سیاحت کا فروغ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے!
05 نومبر 2018 (23:22) 2018-11-05

حافظ طارق عزیز:
قدرت نے پاکستان کو قدرتی وسائل اور خوبصورت مقامات سے اس قدر نوازا ہے کہ اگر ہم ان سے مناسب طریقے سے استفادہ کریں تو ہمارے تمام معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہماری بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے کسی بھی دور میں اس طرف دھیان نہیں دیا۔ اگر اس حوالے سے کبھی کوئی بات ہوئی تو وہ بھی محض کاغذی منصوبہ بندی تک ہی محدود رہی۔ جس طرح سابقہ دور حکومت میں شور مچایا گیا کہ چنیوٹ میں اربوں ڈالر کا لوہا نکل آیا، فوٹو شوٹس ہوئے، واہ واہ ہوئی، اربوں کے اشتہار چلا دیے گئے ، لیکن بعد میں علم ہوا کہ وہ لوہا قابل استعمال ہی نہیں ہے.... لوہا زیر زمین تھا، عوام نے کون سا اُسے دیکھنا تھا تاہم وقتی طور پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ایسا شوشہ چھوڑا گیا.... لیکن حقیقت میں یہاں اربوں ڈالر پراجیکٹس موجود ہیں، جو نظر بھی آتے ہیں اور اُن پر کام بھی کیا جا سکتا ہے۔جن سے اگر استفادہ کیا جائے تو نہ ہمیں سعودی عرب و امریکا کی ضرورت ہو اور نہ ہی چین و ملائشیا کی۔

یہ پراجیکٹس پاکستان میں موجود 2000 چھوٹے بڑے ”سیاحتی مقامات“ ہیں جو اپنے اندر قدرتی طور پر ایسی کشش رکھتے ہیں کہ زمانہ قدیم سے سیاحت کے شوقین افراد ان کا مشاہدہ کرنے کے لئے دور درازکے سفر اختیار کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کا شمار اپنے جغرفیائی محلِ وقوع کے لحاظ سے دنیا کے ان خوش قسمت ممالک میں ہوتا ہے جہاں ایک جانب بلند و بالا پہاڑ ہیں تو دوسری جانب وسیع وعریض زرخیز میدان بھی موجود ہیں۔ قدرتی مناظر میں ساحل سمند ر سے لے کر آسمان کو چھوتی برف پوش چوٹیاں، خوبصورت آبشاریں، چشمے و جھرنے، سرسبز گھنے جنگلات ، وادیاں، جھیلیں اور صحرا شامل ہیں۔

پاکستان میں قدیم مذہبی مقامات بدھ مت کی تاریخی نشانیاں، ٹیکسلا اور گندھارا کی قدیم تہذیبوں کے کھنڈرات موجود ہیں۔ پاکستان کا سوئٹرز لینڈ کہلانے والی وادی سوات کے علاوہ رومان پرور وادی کاغان ، گلیات، وادی کیلاش، وادی ہنزہ، شنگر یلا ملکی وغیر ملکی سیاحوں کی خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ دنیا کے بیشترممالک میں ایک بھی دریا نہیں بہتا جبکہ پاکستان کی سر زمین پر17 بڑے دریا بہتے ہیں، یہاں سبزہ زار بھی ہیں اور ریگ زار بھی، ہمارے وطن عزیز میں چاروں موسم آتے ہیں اور اپنی چھب دکھاتے ہیں۔ اگر ان مقامات کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات دے کر فروغ دیا جائے تو یہ تہذیبیں بھی بالکل اسی طرح اربوں ڈالر منافع دیں گی جس طرح بھارت کے شہر آگرہ میں تاج محل، دلی میں قطب مینار، ہمایوں کا مقبرہ اور دیگر مقامات سے اربوں ڈالرز منافع حاصل ہو رہا ہے۔


آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ورلڈ ٹور آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق ایک سال میں دنیا بھر میں سفر کرنے والے سیاحوں کی تعداد 1ارب 25 کروڑ سے زیادہ ہے۔ اس لحاظ سے فرانس سب سے آگے ہے جہاں گزشتہ سال 10کروڑ سیاحوں نے رُخ کیا جس سے فرانس کو سیاحت کی مد میں 100ارب ڈالر سے زیادہ کی آمدنی ہوئی۔ اسی طرح سپین، امریکا، چین، اٹلی ،میکسکو، برطانیہ، ترکی ، جرمنی اور تھائی لینڈ جیسے ممالک سیاحت کے فروغ میں ہمہ وقت کوشاں ہیں اور اربوں ڈالر کا ریونیو اکٹھا کر رہے ہیں۔ جبکہ دنیا کے 34 ممالک کا بنیادی ذریعہ آمد ن بھی سیاحت ہی ہے۔

یہاں ہمارے پاس پاکستان میں ایک ہزار کلومیٹر سے زائد کا علاقہ ساحل سمندر پر واقع ہے، ہم گوادر اور کراچی کے درمیان میں سمندر کنارے ایک ٹورازم سٹی بنا سکتے ہیں، دنیا میں بے شمار شہر ایسے ہیں جو ٹور ازم کے نام پر آباد کیے گئے ہیں ۔ لاس ویگاس اس کی ایک بڑی مثال ہے جو دنیا کے 5 بڑے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے ۔ اسی طرح سنگاپور، سانتامونیکا(کیلیفورنیا)، کیپ ٹاﺅن، ہانگ کانگ، سڈنی، ہونولولو، میامی، دبئی اوربارسلونا وغیرہ جیسے شہر جو ساحل سمندر پر واقع ہونے کی وجہ سے ملک کی اکانومی کے لیے Golden Placesکی حیثیت رکھتی ہیں۔ بالکل انہی شہروں کی طرز پر آپ ٹورسٹ Beach بنا سکتے ہیں،اس کے لیے حکومت کو محض ٹرانسپورٹ سسٹم فراہم کرنا ہوگا، دنیا ان ساحلوں کو دیکھنے اور یہاں ہوٹل بنانے کے لیے خود آجائے گی۔

دبئی نے بھی یہی کام کیا تھا۔ آج اگر دبئی ائیر پورٹ دنیا کا دوسرا سب سے مصروف ائیر پورٹ بن چکا ہے تو یہ یہاں کی مقامی آبادی کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاحوں کی آمدورفت کی وجہ سے ہے۔ دبئی اسلامی ریاست ضرور ہے، یہاںمذہب بھی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے، ایک سے بڑھ کر ایک بڑی مسجد وہاں تعمیر ہے مگر وہ لوگ سیاحت کے فروغ میں دنیا کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ سیاحوں کو ان کلچر کے مطابق سہولیات دیتے ہیں،آپ دبئی کو چھوڑیں مراکو، مصر اور انڈونیشیا جیسے اسلامی ملکوں کی مثال لے لیں یہ شہر بھی سیاحوں کو سہولیات دینے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ افسوسناک امر تو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں فحش فلمیں سب سے زیادہ دیکھی جاتی ہیں، لیکن ہم ٹور ازم کو پروموٹ کرنے کے لیے تیار نہیں۔


دنیا پاکستان میں ہمارے شمالی علاقہ جات کو دیکھنا چاہتی ہے، مگر ہم انہیں سہولیات نہیں دے سکے۔ ہمارے ہاں دنیا کی 6 بڑی چوٹیاں ہیں، لیکن ہم انہیں پروموٹ نہ کر سکے۔ پورا نیپال ماﺅنٹ ایورسٹ کی وجہ سے اربوں ڈالر کماتا ہے جبکہ ہمارے پاس ان کے برعکس سیاحتی مقامات ہزاروں کی تعداد میں ہیں لیکن تھوڑی سی برف باری ہونے یا موسم خراب ہونے کی صورت میں شاہراہ قراقرم بند ہو جاتی ہے۔ ناران کاغان جیسے سیاحتی مقامات سردیوں کے 5 ماہ تک بند رہتے ہیں۔ سوات ، کالام ، بحرین جیسے خوبصورت مقامات سے زمینی راستہ منقطع ہو جاتا ہے۔ جبکہ آپ یورپی ملکوں میں دیکھ لیں جہاں سب سے زیادہ برف باری ہوتی ہے لیکن وہ اس موسم کو بھی کیش کرواتے ہیں، سوئٹزر لینڈ جیسے ملک میں 16ہزار فٹ تک مقامات کو سہولیات سے نوازا ہوا ہے۔ اس لیے دنیا بھر سے سیاح وہاں کھنچے چلے جاتے ہیں۔ امریکا میں جہاں کہیں چھوٹا سا بھی پہاڑ ہوگا، وہاں وہ ایک ٹرین کے لیے ٹریک بنا دیا جاتا ہے، کوئی ایک اچھا سا ریسٹورنٹ یا فائیو سٹار ہوٹل بنا دیتے ہیں اور اُسی جگہ کو وہ اس طرح سے استعمال کرتے ہیں کہ مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ ملکی سطح پر بھی معیشت کو سپورٹ ملتی ہے۔
آپ دور نہ جائیں، صرف ہمسایہ ملک کی بات کریں تو آگرہ میں تاج محل دیکھنے کے لیے سالانہ 5 کروڑ سیاح آتے ہیں ، جبکہ آگرہ کا رقبہ محض ہمارے چھوٹے سے شہر قصور جتنا ہے لیکن وہاں 200 سے زائد بڑے بڑے ہوٹلز موجود ہیں۔ ہمارے ہاں اسی طرز کے تاریخی مقامات بھی کسی سے کم نہیں ہیں، موہنجو دڑو، ہڑپہ، ٹیکسلا جیسی تہذیبیں ہی اربوں ڈالر پراجیکٹس ہیں۔ بے شمار قلعے ہیں ، بہاولپور جیسے شہر میں بے شمار قلعے ہیں۔ فورٹ منرو کو پروموٹ کیا جا سکتا ہے ، جس کی 6000 فٹ اونچائی ہے ، پھر پاکستان کے صحرا ﺅں کو کون نہیں جانتا۔ یہاں پر شکار کرنے کے لیے عربی آتے ہیں لیکن مقامی لوگوں کو علم ہی نہیں، چولستان میں سفاری جیپ ریلی، شندور جیسے مقام پر سالانہ میلہ سجتا ہے مگر ہم اسے کیش نہیں کروا سکتے۔ آپ دوسرے ہمسایہ ملک ایران کو دیکھ لیں وہ تاریخی اور مذہبی مقامات کی زیارتیں کروا کر معیشت کو سہارا دیتا ہے۔ پاکستان میں بھی زیارتیںکروائی جا سکتی ہےں، بہت سے اولیائے کرام ؒکے یہاں مزارات ہیں ، داتا گنج بخش ؒ سے لے کر سہون شریف تک آپ ہر مزار کو سیاحت کا مقام بنا سکتے ہیں۔ کالاش کے لوگ ہر سال 22 اگست کو اپنا دن مناتے ہیں ، یہ وادی رمبر میں دن کے وقت منایا جاتا ہے اور رات کے وقت وادی بمبورٹ میں ، اور ساری رات جاری رہتا ہے ، گزشتہ چند سالوں میں یہاں بہت سے غیر ملکی سیاح آئے ہیں مگر تھکا دینے والے سفر اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کے باعث دوبارہ آنے سے قاصر رہتے ہیں۔


ابھی گزشتہ سال ہی برطانوی بیک پیکر سوسائٹی جو دنیا بھر میں سیاحت کے حوالے سے خاصی مشہور ہے، نے پاکستان پر ایک ڈاکیومنٹری بنائی ہے جس میں دکھا یا گیا ہے کہ وادی ہنزہ کے نظارے کریں، شاہراہ قراقرم پر سفر کریں، وادی کاغان اور ناران گھومیں پھریں، پاکستان پر فضا ملک ہے اور پرامن بھی۔ اس لیے برطانوی بیک پیکر سوسائٹی نے 20 ممالک میں سیاحت کے حوالے سے پاکستان کو پہلا نمبر دیا ہے۔ دنیا کے 101 ممالک کا دورہ کرنے والی ٹیم نے سیاحوں کو مشورہ دیا ہے کہ جائیں تو پاکستان ہی جائیں، قدرتی مناظر سے دل کو لبھائیں، شاہراہ قراقرم سے اسلام آباد اور پھر درہ خنجراب تک سفر کریں، مزہ آجائے گا۔


الغرض پوری دُنیا میں سیاحت کی صنعت تیزی سے پھیل گئی ہے۔ پاکستان سیاحت کے لحاظ سے نہایت ہی منفرد ہے۔ یہاں پر قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے والوں کے لئے اگر اَن گنت مقامات ہیں تو دوسری جانب اُن ہی علاقوں میں خطروں کے کھلاڑیوں کے لئے بھی بے شمار مقامات موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی سیاحت کا بھی وسیع دائرہ کار موجود ہے۔ بدھ مت اور سکھ مت کے لئے تو پاکستان مذہبی گہوارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم ہمیں ابھی بھی غیر ملکی سیاحوں کو پاکستان میں لانے کے لئے کچھ کام کرنا ہوگا اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ مقامی سیاحت کو اسی شرح سے نہ صرف فروغ حاصل ہوتا رہے بلکہ اس میں ترقی بھی ہو۔ اب دنیا انٹرنیٹ کی وجہ سے ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ مختلف طریقوں سے حکومت سیاحت کو پروموٹ کر کے اربوں ڈالر ریونیو اکٹھا کر سکتی ہے جس سے یقینا ملک کا قرض بھی اتر سکتا ہے، 50لاکھ گھر بھی بن سکتے ہیں اور ایک کروڑ نوکریاں بھی یقینا نکل سکتی ہےں!
موجودہ حکومت سیاحت کے فروغ کے حوالے سے ماضی کی حکومتوں سے زیادہ پُرجوش نظر آرہی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ضمن میں یہ کوئی عملی اقدامات کرتی ہے یا پھر بات ماضی کی طرح اعلانات اور زبانی کلامی منصوبہ بندیوں تک ہی محدود رہتی ہے۔


ای پیپر