معاہدہ طے، دھرنے ختم لیکن حکومتی رِٹ ضروری ہے!
05 نومبر 2018 2018-11-05

توہینِ رسالت کیس میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی سزائے موت کو سپریم کورٹ کی طرف سے کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کی جو لہر اُٹھی اور لاہور ، کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، فیصل آباد اور بعض دوسرے شہروں اور قصبا ت میں احتجاجی مظاہرین کی طرف سے مصروف شاہراہوں، موٹرویز اور چوراہوں پر قبضہ جما کر ٹریفک کی روانی کو روکنے ، اِسے جام کرنے، سرکاری و نجی املاک اور گاڑیوں اور وہیکلز کو نقصان پہنچانے، توڑ پھوڑ کرنے اور نذرِ آتش کرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا مقامِ شکر ہے کہ جُمعتہ المبارک کی شام کو دھرنا قائدین اور حکومتی ٹیم کے درمیان مذاکرات کی کامیابی اور پانچ نکاتی معاہدہ طے پانے کے بعد یہ افسوس ناک سلسلہ ختم ہو گیا۔ پانچ نکاتی معاہدے جس پر دھرنا قائدین کی نمائندگی کرتے ہوئے تحریکِ لبیک یا رسول اللہ کے سرپرستِ اعلیٰ پیر افضل قادری اور مرکزی ناظمِ اعلیٰ محمد وحید انور اور حکومتی وفد کے سربراہ وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر انوار الحق قادری اور وزیر قانون پنجاب راجہ محمد بشارت نے دستخط کیے ہیں میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں آسیہ کیس میں نظر ثانی اپیل پر حکومت اعتراض نہیں کرے گی۔ آسیہ کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے لئے قانونی کاروائی کی جائے گی۔ تحریک میں جو شہادتیں ہوئی ہیں اُن کی قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ 30اکتوبر اور اُس کے بعد گرفتار کیے گئے افراد کو فوری رہا کیا جائے گااور اِس واقعہ کے دوران کسی کی بلا جواز دل آزاری کا کسی کو تکلیف ہوئی ہے تو تحریکِ لبیک اِس پر معذرت خواہ ہے ۔ 
بہت اچھا ہوا ، احتجاجی مظاہرین اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے، معاہدہ طے پایا ، دھرنے ختم ہو گئے اور معاملاتِ زِندگی بڑی حد تک معمول پر آگئے۔ لیکن تین چار دِن ملک میں آناً فاناً امن و امان کی جو صورت حال بنی، معاملاتِ زِندگی جس طرح تلپٹ ہوئے، قومی معیشت کو اربوں روپے کا جو نقصان ہوا، عوام کو جس طرح کی پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ریاستی اور حکومتی اِدارے جس طرح عضومعطل ہو کر رہ گئے، ریاست کے دائمی اور آئینی اِداروں اور اعلیٰ حکومتی ، عدالتی اور عسکری عہدیداروں کے بارے میں جو زبان استعمال اور جس طرح کا لب و لہجہ اختیار کیا گیا یہ سب پہلو ایسے ہیں جو پوری قوم کے لئے لمحہ ء فکریہ کی حیثیت ہی نہیں رکھتے ہیں بلکہ عوام الناس کی اکثریت اِن کے بارے میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور اِن کے ساتھ احتجاج اور دھرنے کی ذمہ دار شخصیت سے بھی یہ جاننا چاہتی ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا اور حالات اور معاملات آناً فاناً اس نہج تک کیسے پہنچے یا پہنچا دیئے گئے۔ اِن استفسارات اور عوام کے ذہنوں میں اُٹھنے والے سوالات کے جوابات ضرور سامنے آنے چاہیے۔ تاہم معاہدے کے باوجود حکومت کی طرف سے ایک جواب سامنے آیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے دھرنے کے دوران ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے جس کے تحت کریک ڈاؤن شروع ہو چکا ہے اور پولیس نے تحریکِ لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی، پیر افضل قادری اور پیر ظہیر الحسن سمیت سینکڑوں نامزد اور ہزاروں نامعلوم افراد کے خلاف لاہور، شیخوپورہ، فیصل آباد، کراچی، اسلام آباد، جھنگ، پتوکی، چنیوٹ اور دیگر شہروں اور قصبات میں مقدمات درج کر لیے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری نے بھی اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ دھرنے والوں نے ججز، فوج اور حکومت کی تذلیل کی اُن کو معافی نہیں ملے گی۔ یہ معاملہ مسلک کا نہیں بلکہ بغاوت کا ہے ۔ حکومت کی کمزوری کا تاثر ختم کریں گے۔ وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ و مواصلات کے بھی اِسی طرح کے بیانات سامنے آئے ہیں۔ 
حکومت نے شر پسند عناصر کے محاسبہ اور قلع قمع کے لیے جو اعلانات کیے ہیں اگر حکومت اس ضمن میں ضروری اقدامات کرتی ہے تو کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ بلکہ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ پوری قوم اِس ضمن میں حکومت کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے ۔ اِس کا ثبوت ہمیں قومی اسمبلی کے ایوان میں حزبِ مخالف کی دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین جن میں مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نمایاں ہیں کی تقاریر سے بھی ملتا ہے ۔ جنہوں نے ملک میں ہنگامہ آرائی کے خاتمے اور امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے کھل کر حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ حکومت حزبِ مخالف کی اس پیش کش سے کس حد تک استفادہ کرتی ہے یہ اس پر منحصر ہے ۔ لیکن تحریکِ انصاف کے قائدین کو کبھی ٹھنڈے دل سے یہ سوچنا چاہیے کہ پچھلے دورِ حکومت میں اگست 2014ء میں اُنہوں نے اسلام آباد میں جو 
دھرنوں کا سلسلہ شروع کیا تھا اور جناب عمران خان اپنے حامیوں کو حکومت کے احکامات پر عمل نہ کرنے اور ایک طرح کی سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کی جو ہدایات دیتے رہتے تھے اور پارلیمنٹ ہاؤس اور پاکستان ٹیلی وژن کو بھی تاراج کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اس کے ساتھ سرِ شام کنٹینر پر کھڑے ہو کر بد زبانی اور دشنام طرازی کی زبان اور لب و لہجے کو اپنا وطیرہ بنایا تھا تو یہ سب کچھ کتنا تکلیف دہ اور افسوس ناک تھا اَور آج ہمیں اگر یہی کچھ بھگتنا پڑ رہا ہے تو اِس کی ذمہ داری جناب عمران خان اور اُن کی جماعت پر بھی یقیناًکسی نہ کسی حد تک ضرور عائد ہوتی ہے ۔ خیر یہ ایک جملہ معترضہ ہی سہی اصل معاملے کی طر ف آتے ہیں جو بڑا ہی نازک ہے اور اس کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی یہ فکر دامن گیر ہے کہ کہیں انجانے میں یا نادانستہ کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو ادب کے منافی ہو۔ 
سچی بات ہے اور مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں ایک انتہائی عصیاں کار اور کمزور ایمان کا مالک ہوں لیکن اِتنا ضرور جانتا ہوں اَور اِس پر پختہ ایمان رکھتا ہوں کہ خاتم النبین، رحمتہ العالمین اَور شفیع المذنبین ؐ کی حُرمت ، تقدس اور ناموس پر مر مٹنے اور فِدا ہو جانے سے بڑھ کر کوئی سعادت نہیں اور نہ ہی دِل و جان سے آپؐ کی محبت ، اطاعت اور عقیدت کے بغیر ہمارا ایمان مکمل ہوتا ہے ۔ یقیناًیہ میرا ہی ایمان و یقین نہیں ہے بلکہ ہر کلمہ گو خواہ وہ میری طرح کتنا ہی عصیاں کاراور گنہگار کیوں نہ ہو اُس کے ایمان اور یقین کا بھی حصہ ہے ۔یہ سب کچھ اپنی جگہ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عشقِ رسول ؐ اور آپؐ سے سچی محبت اور عقیدت ہمیں اِجازت دیتی ہے کہ ہم دُوسرے انسانوں کے لئے مسائل اور مشکلات اور اُن کے لیے دُکھ اور تکالیف پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ کیا دھرنے دینے ، مخلوقِ خُدا کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے، قومی اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے، گالم گلوچ کرنے، بدزبانی کرنے، واجب القتل اور دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کے فتوے دینے اور ریاست کے دائمی اور آئینی اِداروں اور اُن کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا کرنے کو دین کی خدمت اَور ختم المرتبت، ساقیِ کوثر ؐ کی محبت و عقیدت کا مظہر قرار دیا جا سکتا ہے اس بارے میں ہمیں ضرور سوچنا چاہیے۔ 
آخر میں مَیں ایک قومی معاصر میں معروف کالم نگار دانشور ، سکالر اور خوش اطوار شخصیت برادرِ عزیز جناب خورشید ندیم کے ’’میں اور میرے رسول ؐ‘‘ کے عنوان سے اگلے دِن چھپنے والے کالم کی دُعائیہ اِختتامی سطریں رقم کرنا چاہوں گا۔وہ لکھتے ہیں ’’اَے میرے رَب اِس ملک میں 97%مسلمان بستے ہیں۔ وہ مسلمان اِسی لیے ہیں کہ آپ پر ایمان لائے۔ وہ آپ کے آخری رسول ؐ سے محبت کرتے ہیں۔ یہ میری طرح گنہگار ہو سکتے ہیں مگر ان کے دل میں اللہ پر ایمان اور اپنے رسول سے محبت ہے ۔ یا اللہ مجھے اخلاق دے کہ یہ سب میرے شَر سے محفوظ رہیں۔ میرے اخلاق کو اپنے نبی ؐ کے اخلاق کا پرتو بنا دے۔ مجھے سب انسانوں کے لئے باعث رحمت بنا دے جو دراصل آپ ہی کا کنبہ ہیں‘‘۔


ای پیپر