سرخیاں ان کی؟
05 نومبر 2019 2019-11-05

٭… ہمارا ماضی اور مستقبل…؟

٭… علامہ عبد الرحمن میرے پسندیدہ مورخین میں سے ہیں۔میری خوش بختی ہے کہ مجھے ان کی تاریخی کتب بالخصوص خلفائے راشدین، خلافت بنو امیہ و دمشق و سپین ، شرح البردہ، المنطق کو دیکھنا اور پڑھنا نصیب ہوا۔ مگر مقدمہ ابن خلدون جیسی عہد ساز عظیم کتاب نے تو جیسے روح کی پیاس بجھا دی۔ کیونکہ فلسفہ تاریخ کے بانی نے اپنی اسی عظیم تخلیقی تصنیف میں نہ صرف قوموں کے عروج و زوال کے متعلق واضح نظریہ دیا ہے بلکہ تاریخ و تمدن عالم کا گہرائی سے سائنسی تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔ عہد حاضر کے مورخ ٹائین بی نے بھی اپنے اعترافی نوٹ میں لکھا ہے کہ عیسائی دنیا بھی ابن خلدون کے اس نظریے یعنی تاریخ بذات خود ایک زندہ اور فعال شے ہے اسی لیے قومیں ہمیشہ ایک حالت پر نہیں رہتیں‘‘ کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔ بلکہ ان کے مطابق افلاطون، ارسطو، آرگسٹائین بھی اس کے ہم پایہ نہ تھے۔ شاید اسی سبب ابن خلدون نے عمرانیات یعنی انسان اور معاشرے کے تعلق کو صحیح معنوں میں روشن کرتے ہوئے تمدن کی ایک بنیاد انسانی ضرورت اور دوسری دفاعی ضروریات قرار دی ہیں۔ اسی طرح مذہب کے متعلق بیان کیا ہے کہ یہ ایک ایسا معجزہ ہے جو معاشرے کی سمتیں ’’Directions ‘‘ بدل دیتا ہے اور قوم کو نظریہ حیات بخشتا ہے۔ لہٰذا جو مذہب معاشرے میں جس قدر اثر پذیر یعنی راسخ ہو گا اور جتنا باہم گھلا ملا ہو گا وہ اتنا ہی صادق ہو گا ۔ مجھے اس کتاب کا تاریخی، روشن اور جامع پہلو یہ محسوس ہوا کہ اس میں مصنف نے معاشرے کے ہر پہلو پر نہ صرف مکمل بلکہ فطری بحث کی ہے اور فرد، ریاست، حکومت، سیاست، مذہب، عصبیت، غلامی، خلافت، امامت جیسے حساس ترین موضوعات اور رجحانات کی بھی مکمل تصویر کشی کی ہے۔ لہٰذا آج جو ہمارے ملک سمیت پوری دنیا میں ہو رہا ہے وہ پہلے بھی ہو رہا تھا اور آئندہ بھی کچھ نہ کچھ جمع تفریق کے ساتھ ہوتا رہے گا۔ پھر تعجب کیسا اور مایوسی کیسی! کیونکہ یہ تو محض جوابی فعل ہے جو ہم کرتے ہیں اس کا رد عمل ہے۔ بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ ضروری ہے کیونکہ اس کی نوعیت تلافی جیسی ہوتی ہے۔ آپ کسی فرد، افراد، معاشرہ میں ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ انسان اپنے گناہ کو چھپانے کے لیے نیکی تلاش کرتا ہے ۔ بلکہ بسا اوقات وہ اپنی کسی کمزوری کو چھپانے کے لیے اپنی کسی بہادری کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے یہی ’’Evolution ‘‘ ارتقا ہے کہ انسان ایک خواہش کو چھوڑ کر دوسری خواہش سے تسکین حاصل کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آزادی مارچ کوئی ایجنڈا نہیں اور یہ آزادی مارچ پر امن اور اپنے بہتر بدل کے لیے ہے۔ جس طرح کل موجودہ حکومت اپنے بہتر بدل کے لیے مارچ کر رہی تھی مگر آج حکومت کر رہی ہے۔ ارتقا اسی عمل کو کہتے ہیں۔ البتہ یہ خیال رہے کہ ایسے افعال جو معاشی و سماجی طور پر قابل قبول ہوں جو بہتر بدل ثابت ہوں اور جن سے نہ صرف ہمیں بلکہ ہمارے معاشرے کو بھی تسکین ملتی ہو۔ انسانی ارتقا کے ہی زمرے میں آتے ہیں۔ بلکہ اگر آپ اجازت دیں تو میں کہنے کی جسارت کروں کہ ارتقا ہی زندگی ہے؟ اسی میں ایک ناکامی دوسری بڑی کامیابی کا محرک بنتی ہے۔ ایک اور چھوٹی سی مثال پیش خدمت ہے۔ تحریک انصاف 126 دنوں کے دھرنے کے با وجود استعفیٰ حاصل نہ کر سکی۔ مگر اس نے حکومت حاصل کر لی ہے۔ ایسے ہی کوئی دیوانہ محبت میں…یہی ناکام نوجوان کبھی کبھی بڑا شاعر اور مصور بن جاتا ہے۔ اگرچہ ان سب موضوعات کے لیے لگن مہارت اور محنت بنیادی شرط ہے۔ سیاستدان، معیشت دان ، صنعتکار، استاد، شاعر، فنکار وغیرہ بننے کے لیے چند صلاحیتوں کا فطری میلان بھی ضروری ہے۔ لہٰذا یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ہر انسان کا انجام اس کے عمل کے مطابق ہوتا ہے۔ کسی حسب نسب کی بنیاد پر نہیں۔ جس کی تاریخ میں مثالیں موجود ہیں۔ جیسے کہ حضرت نوحؑ کے بیٹے کا ان کی آنکھوں کے سامنے غرق ہو جانا ۔ یوں یہی وہ نقطہ خاص ہے۔ جس سے فرد اور افراد ہی نہیں۔ معاشرے اور قومیں بھی ہدایت لے کر بام عروج کو پہنچتی ہیں اور انسانی تاریخ رقم کرتی ہیں۔ اسے ہم یوں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ بنی اسرائیل بھی پیغمبروں کی اولاد ہیں۔ لیکن قرآن کہتا ہے وہ سارے ہدایت یافتہ نہیں۔ اسی طرح دین اسلام غالب رہنے کے لیے ہے۔ مغلوب رہنے کے لیے نہیں۔ لہٰذا میرا ایمان ہے کہ راکھ کا ڈھیر کتنا ہی بڑا ہو جائے۔کوئی نہ کوئی کہیں نہ کہیںکوئی چنگاری سلگتی رہتی ہے۔ جو کسی لمحہ بھڑک کر روشنی میں بدل سکتی ہے ۔ لہٰذا شرط صرف پیچھے پلٹنے کی بجائے آگے بڑھنے، مزاحمتی قوت کو حقیقی قوت میں بدلنے کی ہے۔ اور جس دن ہم با عمل اور ہدایت یافتہ ہو گئے۔ باہمی دست و گریباں ہونے کی بجائے ایک دوسرے کے دست بازو بن گئے۔ ہمہ وقت داخلی انتشار اور لوٹ کھسوٹ سے باز آ گئے۔ تو خدا کی قسم، اللہ کی نصرت ہمارے ہم ر کاب ہو گی اور تاریخی اوراق گواہ ہیں کہ ماضی میں نہتے مسلمانوں نے صرف قوت ایمانی کے بل بوتے پر وقت کے فرعونوں کو دھول چٹائی تھی ۔ آج بھی ہم وہی تاریخ دہرا سکتے ہیں۔ ضرورت صرف متفقہ اور مستحکم فیصلے لینے کی ہے۔ نہایت کٹھن اور مشکل ترین حالات پے قابو پانے کی ہے اور شجاعت، بہادری اور دلیری سے کھڑے ہونے کی ہے۔ آگے بڑھنے کی ہے۔ یہی ہمارا ماضی تھا اور اسی میں ہمارا مستقبل ہے؟

٭… کرتار پور راہداری…!

٭… اگرچہ گزشتہ ہفتہ کرتار پور راہداری کے معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں۔اب دربار مقدس سکھ یاتریوں بلکہ دیگر مذاہب کے زائرین کے لیے بھی صبح سے شام تک کھلا رہے گا۔ بلا شبہ UNOمیں اولین تاریخی خطاب کے بعد جناب عمران خان کا یہ دوسرا تاریخی کارنامہ ہے۔ جسے تاریخ ہمیشہ سنہری حروف سے یاد رکھے گی ۔ کیونکہ انہوں نے سکھ برادری سے وعدے کو پورا کر دیا ہے۔ اہل بصیرت کے مطابق یہ ایک ایسا تاریخی اقدام ہے جو نہ صرف مسلمانوں اور سکھوں کو قریب تر کرے گا بلکہ پاکستان اور بھارت کے مابین کھٹائی میں پڑے معاملات کو بھی سلجھانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ آج دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ پاکستان اپنی اقلیتوں کے ساتھ کس قدر مساوی سلوک روا رکھتا ہے ۔ جبکہ بھارت میں بسنے والے سکھوں اور ان کے مقدس مقامات سے کیا سلوک کرتا ہے اور اقلیتوں کو مذہبی رسومات کی ادائیگی تو دور کی بات ہے محض کسی مسلمان کو گائے ذبح کرنے کے شک کی بنیاد پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ لہٰذا آج با ضمیر دنیا کو بھی کھلی آنکھوں سے دیکھنا ہو گا کہ کون کیا کر رہا ہے ؟ یعنی کون اقلیتوں کو حقوق فراہم کر رہا ہے اور کون ان کے حقوق پامال کر رہا ہے۔ نتیجتاً بھارت کے خلاف دنیا میں نفرت بڑھ رہی ہے۔ امن عالم خطرے میں ہے۔ معروف دانشور خلیل جبران نے کہا تھا کہ افسوس اس قوم پر جو عقیدہ سے مالامال ہے اور مذہب کی روح سے خالی ہے ۔ لہٰذا عین اس وقت جبکہ کرتار پور راہداری جیسا ناقابل یقین منصوبہ اور خواب، حقیقت بن گیا ہے آپ کو یاد ہو گا کہ گزشتہ سال اگست میں سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو وزیراعظم جناب عمران خان کی تقریب حلف برداری میں خاص طور پر تشریف لائے تھے اور وہ دل کش منظر کوئی اہل دل اور اہل نظر کیسے بھلا سکتا ہے ۔ جب دنیائے کرکٹ کے اس عظیم ہیرو نے حلف برداری کی اس پر وقار تقریب میں ہمارے عظیم سپہ سالار اور مسلمانان عالم کے ہی نہیں امن عالم کے بھی ہیرو جنرل قمر جاوید باجوہ سے کسی گرمجوشی سے بغلگیرہوئے تھے اور پھر مستقبل کا مورخ کس حیرت میں ڈوب گیا تھا ۔ جب ’’جادو کی جپھی‘‘ میں کرتار پور راہداری کا حسین اور روحانی پیغام سنا دیا گیا تھا ۔ میرے ذرائع کے مطابق یہی وہ لمحات تھے۔ جب چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے میدان مار لیا تھا اور پھر بعد ازاں قوم اور قوم کے نو جوانوں کو جگانے اور میدان عمل میں اترنے کی ترغیب دینے والے متحرک وزیر اعظم جناب عمران خان نے 28 نومبر کو کرتار پور راہداری کا سنگِ بنیاد رکھ کر نہ صرف پر امن دنیا بلکہ کروڑوں سکھوں کے دل جیت لیے۔ تاہم بھارتی وزیر خارجہ ششما سوراج اپنی دیگر مصروفیات کی بدولت اس پر وقار اور تاریخی تقریب میں تشریف نہیں لائی تھیں۔ یہ دنیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ بہر حال اب جبکہ انسانی محبت اور مذہبی رسومات کو ایک نئی تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے ۔ اس تاریخی موقع پر پوری دنیا کی سکھ برادری اور یاتریوں کو عظیم بزرگ بابا گورو نانک جی کا 550 واں جنم دن اور مقدس مقام کرتار پور راہداری دل کی گہرائیوں سے مبارک ہو ۔میری دلی دعا ہے کہ کرتار پور راہداری بحالی امن عالم کے لیے نقطہ آغاز ثابت ہو تاکہ انسان کی انسان سے محبت کی طرح زندگی بسر کریںحیوانوں کی طرح نہیں۔

احترام آدمیت زندہ باد۔ پاکستان زندہ باد


ای پیپر