کچھ گفتنی و کچھ ناگفتنی۔۔۔!
05 نومبر 2019 2019-11-05

اتوار کی شب آزادی مارچ کے آغاز کے آٹھویں دن مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میںآزادی مارچ اور دھرنے میں شریک بہت بڑے مجمعے سے خطا ب کیا تو ان کے خطاب میں ہی جذباتی رنگ نمایاں نہیں تھا بلکہ آزادی مارچ اور دھرنے کے شرکاء کا جو ش و جذبہ بھی دیدنی تھا۔ان کے پرجوش نعروں سے جذبات اُمڈ اُمڈ کر سامنے آرہے تھے ۔مولانا نے دو دن قبل جمعہ کی شب آزادی مارچ کے اختتام پر اسلام آباد کے H-9 سیکٹر میں کم و بیش ساڑھے تین کلومیٹر رقبے میں پھیلے آزادی مارچ کے ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اپنے مطالبات منوانے کے لیے حکومت اور اداروں کو دو دن کی مہلت دی تھی ۔ اتوار کی شب اڑتالیس گھنٹے گزرنے کے بعد دو دن کی مہلت ختم ہو چکی تھی اور مطالبات کے پورا ہونے کی کوئی سبیل سامنے نہیں آئی تھی ۔تاہم مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے شرکاء سے طویل خطاب کے دوران اُن سے صبر و تحمل کی جہاں اپیل کی وہاں ان کے لیے ستائش و شکرگزاری کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے روندی آواز میںان سے اس بات کا عہد لیا کہ وہ اپنے امیر کی اطاعت کریں گے۔ جس کا جواب شرکاء نے بڑے جوش و جذبے اور ہاتھ بلند کرکے دیا۔ ان کا کہنا تھا جتنا آپ مجھ پر اعتماد کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ مجھے آپ پر اعتماد ہے۔آپ کھلے آسمان تلے یہاں جس طرح موجود ہیں میں آپ سے یہاں چھ ماہ رکنے کے لیے کہوں گا تو آپ ایک سال یہاں بیٹھے رہیں گے ۔ میں آپ کی یہ محبت اور اپنے مقصد سے وابستگی کبھی فراموش نہیں کر سکتا ۔

اتوار کی شب کو مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے اسلام آباد کے ایچ نائن پشاور موڑ کے میٹرو گراونڈ اور ملحقہ وسیع قطع اراضی پر موجود آزادی مارچ کے دھرنے کے شرکاء سے اپنے طویل خطاب میں اور بھی بہت ساری باتیں کیں جن کی تفصیل بیان کرنے کا یہ موقع نہیں تاہم ایک دو باتوں کا حوالہ دیا جاتا ہے جن سے ان کے آئندہ عزائم کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جو ش نہیں ہوش مندی سے کام لینا ہوگا۔ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں پوری قیادت فیصلہ کرے گی۔ عمران خان سن لے یہ سیلاب آگے بڑھتا جائے گا اور پلان اے کے بعد بی اور سی بھی ہے۔ ہم جان ہتھیلی پر رکھ کر آئیں گے ۔اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کا یہ سفر رکے گا نہیں ۔ یہاں سے جائیں گے تو آئندہ کی بڑی پیش رفت کے ساتھ جائیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں اپنی جماعت جمعیت علماء اسلام کے حوالے سے اس بات کا خصوصی طور پر ذکر کیا کہ جے یو آئی واحد جماعت ہے جس نے مذہبی نوجوانوں کو اعتدال کی راہ دکھائی اور بغاوت سے دور رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اشتعال دلانے اور غلط مشورے دینے والے ان کے خیر خواہ نہیں ۔ کوئی سازشی قوت یہ نہ سمجھے کہ ہم ان کے طعنوں میں آکر کوئی غلط راستہ اختیار کریں گے۔ ہم خود صلاحیت رکھتے ہیں کوئی ہمیں مت راستہ دکھائے۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں آئین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے اندر تمام محکمہ جات اوراداروں کے کردار اپنا اپنا دائرہ ہے۔ انھوں نے چیف جسٹس کا حوالہ دیکر یاد دلایا کہ ہر ادارہ مداخلت کر رہا ہے ۔ عوام مطمئن نہیں ہے لہذا تمام اداروں کو مل بیٹھ کر عہد و پیمان کرنا ہوگا کہ آئین محترم اور سپریم ہے اور اس کے مطابق ملک کا نظام چلے گا۔

مولانا فضل الرحمن آگے چل کر آزادی مارچ کے دھرنے کے شرکاء کو کیا ہدایا ت دیتے ہیں اور کس طرح کی پیش رفت کے ساتھ دھرنے کے خاتمے یا آگے بڑھنے کی راہ اختیار کرتے ہیں اس بارے میں تا دم تحریر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک درپیش صورت حال کھل کر سامنے آجائے۔ تاہم یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی قیادت، سیادت اور مخصوص حلقوں میں اپنی مقبولیت کا لوہا ہی نہیں منوایا ہے بلکہ ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔ ان کے بعض بہی خواہوں سمیت ان کے مخالفین اور نقادوں کی طرف سے آزادی مارچ کے کامیابی سے انعقاد اور جاری رہنے کے بارے میں تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا جنھیں مولانا نے اپنی دانشمندی اور بصیرت سے غلط کر دکھایا ہے۔ مولانا نے اپنے آزادی مارچ کے شرکاء کے ساتھ 27اکتوبر کو کراچی سے سفر کا آغاز کیا تو چار دنوں میں 1500سے زائد کلومیٹر فاصلہ طے کرکے جمعرات کی شب اسلام آباد پہنچے مولانا کراچی سے چلے تو سکھر میں رکے ، وہاں سے گھوٹکی اور صادق آباد کے راستے ملتان اور وہاں سے اکاڑہ اور لاہور ، اور لاہور سے گجرانوالہ ، گجرات ، جہلم اور گجر خان سے ہوتے ہوئے اسلام آباد پہنچے۔ وہ راستے میں جہاں بھی رکے عوام کی کثیر تعداد ان کی پذیر رائی کے لیے موجودتھی ۔ مولانا نے ہر جگہ حاضرین سے بڑے مدلل اور جامع انداز میں خطاب کیا۔جمعرات کی صبح گجر خان میں پر ُتپاک استقبال اور پڑاو کے بعد جمعرات کی سہ پہر کو آزادی مارچ کے شرکاء اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوئے تو اسی دن شام کو احتجاجی جلسہ کے منعقد ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آنا شروع ہوگئیں ۔ مسلم لیگ ن کے حوالے سے میڈیا میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ وہ احتجاجی جلسہ کے انعقاد کے حق میں نہیں ۔ مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگ زیب سے منسوب بیان بھی سامنے آیا جس سے جھلکتا تھا کہ شاید مسلم لیگ ن کو احتجاجی جلسہ کے انعقاد پر کچھ تحفظات ہیں اور مسلم لیگی قائدین بالخصوص مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف احتجاجی جلسہ میں شرکت نہیں کریں گے ۔ بہت سارے لوگوں کو مسلم لیگ ن کے اس موقف پر حیرانی تھی۔ الیکٹرونک میڈیا پر بھی اس بارے میں خاصی لے دے اور منفی تبصرے اور تجزیے ہونے لگے لیکن کچھ ہی گھنٹوں بعد یہ خبر سامنے آگئی کہ جمعہ کی نماز کے بعد آزادی مارچ کا احتجاجی جلسہ منعقد ہوگا تو مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف اور دوسرے مسلم لیگی قائدین بھی اس سے خطاب کریں گے۔

جمعتہ المبارک کی سہ پہر اور شام کو آزادی مارچ کے احتجاجی جلسے کا انعقاد ہو رہا تھا تو ہر کسی کو جن میں آزادی مارچ کے مخالفین اور حکومتی ایجنسیوں سمیت جلسہ کے حامی اور متفقین سبھی شامل تھے پختہ یقین تھا کہ اسلام آباد کے پشاور موڑ کے قریب H-9 سیکٹر میں میڑو گراونڈ اور ملحقہ وسیع و عریض قطعہ آراضی پر منعقد ہونے والاآزادی مارچ کا احتجاجی جلسہ اپنی حاضری کے لحاظ سے ریکارڈ نوعیت کا حامل ہوگا۔ پھر یہی ہوا آزادی مارچ کے شرکاء کے پڑائو کے لیے ایچ نائن کا مخصوص علاقہ احتجاجی جلسہ کے حاضرین کی بے پناہ اور ان گنت تعداد کو سمیٹنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا تھا۔ عوام کا یہ جم غفیر تھا جو پڑائو کے لیے مخصوص جگہ پر ہی موجو د نہیں تھا بلکہ دور دور تک اس طرح پھیلا ہوا تھا کہ کیمرے کی آنکھ کو اس کا احاطہ کرنے میں مشکل کا سامنا تھا۔

یہ تفصیل کچھ گفتنی باتوں کی تھی اب کچھ ذکر ناگفتنی معاملات کا بھی ہونا چاہیے ۔ مسلم لیگ ن پتہ نہیں کیوں مخمصے کا شکار ہے۔ اس کی قیادت بالخصوص میاں شہباز شریف کیوں اس مخمصے سے باہر نہیں آتے ۔ وہ کیوں نہیں ایک واضح لائحہ عمل یا سٹریٹجی اختیار نہیں کرتے۔ آخر وہ مسلم لیگ ن جو ملک کی دوسری بڑی (بلکہ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو سب سے بڑی ) سیاسی جماعت ہے کے منتخب صدر ہیں۔ ان کے منہ میںگھنگھیناں نہیں پڑی ہونی چاہیے نہ ہی ان کے فیصلوں میں کسی طرح کے ابہام اور مایوسی کا اظہار ہونا چاہیے۔ گو مگو اور بد دلی کی پالیسی سے مسلم لیگ ن کو بہت نقصان پہنچ چکا ہے ۔ میاں شہباز شریف اگر سمجھتے ہیں کہ ٹکرائو سے بچنے اور مفاہمت کی پالیسی درست ہے تو وہ کھل کر اس کا اظہار کریں ورنہ انہیں چاہیے کہ وہ مسلم لیگ ن کے قائد اپنے بڑے بھائی میاں محمد نواز شریف جنھیں وہ باپ کا درجہ دیتے ہیں کی ہدایات پر دل و جان سے عمل پیرا ہوں۔ اس سے مسلم لیگ کی چھوٹی بڑی قیادت کو ہی نیا عزم اور حوصلہ نہیں ملے گا بلکہ مسلم لیگی کارکنوں کے جذبوں کو بھی مہمیز ملے گی۔ اب وقت دو ٹوک فیصلہ سازی کا ہے ادھر اُدھر رابطے کرنے یا دوسروں کی طرف دیکھنے کا نہیں ۔


ای پیپر