رہبر اور حکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم
05 نومبر 2019 (20:17) 2019-11-05

اسلام آباد: حکومت مخالف آزادی مارچ کے حوالے سے مذاکرت کے لیے قائم کی گئی رہبر کمیٹی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ایک مرتبہ پھر نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکا ،حکومت کی مذاکراتی کمیٹی اور حزب اختلاف کے درمیان ایک گھنٹے تک ملاقات جاری رہی تاہم اس دوران کسی فریق کی جانب سے بھی لچک نہ دکھائی گئی۔

دوران مذاکرات اپوزیشن نے ایک بار پھر وزیراعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کا مطالبہ دہرایا جسے حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مسترد کر دیا اور انہیں غیر آئینی قرار دیتے ہوئے حزب اختلاف سے واپس لینے کو کہا جس پر اپوزیشن نے اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد آگاہ کرنے کا جواب دیا۔اجلاس کے دوران آئین میں اسلامی دفعات اور انتخابی اصلاحات میں مزید بہتری کے لیے قانون سازی پر اتفاق کیا گیا۔

کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے دونوں فریقین کا کہنا تھا کہ درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے جمعیت علمائے اسلام(ف)اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی کا کہنا تھا کہ ہم اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے اور رہبر کمیٹی کے تمام ارکان نے متفقہ طور پر اپنے پرانے مطالبات مطالبہ پیش کر د یئے ہیں حکومت کوشش کررہی ہے کہ کوئی درمیانی راستے نکلے۔اس موقع پر حکومتی وفد کے سربراہ اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ کچھ معاملات پر اتفاق ہوا ہے تاہم مذاکرات کا سلسلہ تاحال جاری ہے اپوزیشن کا اپنا اور ہمارا اپنا موقف ہے تاہم درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جاری ہے ایسا راستہ نکالنے پر مذاکرات جاری ہیں جس میں اپوزیشن کی عزت بھی برقرار رہے اور حکومتی موقف بھی متاثر نہ ہو۔

حکومتی وفد میں شامل پرویز الہی نے میڈیا کو بتایا کہ وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے ملاقات ہوئی اور مثبت پیش رفت کے امکانات ہیں کیونکہ دونوں کمیٹیوں کی ملاقات بہتری کی طرف ایک اور قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ مثبت پیش رفت اور مزید مشاورت کے لیے کچھ وقت درکار ہے جس میں استعفی میں لچک کا معاملہ بعد میں زیر بحث آئے گا جبکہ اسلامی دفعات پر مکمل اتفاق ہے اس پر کوئی دو رائے نہیں ہیں انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ابھی چیزیں طے ہوں گی، مذاکرات میں کامیابی کے لیے پر امید ہیں۔

حکومتی مذاکراتی ٹیم میں پرویز خٹک کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، اسد عمر، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، وفاقی مذہبی امور پیر نور الحق قادری اور اسپیکر پنجاب اسمبلی اور مسلم لیگ (ق)کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی شامل تھے۔دوسری جانب اپوزیشن کی رہبر کمیٹی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال، عباس آفریدی اور امیر مقام، پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نئیر بخاری اور فرحت اللہ بابر، اے این پی سے میاں افتخار حسین کے علاوہ دیگر اپوزیشن رہنما طاہر بزنجو، شفیق پسروری، ہاشم بابر اور اویس نورانی شامل تھے۔پریس بریفنگ میں اپوزیشن اور حکومتی وفد نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا تاہم دونوں کمیٹیوں نے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔


ای پیپر