مرحوم دلدار بھٹی اور عظیم عارف لوہار!
05 نومبر 2019 2019-11-05

جاپان کے دوہفتے کے کامیاب دورے کے بعد وطن واپسی پر مختلف دوستوں، عزیزوں، اُن کے بال بچوں اور بہن بھائیوں کی شادیاں ایسی حملہ آور ہوئیں بہت سے ضروری کام رہ گئے۔ ایک ایسا ضروری کام بھی رہ گیا جس پر افسوس ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، وہ ضروری کام یہ ہے 30اکتوبر 1994ءکو میرے دوست دلدار پرویز بھٹی انتقال فرما گئے تھے۔ تب سے لے کر اب تک شاید ہی کوئی برس ایسا گزرا ہوگا اُن کے یوم وفات پر کالم لکھ کر میں نے اُنہیں یاد نہ کیا ہو، میں اُنہیں بھُولا ہی کب ہوں؟ ۔ روزانہ دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں کہیں نہ کہیں اُن کا ذکر خیر ضرور ہوتا ہے، جاپان میں بھی دوستوں کی کئی محفلوں میں ان کا ذکر ہوا، ہم سب مِل کر اُن کے وہ خوبصورت اور فی البدیہہ جملے یاد کرتے رہے جنہیں سن کر بڑے بڑے مرجھائے چہرے کھل جایا کرتے تھے، اُن کا تعلق ”ٹیلنٹ سٹی“ گوجرانوالہ سے تھا، گوجرانوالہ نے بڑے بڑے پہلوان ہی نہیں بڑے بڑے فنکار بھی پیدا کیے، ایک اُن میں دلدار پرویز بھٹی بھی تھے، کچھ لوگوں کی شناخت اُن کے شہر ہوتے ہیں، اور کچھ شہروں کی شناخت کچھ لوگ ہوتے ہیں، گوجرانوالہ کی شناخت دلدار پرویز بھٹی سے تھی۔1992ءمیں، میں پہلی بار ناروے (اوسلو) گیا وہاں ایک صاحب مجھ سے ملے، اُنہوں نے مجھے بتایا میرا تعلق پاکستان کے ”شہردلدار“ سے ہے، میں اُس وقت دلدار پرویز بھٹی کو زیادہ نہیں جانتا تھا، میں نے اُن سے پوچھا”شہردلدار “ کون سا ہے ؟ وہ فرمانے لگے ”ہم گوجرانوالہ کو“ شہر دلدار “ کہتے ہیں“،....جاپان میں مقیم اکثر پاکستانی دوستوں کا تعلق ”شہر دلدار “ سے ہے۔ اس نسبت سے بھی جاپان کی تقریباً ہرمحفل میں ہم نے اُنہیں بہت یاد کیا، اس دوران قہقہوں کی پٹاری کھل جاتی جو اس المیے پر بندہوتی وہ بہت جلد ہم سے جدا ہوگئے تھے۔ میں اکثر سوچتا ہوں آج ہمارے اردگرد ایسی ویرانیاں، پریشانیاں ہرگز نہ ہوتیں دلدار پرویز بھٹی اگر زندہ ہوتے، وہ دنیا میں شاید قہقہے تقسیم کرنے ہی آئے تھے، پھر جانے کیا ہوا وہ سب کو رُلا کر چلے گئے، ....29اکتوبر کو میں جاپان سے وطن واپسی کی تیاری کررہا تھا، جاپان میں مقیم پاکستانی دوستوں نے بے پناہ محبت اور خدمت کے علاوہ اتنے تحائف سے نوازا پورے دو دن اُنہیں پیک کرنے میں گزر گئے۔ اُوپر سے کالم لکھنے کے لیے خاص ماحول درکار ہوتا ہے، جس طرح مرغی انڈہ دینے کے لیے ایک جگہ مخصوص کرلیتی ہے، اس کے علاوہ کہیں اور انڈہ دینے میں اُسے شدید اذیت سے گزرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں بعض اوقات وہ انڈہ ہی نہیں دیتی، اُسی طرح ہم لکھنے والوں کو، خصوصاً مجھے جب تک ایک خاص ماحول اور تنہائی وغیرہ نہ ملے مجھ سے ایک سطر نہیں لکھی جاتی ، .... سومیں اکثر ایسے کرتا ہوں بیرون ملک جانے سے پہلے کچھ کالم ایڈوانس لکھ لیتا ہوں، اس بار مگر کچھ نجی مصروفیات کے باعث ایسے نہ کرسکا۔ نواسے کی پیدائش پر مبارکباد کے لیے گھر میں مہمانوں کا تانتا بندھا ہوا تھا، ایک بار ارادہ کیا جاپان کا دورہ ملتوی کردوں، جاپان میں اپنے عظیم دوستوں جناب امتیاز احمد (جاپان میں پاکستان کے سفیر) اور برادر محترم افضل چیمہ سے گزارش کروں ”فی الحال مجھے معاف فرما دیں۔ آپ کی میزبانی کا لطف میں کچھ عرصے بعد اُٹھاﺅں گا “۔ مگر ہوا یہ جناب امتیاز احمد سفیر پاکستان کے پاکستان میں جاپانی سفارتخانے کو میرے لیے لکھے گئے دعوتی خط پر جاپانی سفارتخانے نے فوراً ویزہ جاری کردیا، جاپان کا ویزہ مشکل سے ہی ملتا ہے چاہے ”ٹریول ہسٹری“ کتنی ہی بہتر کیوں نہ ہو، ....ویزہ ملنے کے بعد جاپان میں مقیم دوستوں کا اصرار بڑھ گیا کہ مجھے ضرور آنا چاہیے، سو کچھ ضروری کام اُدھورے چھوڑ کر مجھے جانا پڑ گیا، ان میں سب سے ضروری کام مرحوم دلدار پرویز بھٹی کی برسی پر ایڈوانس کالم لکھنا تھا، مجھے پتہ تھا جاپان جاکر میں نہیں لکھ سکوں گا۔ اور ایسے ہی ہوا۔ سو اب اُن کے یوم وفات کے پانچ یوم بعد اُن کی یاد میں کالم لکھ کر میں اپنی روایت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگیا ہوں، .... کل میرے عزیز ترین بھائی ذوالفقار بٹ کے بڑے صاحبزادے شہریار علی بٹ کی شادی تھی، وہاں عارف لوہار بھی تھے، وہ 1994ءمیں شوکت خانم ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کی اس تقریب میں موجود تھے جس میں دلدار بھٹی کو برین ہمیرج ہوا اور وہ وہیں دم توڑ گئے۔ پاکستان میں دلدار کے گھر اور اُن کے دوستوں کو اس سانحے کی سب سے پہلے اطلاع عارف لوہار نے ہی دی تھی۔ عارف لوہار فرما رہے تھے وہ لمحات اور صدمہ وہ آج تک نہیں بھولے۔ کہنے لگے ” دلدار بھٹی کو میں آج تک نہیں بھُولا ۔ میں نے اُن سے بہت کچھ سیکھا۔ وہ میرے اُستاد تھے“ .... میرا خیال تھا وہ یہ بات احتراماً اُن کی محبت میں کہہ رہے ہیں، مگر اپنی اس بات کا عملی ثبوت انہوں نے یہ دیا شہر یار علی بٹ کی شادی میں اُنہیں بطور گلوکار نہیں بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا۔ شادی کے شرکاءنے اچانک ان سے گانے کی فرمائش کردی وہ انکارنہ کرسکے۔ میرا خیال تھا وہ ایک آدھ گانا ہی سنائیں گے۔ مگر لوگ فرمائشیں کرتے گئے وہ سناتے گئے۔ اس دوران ان پر نوٹوں کی برسات ہوتی گئی۔ تین چار بڑے تھیلے نوٹوں سے بھر گئے۔ انہوں نے اعلان کیا وہ یہاں سے ایک روپیہ بھی نہیں لے کر جائیں گے ۔یہ ساری رقم انہوں نے شادی کے ویٹرز اور آرکسٹراپر بیٹھے نوجوانوں میں تقسیم کردی، ....تب میں نے سوچا اتنی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ دلدار پرویز بھٹی سے سچی محبت کرنے والا ان کا کوئی شاگرد ہی کرسکتاہے، جس معاشرے میں چند سکوں کی خاطر لوگ ایک دوسرے کی جان لے لیتے ہوں وہاں ایک لوک فنکار بلکہ ”اللہ لوک فنکار “ لاکھوں روپے مستحقین میں تقسیم کردے یہ کوئی معمولی عمل نہیں ہے۔ دلدار پرویز بھٹی بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے، اس حوالے سے اُن کی ایسی ہی ”دریا دلی“بلکہ ” سمندر دلی“ کے کئی واقعات میرے ذاتی نوٹس میں ہیں کہ اپنی ضرورتوں کو نظر انداز کرکے وہ مستحقین کی ضرورتیں پوری کردیا کرتے تھے۔ اتنے بڑے فنکار کا جب انتقال ہوا تو دومرلے کا اپنا گھر بھی اس کے پاس نہیں تھا، دنیا میں اُس نے کوئی گھر نہیں بنایا وہ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں رہا، دلوں میں رہنے والوں کو دنیا میں کسی گھر کی شاید ضرورت بھی نہیں ہوتی ۔


ای پیپر