فردوس عاشق اعوان نے دوبارہ معافی مانگ لی
05 نومبر 2019 (14:16) 2019-11-05

اسلام آباد: وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے توہین عدالت کیس میں ایک بار پھر عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی جسے عدالت نے فی الحال قبول نہ کرتے ہوئے انہیں پیر تک تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں فردوس عاشق اعوان عدالت کے روبرو پیش ہوئیں۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ میرے بارے میں کچھ بھی کہیں، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، بارکے سینئر عہدیدار نیاز اللہ نیازی کی درخواست پر دھرنے میں گرفتار افراد کی درخواستیں اتوار کو سنی گئیں اور اس عدالت نے دھرنے کے دوران گرفتاریوں سے روکا تھا۔

 چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے فردوس عاشق اعوان سے استفسار کیا کہ ڈاکٹر صاحبہ آپ پی ٹی آئی کے دھرنے میں تو تھیں، جس پر انہوں نے کہا کہ جی نہیں، میں نے اس کے بعد پی ٹی آئی جوائن کی، چیف جسٹس نے کہا کہ 2014 میں پی ٹی آئی نے دھرنے کے حوالے سے جو پٹیشنزدائرکیں تھیں وہ ہم نے سنیں، آج کے صدرعارف علوی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی درخواست گزار تھے ۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے صرف قانون کے مطابق چلنا ہوتا ہے، عدالت نے کسی ایک فریق کی حمایت نہیں کرنی ہوتی، ہر جج نے اللہ کو حاضر ناظر جان کر حلف اٹھا رکھا ہے، سنگین جرم یا دہشت گردی کے ملزم کو بھی فیئر ٹرائل کا حق ہے۔دورانِ سماعت فردوس عاشق اعوان نے ایک بار پھر عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی ۔


ای پیپر