یہ جنگ بند نہیں ہوسکتی؟! 
05 نومبر 2020 2020-11-05

عیدمیلادالنبی کے موقع پر کچھ واقعات پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویداروں کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں، اور یہ عرض کرنا چاہتا ہوں ”ریاست مدینہ“ زبانی کلامی نہیں بن سکتی، اِس کے لیے واقعی کوئی مخلص ہے اُسے اسوہ حسنہ پر چلنا ہوگا “....مغرب نے مختلف ممالک پر قبضہ کرکے اُن کے ظاہری و باطنی وسائل کا استحصال کیا، اُن کے باشندوں کو غلام بنایا اوروہاں اپنی آبادیاں قائم کرلیں، اِس مقصد کے لیے جنگیں لڑی گئیں، ایسی خون ریزی ہوئی تاریخ میں جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، جنگ بلقان، پہلی اور دوسری جنگ عظیم اور صومالیہ وخلیجی ممالک پر قبضے کے پیچھے یہی محرک کار فرما تھے، جبکہ دوسری طرف اسلام میں جنگ فکری واعتقادی آزادی اور انسان معراج کو کھولنے کے عظیم اہداف کے حصول کے لیے لڑی جاتی ہے، اِس کے باوجود حسبِ ضرورت صلح کے پہلوﺅں کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جاتا کیونکہ اصل اہمیت صلح کو حاصل ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اِس کی طرف مائل ہو جاﺅ اور خدا پر بھروسہ رکھو، کچھ شک نہیں وہ سب کچھ سنتا ہے اور جانتا ہے“ .... یہ آیت جس کا ترجمہ میں نے پیش کیا مسلمانوں کو صلح کی دعوت دیتی ہے اور اگر مسلمان حالتِ جنگ میں ہوں تو اُ نہیں میانہ روی اور ثابت قدمی کی طرف بلاتی ہے، دیگر نظام ہائے حیات میں جنگ وحشی پن اور بربریت کا مظہر ہوتی ہے، اُن کے ہاں توصلح کازمانہ بھی جنگ کے زمانے سے مختلف نہیں ہوتا، اِن شیطانی نظاموں کا نام چاہے کچھ بھی ہو اِن کا مقصد انسانیت کو گمراہ کرنا اور بدامنی وفتنوں کی آگ بھڑکانا ہے .... آج پاکستان میں ایسی کوئی جنگ نہیں ہورہی، صرف ذاتیات کی جنگ ہورہی ہے، ایک ایسی آگ لگی ہے سب کچھ جل کر راکھ ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے، اِس آگ کو بجھانے کی سب سے بڑی ذمہ داری اُن پر عائد ہوتی ہے جو بار بار پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی بات کرتے ہیں، محض ذاتی مفادات اور اقتداری مفادات کی خاطر ایک دوسرے کے دست وگریباں ہیں، حالت یہ ہے امریکہ سے میراایک عزیز اپنی والدہ کی وفات پر بھی پاکستان نہیں آیا، پاکستان میں اِس وقت سیاسی جماعتوں کی ” جنگ“ کا جو ماحول بنا ہوا ہے وہ اُس سے سخت خوفزدہ ہے، پاکستان میں اِس وقت سب سے بڑی ”آلودگی“ ایک دوسرے پر الزامات کی ہے ، جوکچھ ہورہا ہے پاکستان میں ہی پاکستان کے اتنے دشمن پیدا ہوچکے ہیں ہمیں باہر کے کسی دشمن کی ضرورت ہی نہیں ہے، آپس میں مفاداتی لڑائی لڑلڑ کر جس طرح ہم لڑکھڑا رہے ہیں دنیا میں کہیں نہ کہیں ضرور یہ تحقیق ہورہی ہوگی ہم اسلام پسند ہیں یا اسلام دشمن ہیں؟ ہمارا دین تو ہمیں یہ درس دیتا ہے صلح حالت جنگ میں بھی مومن کے پیش نظر رہنی چاہیے، مسئلہ یہ ہے یہ عمل مومن کا ہے جس کا دل دوسروں کے لیے موم کی طرح پگھل جاتا ہے، ہم پاکستانیوں کے دل پتھر ہوچکے ہیں، ایک اور ارشاد باری تعالیٰ ہے ”اور اگر مومنوں میں سے فریقین آپس میں لڑ پڑیں تو اُن میں صلح کروادو اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو، یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے، پس جب وہ رجوع لے آئے تو دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کروادو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے“ .... بدقسمتی سے پاکستان میں ایک دوسرے کو لڑانے والے ہی ہرطرف دکھائی دیتے ہیں، صلح کرنے والا یا صلح کروانے والا ایک نظر نہیں آتا، ہرکوئی جلتی پر تیل ڈالنے میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوششوں میں مبتلا دکھائی دیتاہے، آگ بجھانے والا ایک نظر نہیں آتا، شاید یہی وجہ ہے پاکستان میں ہرجانب اب کوے ہی کوے، کُتے ہی کُتے اور چیلیں ہی چیلیں دکھائی دیتی ہیں، ہمارے درختوں پر اب اتنے پتے نہیں ہوتے جتنے اُلو اور گدھیں ہوتی ہیں، فاختائیں، کبوتر، چڑیاں، بلبلیں آہستہ آہستہ نظر آنا بند ہوتی جارہی ہیں، امن کے یہ پرندے انسانوں کی ایک دوسرے سے ذاتی لڑائیوں ودشمنیوں کے ماحول میں یہاں سے شاید ہجرت کرتے جارہے ہیں، پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویداروں کو یہ ماحول دیکھ کر شرمندگی نہیں ہوتی؟،....ہمارا دین ہمیں یہ درس دیتا ہے اہلِ ایمان کے دوگروہ آپس میں لڑ پڑیں جس کے نتیجے میں ملک وملت کی وحدت خطرے میں پڑجائے اور ملک میں بدامنی اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہونے لگے تو ایسی صورت میں لڑنے والے اگرچہ اہلِ ایمان ہی کیوں نہ ہوں اُن کا محاسبہ کرنے اور ملک وملت کی شیرازہ بندی اورمسلمانوں کی وحدت کی خاطر بھرپور جدوجہد کرنا ناگزیرہو جاتا ہے، .... افسوس ہم نے اپنے دین کو بُھلاکر اپنا ہی ایک ”دین “ مقرر کرلیا، جس کے مطابق مفاداتی اور ذاتی لڑائی و دُشمنی کو باقاعدہ ”جہاد“ سمجھا جانے لگا، ہرکوئی اقتدار حاصل کرنے کے لیے یا اپنی آئینی یا غیرآئینی طاقت کو مزید بڑھانے یا برقرار رکھنے کے لیے ایک دوسرے پر غلبہ پانے کی کوششوں میں اس قدر آگے نکلتا جارہا ہے، مجھے خدشہ ہے، بلکہ میں اِس خوف میں مبتلاہوں پاکستان کی دُشمن قوتیں اِس ماحول سے (اللہ نہ کرے) کوئی فائدہ نہ اُٹھا لیں، .... اصل میں پاکستان کی سیاست اور حکومت میں اتنا چسکا اتنا مزہ، خصوصاً مال بنانے کے اتنے مواقع میسر آتے ہیں کہ جواقتدار میں ہوتا ہے وہ چاہتا ہے قبر میں اُترنے کے بعد بھی اُس کا اقتدار یا ”بادشاہی“ سلامت رہے، دوسری جانب اپوزیشن کی یہ خواہش اور کوشش ہوتی ہے جتنی جلدی ممکن ہو دوسرے کو اقتدار سے فارغ کردے، اِس کے لیے وہ آئین واخلاقیات سے ماورا اقدامات اُٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتی،.... کئی غیر مسلم ممالک میں ہم نے دیکھا اقتدار کو وہاں باقاعدہ ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے، اِس ”بوجھ“ کو صرف ایک ہی صورت میں اُتارنے کی وہ کوشش کرتے ہیں اپنے عوام کی ہرممکن حدتک وہ خدمت کریں، حدیہ ہے ”حیوان“ وہاں کسی کو ووٹ نہیں دیتے، پر حیوانوں کے بھی اُتنے ہی حقوق ہیں جتنے انسانوں کے ہیں، وہاں ”جان“ کی قدر ہے، چاہے وہ انسان کی ہو یاحیوان کی....سو وہاں جب کسی کے اقتدار کی آئینی مدت ختم ہوتی ہے وہ شکرادا کرتا ہے، وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے، ....اُسے کوئی خوف نہیں ہوتا کہ دوران اقتدار اُس نے کوئی ایسا جُرم یا غلطی کی ہے جس سے قانون کی گرفت میں وہ آجائے گا، یا جس سے اُس کی مخالف جماعتیں اُس کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی کرسکیں گی، اپنا اقتدار ختم ہونے کے بعد وہ ذاتی سطح پر ایسے اصلاحی کاموں میں یا انسانی فلاح کے ایسے کاموں میں مصروف ہوجاتا ہے جو اقتدار سے کہیں بڑھ کر اُسے سکون فراہم کرتے ہیں، .... ہمارے ہاں اقتدارسے رخصت ہونے والے اکثر حکمران مالی طورپر شاید بہت مضبوط ہوجاتے ہیں مگر اخلاقی طورپر ودیگر کئی حوالوں سے وہ اتنے کمزور ہوجاتے ہیں اُصولی طورپر دوبارہ حکومت میں آنے کا تصور ہی اُن کے ہاں ختم ہو جانا چاہیے، مگر یہ تصور اِس لیے مزید بڑھ جاتا ہے عوام ایسے ہی لوگوں کو پسند کرتے ہیں، یہ سلسلہ اللہ جانے کب ختم ہوگا؟ اداروں اور کرداروں کی یہ جنگ اللہ جانے کب بند ہوگی ؟؟؟


ای پیپر