ڈیمز پاکستان کےلئے لمحہ فکریہ
05 نومبر 2018 (23:26) 2018-11-05

امتیاز کاظم

جغرافیائی سیاست میں ہائیڈرو پالٹکس کی نذر ہونے والا کالاباغ ڈیم ایک مضبوط، مربوط اور قابل عمل منصوبہ تھا، اگر اس پر کچھ لو کچھ دو کی پالیسی کے تحت صوبوں میں اتفاق رائے پیدا کیا جاتا، مگر اندرونی اور بیرونی قوتوں نے مل جل کر اسے اتنا متنازعہ بنا دیا کہ اب اس کا نام لینا بھی جرم ٹھہرتا ہے۔ کسی نے مردہ گھوڑا قرار دیا تو کسی نے کہا ہماری لاشوں پر سے گزر کر ہی ڈیم بنایا جا سکتا ہے تاہم متبادل کے طور پر دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کے نام سامنے آئے۔


دیامیر، بھاشا ڈیم دریائے سندھ پر چلاس کے مقام پر واقع جگہ ہے۔ چلاس خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان کا علاقہ ہے جو تربیلا سے 315 کلومیٹر اُوپر کی جانب اور چلاس سے 40کلومیٹر نشیب میں واقع ہے۔ ڈیم کی اُونچائی 272 میٹر اور اس میں 6.4 ایم اے ایف (ملین ایکڑفٹ) پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی۔ اس پانی کو آبپاشی کے پانی میں اضافے کے لیے استعمال کیا جائے گا جبکہ یہاں لگنے والے ہائیڈرو پاور پلانٹ کی مدد سے 4500 میگاواٹ بجلی سالانہ پیدا کی جا سکے گی یقینا یہ ایک بھرپور اور جامع منصوبہ ہے۔ اگر سیاست یا کرپشن کی نذر نہ ہو گیا تو آب پاشی کے لیے پانی اور کے لیے بجلی یہ ہی دو بڑے مسائل ہیں جو اس منصوبہ سے حل ہوں گے۔


مہمند ڈیم دریائے سوات پر تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ مہمند دراصل خیبرپختونخواہ کا قبائلی ضلع ہے جسے مہمند ایجنسی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ قبائلی ایجنسیوں کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا رہا ہے۔ مہمند میں قائم منوڑا ہیڈورکس / ڈیم سے پانچ کلومیٹر اُوپر کی طرف مہمند ڈیم کی سائٹ تجویز ہے۔ یہ 213 میٹر اُونچا ڈیم ہو گا اور اس میں 0.676 ایم اے ایف (ملین ایکڑ فٹ) پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا اور اس سے 16737 ایکڑ رقبے کو سیراب کیا جا سکے گا جو کہ آب پاشی کے نظام میں بڑا سہارا ہو گا۔ یہی نہیں بلکہ پشاور کو پینے کے لیے پانی بھی مہیا ہو گا اور اضافی طور پر 800 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی جسے اگر پشاور کو سپلائی کیا جائے گا تو صوبے کو اس سے بڑا سہارا ملے گا اور اگر اس بجلی کو نیشنل گرڈ سٹیشن میں شامل کیا جائے گا تو بجلی کی لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی ہو گی یعنی دیامیر سے 4500 میگاواٹ اور مہمند سے 800 میگاواٹ بجلی میسر ہوگی۔


دراصل واٹر انفراسٹرکچر کی پائیدار ترقی ہی ملکی بقاءکی ضمانت ہے اور میگاہائیڈل پراجیکٹ بجلی کی سستی ترین پیداوار کے حامل منصوبے ہیں۔ پاکستان کے پاس دریائے سندھ ہی وہ واحد دریا ہے جس میں سارا سال پانی کی روانی اور مسلسل بہاﺅ رہتا ہے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دریا کا پانی دوسرے دریاﺅں میں ڈالا جائے اور آبپاشی کا وسیع ترین انفراسٹرکچر قائم کیا جائے۔ ایک موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے جس سے ہم پانی کی کمی سے دوچار مسئلے کا حل تلاش کرسکتے ہیں ورنہ عالمی سطح پر پیش گوئیاں کی جارہی ہیں کہ جنوبی ایشیا میں آئندہ جنگ پانی پر ہوسکتی ہے۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان کو وافر پانی رکھنے والا ملک سمجھا جاتا تھا لیکن ناقص حکمت عملی، غیرموثر منصوبہ بندی اور پانی کے ناکافی ذخائر کی وجہ سے اب یہ ملک پانی کی کمی کے شکار ممالک میں شامل ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیاں بھی اس میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ”گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس“ کی 2018ءکی رپورٹ یہ کہتی ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر سات ممالک میں شامل ہے۔

دراصل ہمارا کُلی طور پر انحصار ایک ہی طاس (Basin) پر ہے یعنی Indus Basin پر۔ ایسے ممالک جن کا انحصار Multiple Basin پر ہوتا ہے وہ زیادہ استعداد کے حامل ہوتے ہیں۔ انڈس بیسن میں بھی ”اپرانڈس بیسن“ میں ہائیڈرولوجیکل سسٹم صحیح نہیں ہے جس کا ذکر 2017ءکی ”یواین ڈی پی“ میں بھی کیا گیا ہے۔ یواین او نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ” پاکستان نے انڈس بیسن سسٹم“ پر سائنسی بنیادوں پر تحقیق نہیں کی اور یونیورسٹیوں نے بھی اسے کچھ حد تک نظرانداز کیا۔ ایک اہم بات یہ کہ پاکستان کے اس قابل اعتماد زیر زمین پانی کا ڈیٹا بھی موجود نہیں ہے تاہم یہ عالمی جریدوں کے ریکارڈ پر پاکستان نے واٹر پالیسی جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ”دیرآید درست آید“ کے مصداق اپریل میں پالیسی جاری ہو گئی لیکن منظوری کے مراحل میں ہے شاید مارچ 2019ءمیں منظوری کے مراحل سے بھی گزر جائے۔ سندھ طاس معاہدے سے معرض وجود میں آنے والا انڈس بیسن ری فیسمنٹ ورک اپنی معیاد پوری کرگیا ہے کیونکہ ڈیمز میں بھی ”گارا“ یا ”سلٹ“ کافی مقدار میں جمع ہونے سے ڈیمز کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کافی حد تک متاثر ہو چکی ہے۔ سالہاسال تک اس بات کے لیے کوئی قدم نہیں اُٹھایا گیا کہ سلٹ جو جمع ہو رہا ہے، اس کی نکاسی کا بھی کوئی بندوبست کیا جائے کیونکہ جو انتظام یا بندوبست اب تک کیا گیا ہے وہ ناکافی ہے۔ سلٹ کی وجہ سے ایک ڈیم میں اگر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں 30فیصد بھی کچرا آئے تو ایک ایسا ملک جس میں ڈیمز پہلے ہی محدود تعداد میں ہیں وہ 30 فیصد کمی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یقینا اس مسئلے کی طرف بھی ہنگامی طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔


سندھ طاس معاہدے کے بعد اس دور کے دو بڑے ڈیمز ، پانچ بیراج، سات لنک کینال اور دو بڑے گرڈ سٹیشن بنائے گئے لیکن بڑھتی ہوئی آبادی کو نظرانداز کر دیا گیا ۔ چنانچہ اس بڑھتی ہوئی آبادی نے ملک کو آبی وسائل کی کمی کا شکار بنا دیا۔ ایک گھر جس میں تین سے پانچ افراد تھے آج وہ بڑھتے بڑھتے ایک گھر سے دس گھروں پر مشتمل ہو چکا ہے۔ اسی حساب سے پانی اور خوراک کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے لیکن ہمارے پاس پانی جمع کرنے کے ذخیرے اتنے ہی ہیں جتنے آج سے تیس چالیس سال پہلے تھے۔ لہٰذا اناج اور پانی کی کمی یقینی ہے اسی لیے پاکستان قلیل آبی ذخائر والا ملک بن کر رہ گیا ہے۔


پاکستان کی واٹر پالیسی کے مطابق 1951ءمیں 5260 کیوبک میٹر سے لے کر 2016ءتک ایک ہزار کیوبک میٹر کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ آبی ماہرین کے مطابق اگر یہی صورت حال رہی تو 2040ءتک پاکستان دُنیا کے شدید آبی قلت والے ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا۔ پاکستان 145 ملین ایکڑ فٹ تازہ پانی کا صرف 10فیصد ذخیرہ کر سکتا ہے اور یہ استعداد بہت ہی کم ہے اور اب پاکستان کا شمار پانی کی کمی کے شکار 30 ممالک میں ہوتا ہے۔ پانی کے شعبہ پر جو گزشتہ تیس پینتیس سال میں رپورٹیں مرتب کی گئی ہیں، اُن میں سے اگر صرف چند ایک کا ہی جائزہ لیا جائے تو پریشان کُن صورت حال سامنے آتی ہے۔ ان رپورٹوں میں سے ایک کا تعلق زراعت سے ہے جو نیشنل کمیشن آن ایگریکلچر نے مرتب کی جو بے عمل رہی۔ ایک رپورٹ بین الصوبائی کمیٹی برائے پانی نے 1991ءمیں پانی کی تقسیم پر مرتب کی۔ 2012ءمیں ایشیائی بینک کے تعاون سے واٹر سیکٹر سٹرٹیجک رپورٹ تیار کی گئی جو ناکام رہی۔ 2012ءمیں دریائے سندھ کے پانی پر ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تعاون سے رپورٹ تیار کی گئی جس میں بہت سے حقائق سے پردہ اُٹھایا گیا اور تجاویز مرتب کی گئیں۔ اس کے بعد 2014ءکو پاکستان پلاننگ کمیشن فار واٹر کی آنکھیں کھولنے والی رپورٹ مرتب کی گئی۔

اس طرحرپورٹیں مرتب تو ہوتی رہیں لیکن ان پر عمل نہ ہوا۔ جمہوری حکومتوں نے اپنی جمہور کے لیے پانی کا بندوبست بالکل نہ کیا۔ ماننا پڑے گا کہ بھارت اب اگر ڈائریکٹ جنگ نہیں کر سکتا تو وہ ”اِن ڈائریکٹ“ وار آن واٹر ہم پر مسلط کیے ہوئے ہے۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ڈیم ہمارے ملک کے ہیں اور بننے بھارت نہیں دے رہا۔ کالاباغ ڈیم کی زمین معیاری ہے لیکن ایک ”ان دیکھا“ قبضہ بھارت کا ہے۔ کیا پاکستان اب اس بات کا انتظار کر رہا ہے کہ جب ہر طرف سے ”العتش العتش“ کی آوازیں آنا شروع ہوں گی۔ پاکستان میں بسنے والے انسانوں کے لیے پانی کی فراہمی پانچویں حصے کے برابر رہ گئی ہے۔ 1951ءمیں ہر شہری کو 5260 مکعب میٹر پانی سالانہ دستیاب تھا جبکہ 2016ءمیں یہ محض ایک ہزار مکعب میٹر سالانہ رہ گیا جبکہ اس میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ لاہور کے نیچے جاتے ہوئے پانی کے لیے لاہور میں جھیلوں کے منصوبے کہاں گئے، جگہ جگہ ٹیوب ویل لگا کر پانی کو اتنی بے دردی سے استعمال کیا جا رہا ہے کہ اگر ہر فرد صرف صبح ہاتھ منہ دھونے کے لیے استعمال ہونے والے پانی کو جمع کر کے دیکھے تو اسے شدید حیرت ہو گی کہ اس نے کتنا زیادہ پانی استعمال کیا ہے۔

بلوچستان کے ”نولاننگ ڈیم“ کا ابھی تک تفصیلی ڈیزائن ہی تیار ہوا ہے جس پر 18ارب لاگت آئے گی۔ مہمند ڈیم کا بھی ابھی تک تفصیلی ڈیزائن تیار ہوا ہے۔کے پی کے کا کرم تنگی ڈیم فیز I سترہ فیصد مکمل کام کے ساتھ ابھی تک ادھورا ہے۔ اس پر لاگت 24 ارب روپے ہے۔ سندھ کے ”نئی گاچ ڈیم“ پر صرف 50 فیصد کام مکمل ہوسکا ہے جس کی لاگت 26 ارب روپے ہے تاہم کے پی کے کا گومل زام ڈیم 21 ارب سے مکمل ہو چکا ہے اور ترقیاتی سکیموں پر کام جاری ہے جبکہ بلوچستان کا کھچی کینال کا منصوبہ بھی 80 ارب کی لاگت سے مکمل ہوچکا ہے اور ترقیاتی سکیموں پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ مانگی ڈیم، باسول ڈیم، پپل ڈیم اور باران ڈیم پر بھی کام جاری ہے۔ منڈا ڈیم اور بھاشا ڈیم پر بھی جلد کام شروع ہونے کی توقع ہے۔ ہمیں اپنی بقاءکے لیے ڈیمز پر پیسہ خرچ کرنا پڑے گا۔ 2012-13ءمیں صوبائی حکومتوں نے مجموعی طور پر 46 ارب روپے خرچ کیے۔ 2013-14ءمیں تقریباً 38 ارب روپے، 2014-15ءمیں 47ارب روپے، 2015-16ءمیں تقریباً 57 ارب روپے جبکہ 2016-17 ءمیں 96 ارب روپے خرچ کیے اور رواں مالی سال 2017-18ءمیں 105 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ صوبائی حکومتیں اس میں مزید بہت سا خرچ کرنے کے لیے اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کریں اور مرکزی حکومت بھی دل کھول کر خرچ کرے، ابھی ہم شدید ترین صورتحال میں یا ایمرجنسی صورتحال میں داخل نہیں ہوئے لیکن خدانخواستہ ہم ”قحط“ سے زیادہ دُور نہیں ہیں۔
٭٭٭


ای پیپر