نیر،فضائے شہر اب اندوہ ناک ہے
05 نومبر 2019 2019-11-05

قارئین، پچھلی دفعہ میں نے شاید غلطی سے یا خوش قسمتی سے اپنا فون نمبر لکھ کر قارئین سے ان کی رائے مانگی تھی میں نے اس تحریر میں بلکہ گزشتہ کئی تحریریں کشمیر کے بارے میں لکھ چکا ہوں، برسبیل تذکرہ ،اس میں ہندوستان کے مغلیہ بادشاہ ظہیرالدین بابر کے ہندوستان میں بادشاہت کے دوران تجربات، اوررائے بھی لکھ دی تھی، اور یہ کہا تھا ، کہ آئندہ امیر تیمور بھارت کے بارے میں کیا کہتا ہے ، قارئین کو بتاﺅں گا، تو اللہ بھلا کرے قارئین کا انہوں نے مجھے اتنے فون کیے کہ مجھے دانشور کی وہ بات یاد آگئی، کہ بے احتیاطی سے کوئی بات منہ سے نکل جائے، یا وعظ کرتے وقت غلط رائے قائم کرلی جائے، تو تحریر کے بعد تشریح کرنے پر اس کی درستگی ہوسکتی ہے یا اس سے انحراف وانکار بھی ہوسکتا ہے ، لیکن بات جب تحریر میں آجائے تو پھر اس سے انکارمشکل ہی نہیں ناممکن ہوجاتا ہے ۔ اس لیے میں نے پہلے تو ذہن میں زوردیا، کہ امیر تیمور نے کیا بات کہی تھی، مگر جب دل کو سکون نہ ملا، تو پھر میں نے امیر تیمور کی وہ تحریر ڈھونڈی کہ جس کو دوبارہ پڑھ کر میں پورے وثوق سے لکھ سکوں۔

قارئین ، کچھ عرصے پہلے آپ نے پاکستانی حدود عبور کرکے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کا حلیہ ملاحظہ کیا ہوگا، جن کی مونچھیں اپنی جگہ کے علاوہ منہ کی حدودوقیود کو پار کرکے نیچے لٹک کر ایسے لگ رہی تھیں کہ جیسے تار پہ پاجامہ ٹنگا ہوتا ہے ....مگر اس حلیے کا انجام کیا ہوا؟کیا اس کومٹی چٹانے والے پاکستانی عسکری جوان اس سے ذرہ برابر متاثر ہوئے؟ بقول سید مظفر علی شاہ ابھی نندن کو گرتے دیکھ کر دوسرا بھارتی پائلٹ اپنا فریضہ بھول کررات کے اندھیرے میں بھارت بھاگ گیا۔

تنہائی ہے ، سناٹا ہے

ہرآہٹ سے ڈرآتا ہے

وحشت میں جو نکل گیا تھا

دیکھیں وہ کب گھر آتا ہے

قارئین، بات زیادہ لمبی ہوجانے سے پہلے امیر تیمور کی بات سن لیں، امیر تیمور کا مو¿قف بھی ظہیرالدین بابر والا ہے ، کہ کافر جتنی محنت وقت ، اور زور مونچھیں بنانے پر صرف کرتے ہیں، میدان جنگ میں ان کی یہ محنت اکارت جاتی ہے ، جنگ میں صرف اور صرف زور بازوہی کام آتا ہے ، لہٰذا ایک فوجی کو خواہ وہ سپہ سالار ہو، خواہ وہ ایک عام سپاہی ہو، تمام وقت زور بازو پہ اور جنگی مشقوں اور بہترین تربیت پہ صرف کرنا چاہیے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تحصیل کے نمبردار جتنا ایک شخص بابر بھارت پر چڑھ دوڑا اور پورے ہندوستان پہ قابض ہوگیا۔ امیر تیمورکہتے ہیں کہ میری طرح میرے سپاہی بھی دشمنوں کی مونچھوں کو خاطر میں نہیں لاتے، امیر تیمور نے جب قلعہ دہلی پہ قبضہ کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی غرض سے قلعے کا چکر لگایا، تو انہوں نے دیکھا، اوریہ لوگ سمجھ گئے، کہ میں فوج کا سپہ سالار ہوں، اسی روز سہ پہر کے بعد جب سورج ڈھل رہا تھا، ایک آدمی جس نے سرخ لباس پہنا ہوا تھا، فصیل پہ نمودار ہوا، اس نے ہاتھ اوپر اٹھایا، اور زور سے مجھے پکارا امیر تیمور میں نے بھی جواباً اپنا ہاتھ اوپر اٹھایا، اور زور سے آواز دی، کہ میں ہی ہوں امیر تیمور، تو کیا کہنا چاہتا ہے ، بعد میں مجھے پتہ چلا کہ نہ تو وہ میری زبان سمجھتا ہے اور نہ ہی میرے پلے اس کی کوئی بات پڑی تھی، چنانچہ میں نے اپنے ترجمان سے یہ بات کہی کہ اسے میری بات سمجھاوے، اور ترجمان نے مجھے بتایا کہ یہ شخص دہلی کے سب سے بڑے مندر کا برہمن تھا، اور ہندوﺅں میں اس کا مقام ومرتبہ ایسے تھا، جیسے ہم مسلمانوں میں کسی بڑے روحانی پیشوا کا ہوتاہے۔ میں نے ترجمان سے کہا کہ وہ اس سے پوچھے کہ اسے مجھ سے کیا کام ہے ؟ کچھ دیر میرا ترجمان اس سے بات چیت کرتا رہا، پھر اس نے مجھ سے کہا کہ یہ برہمن مجھ سے کہہ رہا تھا کہ اپنے امیر تیمور سے کہو کہ وہ دہلی کا خیال چھوڑ دے ورنہ ہمارا ”برہما“ اسے سخت سزادے گا، میں نے اس سے پوچھا، کہ ”برہما“ کون ہوتا ہے ؟ اور وہ مجھ کو کس طرح سزادے گا؟ برہمن نے جواب دیا کہ برہما وہ ذات ہے کہ جس نے زمین اور آسمان تخلیق کیے، اور انسانوں کو پیدا کیا، اور تو بھی برہما کے اختیار میں ہے ، میں نے اس سے پوچھا، کہ وہ کس طرح مجھے سزادے گا، تو اس نے مجھے کہا کہ اگر تونے یہ شہر نہ چھوڑا، تو تمہاری عمر کم ہوجائے گی، اس طرح کی بچگانہ بات پر مجھے ہنسی آگئی، کیونکہ ہم مسلمانوں کا ایمان و ایقان ہے ، کہ بقول سید مظفرعلی شاہ

ہرشے ہے کونین میں ناقص

مولا صرف مکمل تو ہے !

تیری ذات سمجھ سے باہر !

مجمل اور مفصل تو ہے !

توہی ظاہر تو ہی باطن!

آخرتو ہے ، اول تو ہے !

برہمن نے امیر تیمور کو مزید دھمکی دی، کہ اگر تو نے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی، تو تیری طبعی عمر میں سات سال کی کمی واقع ہو جائے گی، اور پھر یہ امکان بھی ہے کہ تو جنگ میں مارا جائے، اور اگرتو یہ شہر چھوڑ کر چلا جائے، تو پھر مزید 21برس کی زندگی پائے گا۔

ظہیرالدین عمر، میرا ساتھی میرے ساتھ کھڑا تھا، میں نے اس سے کہا کہ تم نے سنا کہ یہ شخص کیا کہہ رہا ہے ، تو اس نے جواب دیا کہ امیر تیمور تو تو ایسا شخص نہیں ہے ، کہ جو اس قسم کی دھمکیوں سے ڈر جائے، برہمن بولا امیر تیمور تو اس وقت تریسٹھ برس کا ہوچکا ہے ، اگر تو چلا گیا تو چورانوے برس کا ہو جائے گا، میں نے سرخ پوش سے کہا کہ موت اور میں پرانے ساتھی ہیں، اس پر اس نے کہا کہ اگر تم نے ایسا نہ کیا، تو تجھے اپنے بیٹے کے مرنے کی خبر پہنچے گی، میں نے اسے کہا، کہ میرے جتنے ساتھی ہیں، میں ان کا باپ ہوں، برہمن نے کہا کہ میں تجھ سے اور کچھ نہیں کہتا، اور پھر وہ چلا گیا۔

قارئین بھارتی نجومیوں، جوتشیوں اور پنڈتوں بلکہ پنڈت جواہر لعل نہرو سے لے کر مودی تک کونسا ایسا بھارتی حکمران ہے جس نے پاکستان کو تسلیم کیا ہو، سوائے واجپائی کے کہ جس کو پاکستان کا ایک وزیراعظم قرارداد پاکستان کے اس مقام تک لے گیا تھا، جہاں پہنچ کر اس نے کہا تھا کہ پاکستان ایک حقیقت ہے ، اور میں اسے دل سے تسلیم کرتا ہوں پاکستان کو یہ سوچے بغیر اور اوراق تاریخ کو الٹائے بغیر انحراف حقیقت بین کرنا چاہیے کہ الحمد للہ مشرقی اور مغربی پاکستان قائم ودائم، اور پائندہ وتابندہ ہیں، یہ الگ بات ہے کہ قلوب واذہان میں تفاوت نظر آتی ہے ، مگر ایک ایسی بات جس کا روزالست میں تجدید کا مرحلہ بھی پیش آچکا ہے ، حکومتیں آنی جانی ہوتی ہیں نظریات عقائد اور بیانات ایسی انمٹ حقائق کا احاطہ کیے ہوئے ہیں کہ اس سے بہرکیف انحراف ممکن نہیں ہوتا۔ امیر تیمور کے عقائد، چونکہ وہ حافظ قرآن بھی تھا، حجاج بن یوسف، ایک مسلمان بچی کی پکار پر ہزاروں میل دورصوبہ سندھ تک آپہنچا تھا، کیا اس وقت مقبوضہ کشمیر میں ظلم وجبر کے بارے میں مسلمانوں کے نظریات تبدیل ہوگئے ہیں، نہیں محض تبدیلی سرکار ہوئی ہے ،

نیر فضائے شہر اب اندوہ ناک ہے

یہ ساعتیں خدا کرے ارباب دیکھ لیں


ای پیپر