مولانا نے اپنے دھواں دار خطاب میں وارننگ دیدی
05 نومبر 2019 (23:03) 2019-11-05

اسلام آباد :جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے انتخابی دھاندلی پر تحقیقاتی کمیشن بنانے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دھاندلی زدہ حکومت کو تسلیم نہیں کر تے،دوبارہ الیکشن کے مطالبہ پر قائم ہیں ،ہم اداروں سے تصادم نہیں چاہتے،ہمیں اشتعال نہ دلاو اگر اشتعال دلاو گے تو یاد رکھو نتیجہ اچھا نہیں ہوگااور چوبیس گھنٹوں میں شکست ہو جائیگی ،ہجوم آگے بڑھا تو تمہارے کنٹینرز کو ماچس کی ڈبیا کی طرح اٹھا کر پھینک دے گا۔

مولانا نے کہا جتنی جلدی فیصلہ کروگے اتنا اچھا ہوگا، خود بھی مشکل سے نکل جاو¿ اور ہم بھی واپس چلے جائیں گے،ہم نے چور کو دن دہاڑے چوری کرتے پکڑا اب کہتا ہے تحقیقات کر لیں میں چور ہوں یا نہیں،دنیا کو بتا دیا احتساب کے نام پر انتقام کا ڈرامہ مزید نہیں چل سکے گا، دبیز پردوں میں سیاست چلے گی تو مشکلات آئیں گی، انصاف نہیں ہوگا اور ظلم ہوگا، ہمارا کسی سے جھگڑا نہیں ،ملک کو سچائی کے اصولوں کے ساتھ چلایا جاسکتا ہے،پارلیمنٹ کی بالا دستی کو تسلیم کرکے ہی ملک چلایا جاسکتاہے، آئیں سچ کی طرف اور ملک کو سچائی کے بنیادوں پر چلائیں، ہمیں سنجیدگی سے آنےو الے مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے،کئی روز سے آزادی مارچ اسلام آباد میں براجمان ہے ،مطالبات کے تسلسل کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

منگل کو آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہمیں سنجیدگی سے آنے والے مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے، کئی روز سے آزادی مارچ اسلام آباد میں براجمان ہے اور مطالبات کے تسلسل کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے آزادی مارچ پر اعتراض کرنے والوں کو 2014 میں ڈی چوک پر دھرنے پر اعتراض کیوں نہیں تھا، ہم پر کیوں اعتراض کیا جارہا ہے، عوام کے مطالبے کو ماننا پڑے گا اور ہم نے نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ 126 دن کے دھرنے کی تصویر دنیا کے لیے بڑی دلکش تھی، تم نے مذہبی دنیا سے متعلق غلط تصویر دنیا کے سامنے رکھی تھی جبکہ آج بھی ڈی چوک پر دھرنے کی بدبو محسوس کی جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم آپ کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے کہ آپ نے سیاسی جمود کو توڑا اور دنیا کو بتا دیا احتساب کے نام پر انتقام کا ڈرامہ مزید نہیں چل سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج ایران ہمارے مقابلے میں بھارت کو اہمیت دے رہا ہے، انہوںنے کہاکہ ہم داخلی اور خارجی سطح پر انتہائی مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحما ن کہا کہ آج ہم چین کے اعتماد سے محروم ہوگئے ہیں، آج چین مزید سرمایہ کاری سے گریز کررہاہے۔ ہم مثالیں دیتے تھے کہ چین اور پاکستان کی دوستی سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے، چین کے ساتھ ستر سالہ تعلق جب اقتصادی دوستی میں تبدیل ہوا ، سی پیک میں 70ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی اس حکومت نے سی پیک کی سرمایہ کاری غارت کردی جبکہ افغانستان کے ساتھ بھی اعتماد قائم نہیں رکھ سکے۔انہوں نے کہاکہ آج فیکٹریاں، ملیں، یونٹس بند ہو رہے ہیں، لاکھوں مزدور بےروزگار ہو رہے ہیں، پیداواری ادارے بند ہونے سے مارکیٹ میں اشیا ناپید، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، پیٹرول بھی مہنگا کر دیا گیا ہے۔، آئیں سچ کی طرف اور ملک کو سچائی کے بنیادوں پر چلائیں۔ ہم اداروں سے تصادم نہیں چاہتے۔


ای پیپر