عربی ، عربی دانی اور قرآن فہمی (۲)
05 نومبر 2019 2019-11-05

عزیزان ِ گرامی!تمہید ہمیشہ طولانی کر دیتا ہوں‘ُ تمنا مختصر ہوتی ہے۔ مدعائے کلام یہاں چند فکری اشکال کا رفع کرنا ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر یہ خیال رواج پا گیا ہے ، اوراس خیال کی بھرپور اشاعت بھی کی جاتی ہے کہ جب تک ترجمہ نہیں پڑھو گے ، قرآ ن پڑھنے کا کیا فایدہ؟ یہ تو طوطے کی طرح رٹا ہوجاتا ہے، خالی تلاوت کس کام کی‘ جب تک یہ معلوم نہ پڑے کہ کہا کیاجارہا ہے؟ اس فکر کی وکالت میں یہ مثالیں بھی دی جاتی ہیں کہ خالی ’’ڈسپرین ڈسپرین‘‘ کہنے سے بخار نہیں اترتا ‘ اور یہ کہ ڈسپرین کا تعویز باندھ لینے سے شفا نہیں ہوتی ،بلکہ ڈسپرین کھانے سے کام بنتا ہے، اور پھر یہ مثال پیش کرنے میں بھی ہمارے شعلہ بیان مقرر پیش پیش ہیں کہ ایک بڑھیا کو اس کا بیٹا شہر سے خط بھیجتا تھا اور وہ اُسے چوم چوم کر آنکھوں سے لگا کر طاق میں رکھ دیا کرتی ، اس طرح کسمپرسی میں بڑھیا مر گئی ، بعد میں راز کھلا کہ اس خط میں اُس کا بیٹا چیک بھیجتا تھا، اگر وہ عقیدت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے پڑھ لیتی تو غربت میں مرنے سے بچ جاتی … یا شاید مرنے ہی سے بچ جاتی!! بہر طور اِس قبیل کی تمام مثالیں کم آگہی کی دلیل ہیں، لوگ قران کے الفاظ کی تاثیر سے غفلت میں ہیں، وہ اِسے شائد عام مخلوق کا حادث کلام سمجھتے ہیں ‘جس کا مقصد پیغام رسائی کے علاوہ کچھ نہیں ۔ بندۂ خدا! خدا کا کلام حادث نہیں ‘ قدیم ہے۔ انسان اشیا کودیکھ کر اُن کے نام رکھتا ہے، یعنی انسان سے پہلے اشیا موجود ہیں‘ وہ اشیا کی غیر موجودگی میں اُن کے بارے میں جب کلام کرنا چاہتا ہے تو اسکے لیے لفظ اور آواز ایجاد کرتا ہے۔ اللہ مالک الملک ہر شئے سے پہلے ہے ، کوئی چیز اس کیلئے غیر موجود نہیں، وہ کُن سے پہلے کلام کرتا ہے، وہ لفظِ کُن پہلے کہتا ہے اور اشیا بعد میں ظہور پذیر ہوتی ہیں، یعنی وہاں عالم اَمر میں لفظ پہلے ہے اور اشیا بعد میں، جبکہ مخلوق کیلئے اشیا پہلے ہیں اور لفظ بعد میں۔ اللہ کے کلام میں ’’خالی الفاظ‘‘ بھی بہت بڑا خزانہ ہیں۔ ڈسپرین کا تعویز باندھنے سے سر درد ختم نہیں ہوتا، لیکن بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا تعویز ٹوپی میں رکھنے سے سر درد ختم ہو جاتا ہے ،’’ یانار کونی برداً وسلاما‘‘ صرف پڑھنے سے بخار اتر سکتا ہے، سورۃ رحمٰن کی ’’خالی تلاوت‘‘ سننے سے ڈیپریشن سے لے کر کینسر تک امراض کی شفا حاصل کی جارہی ہے، اور یہ کام پڑھے لکھے کوالیفائیڈ ڈاکٹر لوگ اپنے ہسپتالوں میں بشمول سرکاری ہسپتالوں میںکر رہے ہیں، سورۃ رحمٰن سے شفا تھراپی محض self suggestion یا placebo effect نہیں ہے ، بلکہ شماریاتی اعتبار سے قابلِ اعتبار حقیقت statistically significant phenomenonہے۔

کلامِ الٰہی سے عقیدت اس کی تفہیم میں رکاوٹ نہیں ‘ بلکہ عقیدت اور محبت تفہیم دین میں اضافے کا باعث بنتی ہے‘ کیونکہ محبت کے زیرِ اثر عقل کے ساتھ ساتھ قلب کی قوتیںبھی خوب متحرک ہو جاتی ہیں۔ قرآن ایک جامع پیغام ہے، یہ صرف اجسام کی دنیاہی سدھارنے کیلئے نازل نہیں ہوا‘ بلکہ دل کی دنیا بھی آباد کرنے کیلئے آیا ہے ۔

قرآن پڑھنے سے زیادہ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ حکم ِ قرآن ہے کہ قرآن کی تلاوت ہو رہی ہو تو خاموشی سے اس کی سماعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ارشادِ نبوی ؐ ہے کہ دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے ‘ جس طرح لوہے کو زنگ لگتا ہے ‘ اور اس زنگ کو دور کرنے کا طریقہ قرآن کی تلاوت ہے۔ گویا قرآن کی تلاوت اور سماعت قلوب کو صیقل کرتی ہے۔قلب صیقل ہو جائے تو آئینہ ہے… اور آئینے میں ہر چیز عیاں ہو جاتی ہے، کچھ کہنے سننے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی… کسی تشریح اور تفسیر کی چنداں ضرورت نہیں رہتی۔ شنیدہ کَے مانند ِ دیدہ …کہا جاتا ہے کہ سنا ہوا دیکھے ہوئے کہ برابر نہیں ہو سکتا۔ باطن سے چلنے والا پیغام باطن ہی میں پہنچ کرکما حقہ سمجھ میں آئے گا۔ باطن کی دنیا میں پہنچ کر …بحث وتمحیص ایک دم ختم شد… مشاہدہ ہے اور حیرت ہے… اور پھر عکس در عکس کی طرح حیرت در حیرت!!

عزیزانِ من! تحریر شدہ قرآن کریم جسے مصحف کہا جاتا ہے ‘ تقریباً چھ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کی تلاوت سے ہم غفلت کا شکار ہیں۔ حالانکہ روزانہ کی بنیاد پر تلاوت ہمارا معمول ہونا چاہیے، اس کی تلاوت ہمارے دل کے قفل بھی کھولے گی اور خفتہ روحانیت کو بیدار کرے گی۔ یہ کلام ‘ کلامِ الٰہی ہے… او ر ہم بخوبی جانتے ہیں کہ بارِ الٰہی کا ایک حرفِ کُن پوری کائنات تخلیق کرسکتا ہے۔ کلام ِ الٰہی کا کوئی بھی لفظ ہماری باطنی کائنات کو غیب سے شہود میں لانے کا باعث بن سکتا ہے۔ پس اپنی تقدیر کے حرفِ کُن تک پہنچنے کیلئے ہمیں باربار قرآن کی تلاوت کرنا ہو گی۔ ہر نماز کے بعد اگر ایک رکوع کی تلاوت کر لی جائے تو ایک دن میں ایک سیپارے کا ربع یا ثلث مکمل ہو جاتا ہے اور یوں تین دن میں ایک سیپارہ اور تین ماہ میں قرآن کریم کی تلاوت مکمل سکتی ہے۔ قرآن کے سبب نماز کی باقاعدگی بھی میسر آئے گی۔ ایک رکوع کی تلاوت میں بس پانچ سے دس منٹ لگتے ہیں۔ تلاوت اس طرح کرنی چاہیے کہ ہماری آواز ہمارے کان ضرور سن پائیں۔ تلاوت کا صوتی حسن ہمارے باطن کو حسین کر تا ہے۔ قرآنی الفاظ کے صوتی آہنگ sonic rythm ہمارے بکھری ہوئی سوچوں اور وجود کی بے ربط لرزشوں کو شفایاب کرتے ہے۔ قرآن ظاہر وباطن میں شفا ہے۔ شہد کی طرح قرآن بھی ’’شفا ء اللناس‘‘ ہے۔

سامعین کرام! لفظ شعور کی سواری ہے، شعور لفظوں کے پر لگا کر پرواز کرتا ہے۔ ذرا ایک لمحے کیلئے اس براق صفت لفظ کا تصور کریں جو براہِ راست خالقِ کائنات نے فرمایا ہوا ہے۔ قرآن کے الفاظ ہمارے شعور کو برق رفتار کرتے ہیں، خود کو روشن کرنے کا یہ ایک ایسا خزینہ ہے جس سے ہم غفلت کے اندھیرے ہیں۔

عربی پڑھانے والے کہتے ہیں‘ قرآن ِ کریم میں ایک ماخذ سے تعلق رکھنے والے تقریباً ۱۸۰۰ الفاظ ہیں، یعنی یہ root words ہیں، جنہیں حروف ِ اصلی(مادہ) کہہ لیں، مثلاً عابد، معبود، عبادت کا ماخذ ’’عبد‘‘ ہے۔ اگر اصلی ماخذ تک پہنچ جائیں تواس ماخذ سے نکلنے والے تمام الفاظ کی تفہیم ہو جاتی ہے۔ ڈیرہ غازی خان سے قرآن سکھانے والے ایک معلم مشتاق مزاری بتا رہے تھے کہ ان میں تقریباً ۱۲۰۰ الفاظ ایسے ہیں جو ہم روز مرہ اُردو زبان میں بھی استعمال کرتے ہیں، باقی چھ سو الفا ظ ( یا ماخذات) یاد کرنا قطعاً مشکل کام نہیں، روزانہ صرف دو لفظ بھی یاد کریں تو ایک سال سے پہلے ہم تمام قرآنی الفاظ و ماخذات سیکھ سکتے ہیں۔ ہمیں عربی زبان کم از کم اتنی تو ضرورآنی چاہیے جتنا ہمیں انگریزی آتی ہے۔ انگریزی ہم اس لیے سیکھتے ہیں کہ باہر کی دنیا سے ہمارا رابطہ موثر ہو سکے … عربی ہم اس لیے سیکھ لیں کہ اندر کی دنیا سے رابطہ استوار ہو جائے… مگرکیا کریں… پڑتی ہے اس میں محنت زیادہ … کہ اس میں زبان دانی کے علاوہ اخلاص اور توجہ بھی درکار ہے۔ عربی کے معلمین بتاتے ہیں کہ عربی کی بنیادی گرامر سیکھنے کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ چھ ہفتے ہے، اگر کسی کی اُردو اچھی ہو تو یہ دورانیہ چار ہفتوں تک بھی مختصر ہو سکتا ہے۔ ہمیں عربی زبان میں اتنی شدبد ضرور حاصل کر لینی چاہیے کہ تلاوت سنتے ہوئے مفہوم ِ آیت سمجھ میں آجائے۔ آخر ہم اپنے شوق سے فرانسسیسی ، جرمن اور فارسی زبانیں بھی تو سیکھ رہے ہوتے ہیں، ہم اس سے زیادہ ذوق اور شوق سے اپنے پیارے رسولِ عربیﷺ کی زبان کیوں نہ سیکھیں۔

عربی دانی کا ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم کروڑں عربوں سے رابطے میں آجاتے ہیں۔ عربوں سے رابطے سے اربوں کا فائدہ ہو سکتا ہے۔ قرآن فہمی کیلئے عربی سیکھنے کا اصل فائدہ یہ ہے کہ بندہ مسلکی اور گروہی پھندوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ وگرنہ جگہ جگہ آج کل قرآن فہمی کی آڑ میں لوگ اپنا سیاسی اور مسلکی چورن بیچ رہے ہیں۔ تراجم اور تفاسیر میں جابجا تصرفات ایک حقیقت پسند سیدھے سادے مسلمان آدمی کے راستے کی بڑی رکاوٹ ہیں… یہ تصرفات دراصل تجاوازت ہیں۔ شاہراہِ فکرو عمل کو صاف کھلی رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہر پڑھا لکھا مسلمان قرآن فہمی کیلئے عربی زبان سیکھنے کی طرف متوجہ ہو۔توجہ حاصل ہوجائے تو باقی کام از خود ہوتا رہتا ہے۔بس رخ سیدھا کرنے کی دیر ہے… فکر و نظر کا رخ سوئے مدینہ و نجف ہو جائے تو صفیں ازخود سیدھی ہونے لگتی ہیں۔ قرآن فہمی کیلئے زبان دانی سے پہلے وضو کی ضرورت ہے… نیت کا وضو… جسے تقویٰ بھی کہا جاتا ہے!!

با ت ترجمے کی نہیں‘ بات معانی کی ہے … اور معانی کی تنزیل قلب پر ہوتی ہے۔ قلب جائے محبت ہے، اور ادب محبت کا پہلا قرینہ ہے۔ جب تک دل میں ادب جاگزیں نہ ہو‘ ترجمۂ قرآن سے تفہیم ِ قرآن ممکن نہیں۔

( لمز یونیورسٹی میں عربی کورس کے طلبا سے گفتگو)


ای پیپر