اردوکے خزانے …ماریشس میں(دوسراحصہ)
05 نومبر 2019 2019-11-05

مطبوعات کے ساتھ، سراغ لگانے پر ،ماریشس میں اردو مخطوطات بھی تلاش کیے جاسکتے ہیں ہمیں ماریشس کے سفر کے دوران ایک اردو خطی نسخے کا سراغ بھی ملا۔ یہ نسخہ ماریشس کے ایک اردو شاعر محمد اسماعیل فدوی کا ہے۔ اردو شاعری کی تاریخ میں بہت سے فدوی پائے جاتے ہیں مثلاًشاہ محسن فدوی لاہوری تلمیذ شاکر ناجی ، مرزا محمد علی فدوی عرف مرزا پھجو وغیرہ۔ حکیم قدرت اللہ قاسم نے اپنے تذکرہ شعرائے اردومیں پانچ فدویوں کا ترجمہ درج کیا ہے جن میں مذکورہ دو فدویوں پر تین مستزاد ہیں؛ مرزا عظیم بیگ فدوی، میر فضل علی فدوی جہان آبادی، مرزا فدوی نومسلم تلمیذ شاہ صابر علی۔ ماریشس جا کر اردو کے ایک اور فدوی کا پتا چلا یہ محمد اسماعیل خلیفہ فدوی ہیں جن کے کلام کا ۱۳۲۳ھ /۶–۱۹۰۵ء کا مکتوبہ خطی نسخہ ماریشس میں ان کے پڑپوتے اسماعیل کرامت علی کے پاس محفوظ ہے۔ یہ ۱۷×۱۱ سینٹی میٹر سائز کے ۱۷۵ صفحات پر مشتمل ہے۔ نا قص الاول قلمی نسخہ ہے ۔(شروع کے چھے صفحات غائب ہیں)شاعر کے نام کی حامل تین سینٹی میٹر اور چار سینٹی میٹر قطرکی مدوّر مہریں ثبت ہیں،شاعر اچھا خاصا ہے۔ مار یشس کو موریس لکھتا ہے اس زمانے کے ہندوستانی مہاجروں میں اس جزیرے کا یہی نام رائج تھا۔ گو رسماً پڑھا لکھا نہیں لیکن کھڑی بولی، بھوجپوری اور ہندی سے واقف ہے۔ عربی، فارسی روایت سے بھی آگاہ ہے اور آیات و اقوال کو اقتباس کرتا ہے۔ املائی خصوصیات وہی ہیں جو اس دور کے قلمی نسخوں میں پائی جاتی ہیں یعنی نون غنہ کی جگہ اعلان نون، ہائے مخلوط کی جگہ ہائے ملفوظ وغیرہ۔ نمونے کے طور پرکچھ اشعار ملاحظہ ہوںہم نے ان کا املا تبدیل کرکے زمانۂ حاضر کے مطابق کردیا ہے:

وضو کہاں کا، نماز کیسی، قعود کس کا، قیام کیا ہے

ہے دل میں جس کے صنم کی صورت ،پھر اس کا سجدہ سلام کیا ہے

………

قلمی نسخے میں حضرت علی ؓ ،شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ، خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کی مدح میں بھی کلام موجود ہے اور نعتیں بھی ہیں، ایک نعتیہ شعر ملاحظہ ہو:

ملن کی آسا لگی ہے پیتم جیا نہیں موریس میں لگت ہے

اٹھائوں بستر چلوں مدینہ ارادہ مدت سے ہو رہا ہے

ایک اور نعت کا شعر ہے :

توری منتی کرت ہوں میں شام یہ زرا سپنا میں درس دکھائو مجھے

مورا موریس میں جیو نہ لاگت ہے اس ملک عرب میں بسائو مجھے

ایک مسلسل غزل کے اشعار :

کہاں لے جائوں دل دونو جہاں میں سخت مشکل ہے

یہاں پریوں کا مجمع ہے وہاں حوروں کی محفل ہے

مرا دل لے کے شیشے کی طرح پتھر پہ دے مارا

میں کہتا رہ گیا ظالم مرا دل ہے مرا دل ہے

جو دیکھا عکس آئینے میں اپنا، بولے جھنجلا کر

ارے تو کون ہے ہٹ سامنے سے کیوں مقابل ہے

مری تربت پہ اک ٹھوکر لگائی اور فرمایا

قیامت آگئی اُٹھ سونے والے کیسا غافل ہے

ہزاروں دل مسل کے پائوں سے جھنجھلا کے فرمایا

لو پہچانو تمھارا ان دلوں میں کون سا دل ہے

سوال بوسہ پر کیوں جھڑکیاں دیتے ہو فدوی کو

فلا تنھر کلام اللہ میں آیا بہر سائل ہے

خطی نسخے سے متعلق معلومات ہمیں عنایت حسین عیدن صاحب کے مضمون ’’A valuable Urdu Manuscript‘‘ سے ملی ہیں۔اگریہ قلمی نسخہ مرتب کرکے شائع کردیاجائے تو کلاسیکی اردو شعرا کی فہرست میں ایک قابل توجہ شاعر کا اضافہ ہوجائے گا۔

ماریشس میں اردو شاعری کا یہ سفر جس کا سرا فدوی سے جا ملتا ہے ہنوز جاری ہے اور یہاں اردو شعرا کی ایک قابلِ لحاظ تعداد موجود ہے۔ان میں سے ایک اہم شاعر قاسم ہیرا ہیں جن کے مجموعۂ کلام نارسائی میں زندگی بھی ہے اور ظالم استعمار کے ہاتھوں اپنے آبا کی ذلت کا غم بھی۔ اگرچہ ہیرا صاحب نے یہ کہا ہے کہ :

اس (مجموعے)کی اہمیت محض اس بات میں مضمر ہے کہ یہ اردو کا پہلا شعری مجموعہ ہے جو ماریشس میں باقاعدہ شائع ہورہا ہے اور اس سے اس بات کی نشان دہی ہوتی ہے کہ اگر کوئی ایسی زبان میں طبع آزمائی کرے جو اس کی مادری زبان نہ ہو تو نتیجہ کس قدر عبرت انگیز ہوسکتا ہے۔

تاہم ان کے اشعار اس انکسار کی مکمل تائید نہیں کرتے، دیکھیے :

مری تہذیب میرے باپ دادا کی امانت ہے

بھلا میں بھول سکتا ہوں کبھی اس داغ ذلت کو

مرے اجداد نے ڈھویا ہے جس کو اپنی پیٹھوں پر

بھلا دوں کس طرح میں ان لٹیروں کے مظالم کو

ماریشس کے اردو شعرا ہوں یا نثر نگار ان کی تخلیقات زیادہ تر ہندوستان سے شائع ہوئی ہیں، پاکستان سے شائع ہونے والی صرف ایک کتاب دیکھی ۔یہ محمد طاہر د ومن مرحوم کا مجموعۂ کلام تلاش پیہم ہے جسے اگرچہ شاعر نے خود شائع کیا ہے تاہم اس کی طباعت لاہور میں ہوئی۔ آرٹ پیپر آرائشی بیل بوٹوں کے ساتھ عمدہ معیار کی رنگین طباعت کا حامل یہ مجموعہ سید نفیس شاہ صاحب کی خطاطی کے نمونوں سے مزین ہے۔ کتاب کانام بھی شاہ صاحب مرحوم و مغفور کے اعجاز رقم قلم کانتیجہ ہے۔ شاعری، شاعر موصوف کے خیالات کی طرح بہت سادہ ہے دینی اور ملی رنگ نمایاں ہے۔ دیباچوں میں ڈاکٹر ریاض مجید صاحب کی تقریظ بھی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ طاہر دومن صاحب رابطہ ادب اسلامی کی عالمی کانفرنس کے موقعے پر اکتوبر ۱۹۹۷ء میں پاکستان تشریف بھی لاچکے ہیں۔

ماریشس میں شائع ہونے والے دوسرے اردو مجموعہ ہائے کلام میں ؛ لب ساحل صابر گودڑ ، سعیِ لاحاصل سعید میاں جان، غزلیات نادان عبدالقاسم علی محمد زخم کہن سعید میاں جان شامل ہیں۔ماریشس میں اردو کی خوشبو کتب تک محدود نہیں بلکہ یہاں سے اردو میں رسائل بھی شائع ہوتے ہیں۔ ایسے اخبارات میں اردواسپیکنگ یونین کا اخبارصدائے اردو بھی شامل ہے ۔یہ بارہ صفحات کا ایک ذولسانی موقت خبر نامہ ہے۔ سرورق آرٹ پیپر پرچھپتا ہے اور زیادہ خبریں ماریشس میں اردو کے فروغ کے لیے کام کرنے والے اداروں اور اصحاب کی ہوتی ہیں۔ دیگراردو رسائل و جرائدجن کا علم ہوسکا یہ ہیں:جستجو (نیشنل اردو انسٹی ٹیوٹ )، صدائے جنوب (مسلم لٹریری سرکل کنجاب) اور الہلال (مسلم لٹریری سرکل کنجاب)۔

ماریشس کا اسٹیٹ ٹیلی ویژن ایم بی سی (ماریشس براڈ کاسٹنگ) ہے جس سے اردوپروگرام نشر ہوتے ہیں ۔خبریں، ڈرامے، قوالیاں، گانے اس چینل پر آپ سب کچھ اردو میں سن سکتے ہیں۔ یہی حال ماریشس کے سرکاری ریڈیو کا بھی ہے اس سے بھی آپ ہر وقت اردو نشریات سن سکتے ہیں بلکہ اس کی اردو نشریات انٹر نیٹ پر بھی سنی جاسکتی ہیں۔ اردو اسپیکنگ یونین کی لائبریری میں موجود کتب ہندوستان کے مختلف اشاعتی اداروں کی شائع کردہ اور حکومت ہندوستان کی فراہم کردہ ہیں۔ ہمارے ہاں کے مصنف اور ناشر وہاں دکھائی نہ دیے۔ اردو اسپیکنگ یونین، حکومت ماریشس کی سرپرستی میں کام کرنے والا ایک ادارہ ہے جسے سالانہ سرکاری گرانٹ ملتی ہے۔ اسی طرح ہندی تلگو اور تامل وغیرہ کی ترقی و فروغ کے لیے بھی یونینز قائم ہیں انھیں بھی سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ اردو کے لیے اس یونین کے علاوہ بھی کچھ ادارے کام کررہے ہیں جن میں : نیشنل اردو انسٹی ٹیوٹ ،انجمن ترقیِ اردو،مسلم لٹریری سرکل کنجاب،عریبک اینڈ اردو اکیڈمی،انجمن فروغ اردواور پاکستان کلب شامل ہیں۔(انتہا)


ای پیپر