Ch Farrukh Shahzad, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
05 May 2021 (11:46) 2021-05-05

آئر لینڈ کی ایک طویل حکایت ہے کہ اگر کوئی آپ سے آپ کا حال چال پوچھے تو دو باتیں ہوں گی یا آپ کہیں گے کہ آپ ٹھیک ٹھاک ہیں یا پھر آپ کہیں گے کہ آپ بیمار ہیں۔ اگر تو آپ ٹھیک ٹھاک ہیں تو گھبرانے کی ضرورت ہی نہیں ہے البتہ اگر آپ بیماری ہیں تو دو باتیں ہوں گی یا تو آپ بیماری سے صحت یاب ہو جائیں گے یا پھر آپ جاں بحق ہو جائیں گے۔ اگر آپ صحت یاب ہو گئے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں رہے گی ہاں البتہ اگر آپ جاں بحق ہو جاتے ہیں تو پھر دو باتیں ہوں گی یا تو آپ جنت میں جائیں گے یا پھر آپ کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔ اگر آپ جنت میں چلے گئے تو گھبرانے کی چنداں ضرورت نہیں ہو گی البتہ اگر آپ دوزخ میں چلے جاتے ہیں تو وہاں آپ کے دوست احباب اتنی بڑی تعداد میں آپ سے ہاتھ ملانے آجائیں گے کہ آپ کے پاس گھبرانے کی فرصت ہی نہیں ہو گی۔ گھبرانے اور نہ گھبرانے کی اس آئرش کہانی کا تعلق زمانہ قدیم سے ہے اور وطن عزیز کے حالات کے ساتھ تو اس کا بالکل کوئی تعلق نہیں ہے۔ 

گھبرانا ایک نفسیاتی مسئلہ ہے جب ہم کسی کو گھبراتے دیکھتے ہیں تو خود بھی گھبرا جاتے ہیں حالانکہ اس کی ضرورت نہیں ہوتی اور پاکستان میں تو ویسے بھی معاملات ایسے ہیں کہ ہمارے پاس گھبرانے کی فرصت کہاں مگر ہماری گھبراہٹ کے ارباب حل و عقد کا نظریہ یہ ہے کہ گھبرانے کے لیے فرصت کی ضرورت ہی نہیں ہے یہ کوئی کرکٹ میچ نہیں ہے کہ آپ چھٹی کے دن ٹکٹ خریدیں اور پورا دن سٹیڈیم میں میچ انجوائے کریں۔ پورا دن اپنا پیسہ اور وقت صرف کریں مگر آخر میں آپ کی پسندیدہ ٹیم میچ ہار جائے تو آپ گھبرا کر وہاں سے کوچ کر جائیں۔ یہ تو پیسے دے کر گھبراہٹ خریدنے والی بات ہے حالانکہ جو چیز مفت میں مل رہی ہو اس کے لیے پیسے خرچ کرنا حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ 

پاکستان میں جو بندہ آپ کے لیے سب سے زیادہ ٹینشن کا باعث ہوتاہے وہ اٹھتے بیٹھتے آپ کو ایک ہی تاکید کرتاہے کہ ’’تسی ٹینشن نئیں لینی‘‘۔ لہٰذا آئندہ یہ رول بنا لیں کہ جو بندہ آپ کو یہ کہے کہ تسی ٹینشن نئیں لینی اس سے سماجی فاصلہ یا Social Distancing بہت ضروری ہو جائے گی۔ جس بندے نے آپ سے قرض لے رکھا ہو اور آپ کو تاریخ پر تاریخ دے رہا ہو اور ٹینشن نہ لینے کی نصیحت بھی کر رہا ہو تو اس کے بارے میں آئی ایم ایف کی مصدقہ رائے یہ ہے کہ یہ بندہ آپ کا دوست نہیں ہے اور آپ کو گولی دے رہا ہے۔ 

کچھ عرصہ پہلے ہم نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے ایک ممبر کو سنا جو اسپیکر پنجاب اسمبلی سے 

گھبرانے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ فاضل ممبر شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ انہیں گھبرانے کے لیے ہاؤس کے Custodian کی طرف سے این او سی درکار ہو گا حالانکہ سپیکر صاحب اندر سے خود گھبرائے ہوئے تھے مگر انہوں نے بات کو ہنسی میں ٹال دیا۔ اس سے کم از کم آئر لینڈ والی کہاوت کا ایک اضافی پہلو نکلتا ہے کہ جب گھبرانے کی بات آئے گی تو دو باتیں ہوں گی یا تو آپ گھبرا جائیں گے یا آپ اپنی گھبراہٹ کو مسکرا کر چھپانے کی کوشش کریں گے مگر یہ حقیقت ہے کہ آپ بے شک اپنے اثاثے چھپانے میں جتنے مرضی ماہر ہوں گھبراہٹ چھپانا آپ کے بس کی بات نہیں۔ آپ کی ہنسی بتا دیتی ہے کہ آپ گھبراہٹ کے جال میں پھنس چکے ہیں یعنی ’’ہس گئی تے پھس گئی‘‘۔ باقی دنیا میں جب کوئی بندہ ہنس رہا ہو تو سمجھا جاتا ہے کہ وہ خوش ہے لیکن ہمارے ہاں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ کچھ چھپا رہا ہے۔ اس پر ہمارا فوری ردعمل یہ ہوتا ہے کہ ’’ایہدا پتہ کرو‘‘ یعنی اس کی مسکراہٹ کی وجہ کا سراغ لگاؤ کہ دال میں جو کالا ہے اس کی اصل کہانی کیا ہے۔ ویسے بھی آج کے کلچر میں ہمیں کسی کی مسکراہٹ کب ’’وارا کھاتی ہے‘‘۔ 

ہمارے ہاں جو نظر آتا ہے وہ ہوتا نہیں اور جو ہوتا ہے وہ نظر نہیں آتا۔ اس اصول کے تحت کوئی اگر آپ کو یہ کہے کہ آپ نے گھبرانا نہیں تو یہ سمجھنے کی غلطی مت کریں کہ وہ کوئی Motivational speaker ہے بلکہ معاملہ اس کے الٹ ہے آپ اس کے فقرے میں نہیں کا لفظ حذف کر دیں تو بات واضح ہو جائے گی آپ نے ویسے بھی دیکھا ہو گا کہ ہماری اسمبلیوں کی کارروائی سے آئے روز کیا کیا الفاظ حذف کرائے جاتے ہیں ان کو جمع کیا جائے تو پوری ایک ڈکشنری وجود میں آ جاتی ہے جس میں Animal Kingdom کو نمایاں حیثیت حاصل ہے جس میں پالتو جانوروں کے نام زیادہ کثرت سے اور زیادہ مستعدی سے حذف ہوتے ہیں۔ بات تو گھبرانے کی ہو رہی تھی کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے 

تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

اس میں بھی شاعر ہمیں یہی کہہ رہا ہے کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ آگے آپ کی اپنی مرضی ہے کہ گھبرائیں یا نہ گھبرائیں اس کے بجائے ہمیں ایک دوسرا شاعر زیادہ حقیقت پسند نظر آتا ہے جس نے یہ لکھا ہے

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

یہ شاعر ہمیں آئر لینڈ کی اس حکایت کے قریب نظر آتا ہے جس میں محض حال چال پوچھنے پر ہی باتوں ہی باتوں میں اگلے بندے کو نا صرف موت کے منہ میں دھکیل دیا بلکہ آگے کے لیے دوزخ میں قیام کا ڈومیسائل بھی بنوا دیا۔

دور جدید کی کاروباری دنیا میں لفظ Innovationبہت استعمال ہوتا ہے جسے اردو میںجدت کہتے ہیں چونکہ ہماری نئی نسل کو اردو کے مشکل الفاظ سمجھ نہیں آتے اس لیے ان کی جگہ انگریزی الفاظ نے لے لی ہے۔ innovation کی عملی مثال ہمیں ایک گلی کے موڑ پر ایک مداری کے کرتب سے واضح ہوئی جس نے عوام کے مجمع میں اپنے بندر کے بارے میں تماش بینوں کوبتایا کہ یہ اب آپ کو گھبرا کر دکھائے گا بندرنے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا اور تھوڑے تھوڑے وقفے سے وہ اپنے جھکے ہوئے سر کو اوپر اٹھاتا تھا اور پھر واپس اپنے گھٹنوں پر مارتا تھا۔ آپ کو یاد ہو گا کہ پرانے زمانے کا بندر تو محض عینک اور گھڑی باندھ کر سسرال جانے کی اداکاری کیا کرتا تھا مگر اب انہوں نے آپ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر آپ کی جیب سے پیسے نکالنے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ Innovation کے معاملے میں ہماری سیاسی جماعتیں مداری کے بچے جمورے سے بہت آگے ہیں۔ آپ کو پتہ ہی نہیں چلتا اور آپ انہیں ووٹ ڈال دیتے ہیں۔ بعد میں ڈھیٹ ہو کر یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ میرا ووٹ میری مرضی۔ 


ای پیپر