سرفراز احمد کی کپتانی سوالیہ نشان بن گئی
05 نومبر 2018 (20:27) 2018-11-05

اسلام آباد: پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ احسان مانی کی جانب سے سرفراز احمد کو 2019کے ورلڈ کپ تک کپتان رکھنے سے متعلق بیان نے وکٹ کیپر بلے باز کی قیادت پر سوالیہ نشان اٹھا دیے ہیں۔

سابق کھلاڑیوں نے پی سی بی چیئرمین کی جانب سے دیے گئے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2019 کے ورلڈ کپ سے قبل سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹانا ناانصافی ہوگی۔ایشیا کپ میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد بھی سرفراز احمد کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا تاہم سابق کھلاڑیوں نے ان کا دفاع کیا۔قومی ٹیم کو ٹی ٹونٹی رینکنگ میں سرفہرست رکھنے والے سرفراز احمد کی کپتانی اس وقت سوالیہ نشان بنی جب 2019کے وسط میں شیڈول کیے گئے ورلڈ کپ تک کپتان رہنے کے معاملے نے سر اٹھایا۔

اتوار کی شام لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی سی بی چیئرمین کا کہنا تھا کہ سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک ایک روزہ ٹیم کا کپتان بنانے کاحتمی فیصلہ نہیں کیا ، انہوں نے فیصلے کو کرکٹ کمیٹی کی سفارشات سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ اگر سلیکشن کمیٹی اس بات کی سفارش کرے تو سرفراز کو ورلڈ کپ تک کپتان بنانے پر غور کیا جا سکتا ہے۔اسپورٹس تجزیہ کاروں نے چیئرمین پی سی بی کے حالیہ بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ احسان مانی نے ماضی میں سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک کپتان برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا تاہم اب یو ٹرن لے رہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی کرنے والے وکٹ کیپر بلے باز سرفراز احمد کو اب تک دوسرے کامیاب ترین کپتان ہیں، ان کی قیادت میں قومی ٹیم نے 29ایک روزہ میچ کھیلے جن میں سے گرین شرٹس نے 19میں کامیابی حاصل کی اور دس میچوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔بطور کپتان سرفراز احمد کی کامیابی کی شرح 65.55فیصد رہی، اس سے پہلے 2007سے 2009تک قومی ٹیم کی کپتانی کرنے والے شعیب ملک کی بطور کپتان کامیابی کا تناسب 66.66فیصد تھا۔

قومی ٹیم کے تینوں فارمیٹ کی کپتانی کرنے والے سرفراز احمد نے اپنے کریئر کا آغاز 2006میں کراچی کی جانب سے کھیل کر کیا، ان کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کرکٹ بورڈ نے انہیں انڈر 19ٹیم کے اسکواڈ میں بطور وکٹ کیپر شامل کر لیا جہاں انہوں نے مختصر مدت میں انڈر 19ٹیم کے کپتان کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔2007میں انہیں انجری کا شکار ہونے والے کامران اکمل کی جگہ قومی ٹیم میں کھلایا گیا۔ 31سالہ وکٹ کیپر بلے باز نے اپنی جاندار کارکردگی کی بدولت ٹیم میں جگہ بنائی، انہیں 2016میں قومی ٹی ٹوینٹی ٹیم کا کپتان بنایا گیا۔فروری 2017میں مصباح الحق کی جگہ ون ڈے ٹیم کی کپتانی سنبھالنے والے اظہر علی نے ٹیم کی کارکردگی کے باعث قیادت چھوڑنے کا اعلان کیا توسرفراز احمد ایک بار پھر سلیکشن کمیٹی کی نظر میں آئے۔ اظہر علی کی جگہ سرفراز احمد کو ون ڈے ٹیم کی کپتانی بھی سونپ دی گئی ۔چیمپئنز ٹرافی میں شاندار کامیابی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے جولائی 2017 میں سرفراز احمد کو تینوں فارمیٹس کا کپتان بنانے کا اعلان کیا۔


ای پیپر