اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے پر زورکیوں؟
05 نومبر 2018 2018-11-05

ملک کے سیاسی ومعاشی نظام اور انتظامی طور پر ری اسٹرکچرنگ کے اشارے مل رہے ہیں۔ یہ کام تحریک انصاف کی حکومت کے ہاتھوں کرایا جائے گا۔ سب سے پہلے اٹھارہویں آئینی ترمیم اور قومی مالیاتی ایوارڈ کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔ وفاقی وزیر فیصل واڈا نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم وفاق کے لئے قاتل ہے اس میں ترمیم کی جانی چاہئے۔ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کی جائے۔ تعجب کی بات ہے کہ پارلیمنٹ، مشترکہ مفادات کی کونسل، قومی مالیاتی کمیشن جیسے آئینی ادارے موجود ہیں، لیکن اس کے لئے ان سے باہر کیوں بات کی جارہی ہے۔ 
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کریں گے اور اگر صوبے کا نام پھر سے تبدیل کرنے کی کوشش ہوئی تو اس سے انتشار پھیلے گا‘ اٹھارہویں ترمیم میں ردو بدل کرنے کی کوشش کی گئی تو اے این پی مذمت نہیں بلکہ بھرپور مزاحمت کرے گی۔۔ نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو نے اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنے کی مخالفت کی ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن اراکین نے این ایف سی ایوارڈ میں کمی کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ وفاقی حکومت کو اٹھارہویں ترمیم رول بیک کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا کو اٹھارہویں ترمیم کا پتہ نہیں، اسے ختم کرنے کی بات کرنے سے پہلے انہیں سوچنا چاہیے۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ ایک ایسی ترمیم جو تمام صوبوں اور وفاق کی تمام جماعتوں کے اتفاق سے ہوئی ہے۔سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کا کہنا ہے اگر اٹھارہویں ترمیم کو رول بیک کیا گیا تو وفاق کوخطرہ ہوگا جبکہ وفاق کو اختیار نہیں کہ وہ صوبائی محکموں میں مداخلت کرے۔وہ کہتے ہیں کہ 25 جولائی کے الیکشن کے بعد ڈر ہے کہ اٹھارہہویں ترمیم واپس نہ ہوجائے جبکہ ہمارے آئینی ادارے آپس میں لڑ رہے ہیں اورپارلیمنٹ کو کمزور کردیا گیا ہے۔ان کے مطابق خوف ہے کہ 25 جولائی کے بعد اٹھارہویں ترمیم واپس نہ ہوجائے، اس ترمیم کے ذریعے صوبوں کوملے تھوڑے بہت حقوق بھی واپس اسلام آباد کودینے کی بات ہورہی ہے۔
رضا ربانی نے ایک اہم نقطہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم سے انتہا پسند قوم پرست تنظیموں کوآئینی حدود میں رہتے ہوئے حقوق حاصل کرنے کا احساس ہوا۔
گزشتہ ہفتہ سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینٹر میاں رضاربانی نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم طویل جدوجہد کے نتیجے میں حاصل کی گئی ہے، اگر اسے رول بیک کیا گیا تو نتائج انتہائی خطرناک ہونگے۔ سول ملٹری بیوروکریسی نے اٹھارہویں ترمیم کو کبھی تسلیم نہیں کیا، ملک میں صرف سویلین کرپٹ نہیں ہیں بلکہ عدلیہ سمیت سول ملٹری بیوکرو کریسی بھی کرپٹ ہے اور ہر ایک کا بلاتفریق ایک ہی قانون کے تحت احتساب ہونا چاہیے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ اٹھارہویں ترمیم رول بیک کرنیکی کوشش کی توسخت مزاحمت کرینگے۔پیپلز پارٹی کے مطابق صوبوں کے مالی اور انتظامی اختیار کم کرنا وفاق کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہوگا۔ آئین میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ بڑھے گا کم 
نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف کا موقف یہ ہے کہ کا اٹھارہویں ترمیم کی افادیت تب ہوتی جب یہ ڈسٹرکٹ سطح کے حوالے سے کی جاتی،پیپلزپارٹی ن لیگ کے پاس ٹائم تھا انہیں درستی کر دینی چاہیے تھی مگر نہیں کی۔
سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کے فیصلے کو جلد بازی کا معاملہ نہیں کہا جاسکتا مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی نے ایک چارٹر آف ڈیموکریسی سائن کیا تھا جس کے تحت بہت ساری چیزیں جو اٹھارہویں ترمیم میں نظر آرہی ہیں اس پر ایگریمنٹ ہوچکا تھا ۔ 
مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پہلے 43 فیصد صوبوں کو ملتا تھا وفاق کے پاس پچپن فیصد بچتا تھا اب معاملہ اُلٹا ہوگیا اٹھارہویں ترمیم سے پہلے شاید صوبے تیار نہیں تھے صوبوں کو فوری طور پر اختیارات دے دیئے گئے شاید اس سے نقصان ہوا ہے مگر اس سے وفاق مضبوط ہوا ہے۔ 
اٹھارہہویں ترمیم کو واپس لینے کے حوالے سے پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبے بہت زیادہ حساس ہیں بہت سے معاملات میں اس طرح کے مسائل کو اس طرح سے چھیڑا جاناوفاق کے لئے بہت خطرناک ہوگا ۔حکومت پیچیدہ مسائل کو چھیڑ تو رہی ہے لیکن اٹھارہویں ترمیم پر تبدیلیاں لانے کے لئے اس کے پاس دوتہائی اکثریت نہیں۔
اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنے کے لئے مختلف آوازیںآرہی ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم میں آئین کی 100 شقوں میں ترمیم کی گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کی سب شقیں تو مسئلہ نہیں ہونگی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آخر اس ترمیم کی کونسی چیز چبھتی ہے؟ مثلا آرٹیکل 10 اے منصفانہ مقدمے کا حق، 19 اے معلومات تک رسائی کا حق، اور 25 اے تعلیم کا حق شامل ہے۔عدلیہ میں تقرر سے متعلق بعض ترامیم ہیں۔ ممکن ہے کہ بعض لوگ ان تقرریوں کے طریقہ کار، عدالتی احتساب کے بارے میں سوچ رہے ہوں۔ تحریک انصاف بتائے کہ اس کو اٹھارہویں ترمیم کی کن کن چیزوں سے اختلاف ہے ؟ 
اپریل میں ملک کے اہم ادارے کے سربراہ کے حوالے سے خبریں شائع ہوئیں کہ اٹھارہویں ترمیم شیخ مجیب کے چھ نکات سے بھی زیادہ ہے۔ اب بھی یہ سمجھا جارہا ہے کہ زیادہ دباؤ وفاقی کھلاڑیوں کی جانب سے ہے ۔ تاثر دیا جارہا ہے کہ وفاق کچھ کرنا چاہتا ہے لیکن اٹھارہویں ترمیم اس راہ میں رکاوٹ ہے ۔ 
اگر معاملے کو زیادہ گہرائی سے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سب کچھ پیسے کا معاملہ ہے۔دو امور زیادہ مسئلہ ہیں ۔ ایک اختیارات کی صوبوں کو منتقلی دوسرا وفاق اور صوبوں کے درمیان فنڈ کی تقسیم۔ یعنی قومی مالیاتی کمیشن کے فارمولا کا عمودی ہونا۔ سب چکھ مرکز کے پاس ہو، مرکز بعد میں گرانٹس، قرضہ وغیرہ کی صورت میں صوبوں کو پیسے دے۔موجود ایوارڈ افقی ہے جس میں صوبوں کو زیادہ حصہ ہے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ وفاق نے اپنا حصہ بہت کم کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے مرکز خسارے میں ہے۔ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ اگر این ایف سی ایوارڈ کو ختم کردیا جائے تو وفاق کا خسارہ پورا ہو سکتا ہے۔ وسائل کی تقسیم اختیارات کی صوبوں کو منتقلی سے منسلک ہے۔ عدم مرکزیت اور اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کے بہت لوگ حامی ہیں۔ وہ خدمات جو مقامی سطح پر مہیا کی جاسکتی ہیں ان کے بارے میں وفاق کے فیصلے کا کیوں انتظار کیا جائے؟
مرکزیت غیر موثر اور بے فائدہ ہوتی ہے۔ خاص طور پر خدمات کی فراہمی کے معاملے میں۔ ایک اسکول یا صحت مرکز ہونا چاہئے، اس کو کون اور کیسے چلائے؟ اس کی نظرداری کون کرے؟ یہ سب مقامی مسائل ہیں۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں پاکستان میں اکثر لوگ عدم مرکزیت اور اختیارات کی منتقلی کے تصور سے اتفاق کرتے ہیں۔ 
مسئلہ ٹیکس کی وصولی اور ادائیگی کا ہے۔ تمام اہم ٹیکس وفاق کے پاس ہیں اور ٹیکس کی بیس چھوٹی ہے۔ ایڈہاک اور پیشگی کٹوتی وغیرہ کی وجہ سے صوبے ٹیکسیشن کو اپنا ذریعہ آمدن نہیں بنا سکتے۔ لہٰذا وہ این ایف سی کے ذریعے ملنے والی رقومات پر انحصار کرتے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب یہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ایسے میں وفاق سمجھتا ہے کہ اسکو خالی ہاتھ چھوڑ دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہم اختیارات کی صوبوں کو منتقلی ختم کر دیتے ہیں، این ایف سی کا ترمیم سے متعلق شق ختم کردیتے ہیں، یہ مالی معاملات کو کیسے حل کرے گا۔ اس کے باوجود ہمیں تعلیم ، صحت، اور دیگر بنیادی خدمات پر خرچ کرنا پڑے گا۔ آج اگر ان شعبوں پر صوبے خرچ کر رہے ہیں تو کل وفاق کرے گا۔ خسارہ کیسے کم ہوگا؟ 
مسئلہ اٹھارہوں ترمیم کا نہیں کمزور ٹیکس نظام کا ہے۔ ریونیوصلاحیت پر زور دینا چاہئے نہ کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے خاتمے پر ۔ اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے پیچھے یہ تصور تھا کہ وفاقی سطح پر کس طرح سے آمدنی پیدا کی جائے گی۔ موجودہ آمدنی کی موجودگی میں معاملات چاہے صوبوں کو دیں یا وفاق کو مالی مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔ اور ملک کو درپیش مالی بحران ختم نہیں ہوتا۔ کیا وفاق تعلیم، صحت یا دیگر بنیادی خدمات کی رقم کم کر دے گی؟ان خدمات پر رقم خواہ صوبے خرچ کریں یا وفاق کرے، خرچ تو ہونا ہے۔ کہیں سے بھی وفاق کا خسارہ کم تو نہیں ہو رہا۔ پھر اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے پر کیوں زور دیا جارہا ہے؟ 


ای پیپر