاتا ہے۔

اسلام میں سلام greeting  "السلامْ علیکم" ہے، یعنی" تم پر سلامتی ہو" حکم ہے کہ سلام کرو ‘ہر شخص کو سلام کہو ‘ خواہ تم اسے جانتے ہو ‘یا نہیں جانتے۔ گویا اپنا ہو‘ یا غیر ، سب کے لیے یکساں امن اور سلامتی کا پیغام پہنچانا مقصود ہے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے۔ دین کا معنی راستہ ہے، یعنی اسلام کے راستے پر چلنے والا امن اور سلامتی کے راستے پر چلتا ہے۔ مرشدی واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ اسلام کا مطلب ہے PECA WITHIN AND PEACE WITHOU،گویا ایک مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ وہ ظاہر و باطن میں سلامتی کاپیکر ہوتا ہے۔جب تک  باطن سلامت نہ ہو‘ ظاہر میں سلامتی محال ہے۔ باطن بے ترتیب ہو تو ظاہر بھی بے ربط ہو جاتا ہے۔ زندگی ہو یا کائنات‘ اس کا حسن ‘ حسنِ ترتیب میں ہے۔ زندگی کا قیام ہی عناصر میں ظہورِ ترتیب پر موقوف ہے۔ شریعت کی شاہراہ پر چلنے سے ظاہر اور باطن دونوں میں ربط بیک وقت استوار ہوتا ہے۔ اگر ہم آج دیکھتے ہیں کہ لوگ ظاہر میں عبادت گاہوں کا رخ کر رہے ہیں لیکن ان کی زندگی کے ظاہر و باطن بے ترتیب نظر آ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے عبادت کو ظاہری رسم و رواج تک محدود سمجھ لیا ہے۔ عبادت کی روح اخلاص ہے۔ اخلاص سے عاری عبادت عادت ہے۔ عادت اور سعادت میں فرق ہوتا ہے۔

انسانیت امن اور سلامتی کی تلاش میں ہے ۔ ہر سلیم الفطرت انسان ایک  ایسے کلیے کی تلاش میں ہے‘ جو تمام نوعِ انسانی کو ایک  وحدت کی لڑی میں پرو  دے، فساد فی الارض ختم ہو جائے ، ظلم و زیادتی کا خاتمہ ہو جائے اور ہر انسانوں کے لیے یکساں مواقع میسرآ جائیں۔ انسانیت حصول ِ انصاف کے لیے کوشاں ہے۔ دین ِ اسلام نے ایک قدم آگے بڑھ کر عدل کا سبق دیا اور پھر اس سے بھی دو قدم آگے احسان کا نصاب مرتب کر دیا۔ فرمایا کہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرو ‘ جو خود اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ انصاف صرف ظلم کا مداوا ہے۔ شکوہ شکایت انصاف کے بعد بھی قائم رہ جاتا ہے، جب مساوات کی آڑ میں غیر حقیقی تقسیم اور چھینا چھپٹی شروع ہو جاتی ہے۔ سب کو ایک روٹی مہیا کر دینا مجھ ایسے منحنی شخص کے لیے تو شایدخوش آئند ہو لیکن ایک لحیم شحیم شخص کے لیے سراسر شکایت کا موقع ہے کہ اس کے شکم کی آگ چار روٹیوں سے بجھتی ہے۔ اسلام عدل کا پیغام لے کر آتا ہے۔ عدل سے مراد ہے کہ ہر چیز کو اس کے درست مقام پر رکھا جائے۔  انسانی عقل انصاف سے بڑھ کر کوئی تصفیہ نہیں کر سکتی۔ الہامی دین عدل اور پھر احسان کا پیغام دے رہا ہے۔ سورۃ نساء میں ہے ‘بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کر دو، اور لوگوں  کے درمیا ن عدل سے فیصلہ کرو۔ سب اختیارات و مناصب بمنزلہ امانت ہیں، انہیں ان کے اہل تک پہنچانا ہی عدل کا تقاضا ہے۔ اسلام دین ِ فطرت ہے اور دینِ فطرت میں’’ ہر مال دو آنے‘‘ نہیں بکتا۔ یہی وجہ  ہے کہ جمہوریت اپنی تمام تر پسندیدگیوں کے باوجود روحِ اسلام سے دُور ہے۔ ہر چند کہ جمہوریت شخصی آمریت کا تریاق ہے لیکن شخصی علم و ہنر اور دانش کی قاتل بھی یہی جمہوریت ہے۔ اسلام جس شورائی نظام کا تقاضا کرتا ہے‘ وہ جمہوریت اور ٹیکنو کریسی کا کوئی امتزاج ہو سکتا ہے۔ نااہل کے سپرد گاڑی کاا سٹیرنگ دینا تمام مسافروں کی جان خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے ، خواہ اس ڈرائیور کاانتخاب ‘ مسافروں کی اکثریتی رائے کے مطابق ہی 

کیوں نہ طے پایا ہو۔ اکثریت دانائی منتخب نہیں کر سکتی۔ جمہوریت اکثر اوقات اکثریت کی آمریت بن جاتی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج کل ہر ملک کے سیاستدان  اپنی انتخابی مہم میں رنگ ، نسل اور مسلک کے تعصب کو ہوا دے کر ووٹ لیتے ہیں اور برسرِ اقتدار آکر عالمی امن کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ جذبات کو مشتعل کر کے عوام الناس کے جلوس پر سوار ہو کر منصب تک پہنچنے والے اپنے راستے میں آنے والے کتنے ہی اہل اور منصف مزاج کرداروں کا خون کرتے ہیں۔ 

اسلام کا اصل پیغام سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا۔ سیاست نے اسلام کو توانا کرنے کی بجائے اسلام کو استعمال کیا او رکمزور کیا، لوگوں کی عقیدتوں کا استحصال کیا، مسجدوں ، مدرسوں اور خانقاہوں کو وقتی فایدے کے لیے سیاسی نعروں سے آلودہ کر دیا گیا۔ جو کچھ آج ہو رہا ہے‘ کم و بیش یہی کچھ ہم تاریخ میں بھی دیکھتے ہیں۔ بادشاہوں نے اپنی کشور کشائی کو اسلام کی خدمت کا عنوان دیا، ملوکیت نے اپنی ہر مہمات میں سرکاری مفتیوں کے ساتھ ساتھ سرکاری مؤرخین کی فوج ظفر موج بھی اپنے ہمراہ رکھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم مسلمان بادشاہوں کی تاریخ کو اسلام کی تاریخ سمجھ کر پڑھتے رہے۔ 

بے لاگ تاریخ کھنگال کر دیکھ لیں ، دَورِ نبویؐ میں ساری جنگیں سراسر دفاعی نوعیت کی جنگیں تھیں۔ کفا ر پانچ سو کلومیڑ کا فاصلہ طے کرکے مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوتے رہے، مدینے سے مکہ کی جانب کوئی لشکرکشی نہیں کی گئی۔ جارحیت جب بھی ہوئی کفار کی طرف سے ہوئی۔ مکہ کی جانب مسلمانوں کا ایک سفر حدیبیہ تک محدود رہا  اور یوں یہ’’مہم‘‘ صلح پر منتج ہوئی، دوسری’’مہم‘‘ بغیر شمشیر زنی کے‘فتح مکہ کی صورت میں پایہ تکمیل تک پہنچی۔ تاریخ ِ عالم میں یہ فتح اپنی نوعیت کی عجیب فتح تھی، فاتح ِ اعظمؐ نے علاقہ فتح کرنے سے پہلے قلوب فتح کر لیے تھے۔ کسی سپاہی نے شمشیر کا کوئی ہنر نہ دکھایا، فاتح فوج مفتوحہ علاقے میں کسی ایک مکان پر قبضہ کیے بغیر واپس ہو گئی۔ ان میں بہت سے اصحاب ایسے تھے جن کے مکانوں پر کفار قبضہ کر چکے تھے، ان کا حق تھا کہ اپنے گھروں کو واپس اپنے قبضے میں لیتے، لیکن رحمتِ عالمؐ نے فرمایا کہ جب تم نے ہجرت اللہ کی رضا کے لیے کی اور اپنے مال و اسباب کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیا تو مناسب نہیں کہ تم انہیں واپس اپنے قبضے میں لو۔ اسلامی فوج کے کسی کمانڈر کو اجازت نہ تھی کہ مکہ میں داخل ہوتے ہوئے رزمیہ ، رجزیہ اور فخریہ اشعار پڑھے ( جو اُس دور کی روایت بھی تھی اور مظلوم مہاجرین کے دل کی آواز بھی)۔ ایک صحابی کہ جن کے ہاتھ میں ایک دستے کا علم تھا ‘ انہوں نے جوشِ جذبات میں آکر ایسے اشعار پڑھے تو پیغمبر ِ امنؐ نے اس کماندار کے ہاتھ سے علم لے لیا۔ کسی  خاندان اور قبیلے کے ہاتھ سے علم واپس لے لینا ایک معزولی اور بے عزتی تصور ہوتی تھی… کمال ہے‘ اور سلام ہے ‘اْس دِل جوڑنے والے پیغمبر ِ امنؐ کے لیے… تادیبی کاروائی کے لیے علم لیا، لیکن تالیف ِ قلب کا فوری بندوبست کرتے ہوئے‘علم اُسی صحابی کے بیٹے کے سپرد کر دیا، کہ گھر کی عزت گھر میں رہے۔ سبحان اللہ!! دنیا کہاں سے مثال لائے گی، فتوحات کی دنیا میں ایسے سالارِ اعظمؐ کے حُسن و کمال کی!!   پیغمبر ِ حکمتؐکے دریائے رحمت و حکمت سے دانا لوگ قیامت تک اپنی چھاگلیں بھرتے رہیں گے۔سبحان اللہ!!  ما اجملک ما احسنک!! 

سلامتی کے دین میں‘ حکم دیا جاتا ہے کہ دشمن کے ساتھ جنگ کی تمنا نہ کرو اور جنگ میں کبھی پہل نہ کرو‘ لیکن اگر جنگ مسلط کر دی جائے تو خوب بہادری سے لڑو۔ دین ِ فطرت میں جنگ کے امکان کو ردّ نہیں کیا جاتا بلکہ جنگ کی ترتیب، اصول اور آداب بتلائے جاتے ہیں۔ دین ِ فطرت میں’محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے‘ نہیں بتایا جاتا بلکہ جو حالت ِ امن میں غلط ہے‘ عین حالت ِ جنگ میں بھی غلط قرار دیا جاتا ہے۔ اسلام کا اصول ہے کہ درست منزل تک پہنچنے کے لیے غلط راستے کے انتخاب کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اصولِ جنگ ہے کہ دشمنوں کے لیے اپنے گھوڑے تیار رکھو۔ امن کے لیے طاقت ایک  deterrence کی حیثیت رکھتی ہے۔ امن پسند اگر طاقت میں مضبوط ہوگا تو امن کا قیام ممکن بنا سکے گا۔ جنگ کے دوران میں مجاہدوں کے لیے راہنما اصول مقرر کر دیے جاتے ہیں کہ… درخت نہیں کاٹے جائیں گے، کھیتوں اور کھلیانوں کا آگ نہیں لگائی  جائے گی، بچوں بوڑھوں اور عورتوں پر ہاتھ نہیں اٹھایا جائے گا، مقابل قوم کی عبادت گاہوں کو مسمار نہیں کیا جائے گا، بلکہ جو شخص اپنی عبادت گاہوں میں پناہ لے گا‘ اسے پناہ دے دی گی جائے، راہبوں سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا ، یہاں تک کہ جو شخص اپنے گھر میں گھس کر دروازہ بند کر لے ‘ اسے بھی امان دی جائے گی۔ سبحان اللہ! یہ اصول عین حالت ِ دراصل قیامِ امن کے اصول ہیں۔ مظلوموں کو ظالم قوتوں کی جارحیت سے بچانا ‘ اہلِ اسلام کا منصب ہے۔ اور اس منصب کے قیام کے لیے طاقت کا ہونا اشدضروری ہے، یعنی اہل ِ اسلام کی طاقت مظلوموں کے تحفظ کے لیے ہے ‘ ظلم وجارحیت کے لیے!! 

آج نوعِ انسانی عدل و انصاف کے لیے جس پلیٹ فارم تک پہنچی ہے ‘ وہ اقوامِ متحدہ ہے ، لیکن افسوس یہاں عدل تو دُْور کی بات‘ انصاف کی بات کرنا بھی ممکن نہیں رہی ، کہ کچھ قوموں کو ویٹو پاور دے کے’انصاف سب کے لیے‘ عملی طور ممکن نہیں رہا۔ آج 


ای پیپر