Dr Zahid Munir Amir, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
05 May 2021 (11:43) 2021-05-05

(گزشتہ سے پیوستہ)اردنی حاضرین کواپنے قومی ترانے کا ایسا احترام کرتے دیکھ کر دل میں غایت درجہ لطیف جذبات پیدا ہوئے ۔معاً بعد اردن کا قومی ترانہ (السلام الملکی)بجایا گیا یہ غالباً اس کی ایک دھن تھی یا پورا ترانہ ہی بہت مختصر ہے اس کے بعد سب لوگ اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے یعنی وہی نشستیں جہاں پہلے سے بیٹھے تھے ۔سٹیج بدستور خالی رہا ، کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن حکیم سے ہوا اس کے بعد ایک طالبہ نے اقبال کی اردو نظم’’ طارق کی دعا‘‘اتنی عمدگی سے پڑھی کہ یہ حیرت آمیز سوال پیدا ہونے لگا کہ کیا کوئی عرب لڑکی اتنی عمدہ اردو بول یا پڑھ سکتی ہے …؟ بعد میں پتہ چلا کہ وہ طالبہ ایک پاکستانی کی بیٹی ہے ۔ اقبال اکادمی پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے ممتاز عالم اور محقق ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب نے اکادمی اور اس کی خدمات کا تعارف پیش کیا ۔فیکلٹی آف فارن لینگوایجز کے ڈین ڈاکٹراحمد مجدوبہ نے فیکلٹی کا تعارف پیش کیا اور سفیر پاکستان جناب محمد اختر طفیل نے اس بات پر معذرت پیش کی کہ وہ عربی میں خطاب نہیں کر سکتے انہوںنے انگریزی میں لکھی ہوئی تقریر پڑھی جس میں اقبال کا عمومی تعارف کرایا گیا تھا۔ اس کے بعد پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق عبدالصمد صابر نے مہمانوں اور شرکا کو خوش آمدید کہا۔ اس کے ساتھ ہی پہلا افتتاحی سیشن اختتام پذیر ہوا۔ چائے پر ایک دوسرے سے تعارف اور تبادلہ خیالات ہوا سفیر صاحب سے علیک سلیک مقامی اساتذہ سے ملاقات، پاکستانی کمیونٹی کے بعض حضرات سے تعارف اور اس کے بعد ساڑھے دس بجے دوسرے سیشن کا آغاز اس سیشن کی صدارت ڈاکٹر فواز عبدالحق نے کی پہلا ہی مقالہ ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب کا تھا ڈاکٹر صاحب کی عربی اور ان کا انداز سبھی نے پسند کیا۔ جامعہ اردن کے شعبہ سیاسیات کے ڈاکٹر سعد ابودیہ اور پاک اردن دوستی کی تنظیم کے سابق سربراہ ڈاکٹر رائد نجم اور المرکز الثقافی الاسلامی کے سربراہ (ڈائریکٹر)ڈاکٹر احمد العوائشہ نے بھی فکر اقبال سے متعلق اپنی تحقیقات پیش کیں۔ڈاکٹر فواز عبدالحق کی گفتگو سے یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا ۔اس اجلاس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ دوران اجلاس میںجب کچھ طلبا و طالبات کی آمد و رفت سے جلسے کے نظم میں خلل آنے لگا تو صدرِ اجلاس نے کارروائی روک کر حاضرین کو توجہ دلائی کہ وہ یاد رکھیں کہ یہ جلسہ پاکستان کی نسبت اور اس کے عظیم شاعر اقبال کے حوالے سے منعقد ہورہا ہے اورہمارے لیے پاکستان کا نام جس عزت اور ادب کا متقاضی ہے اسے فراموش نہ کیا جائے اس کے بعد اجلاس مکمل طور پر پر سکون ہوگیا اور کسی جانب سے کوئی ہل چل دکھائی دی نہ کسی سمت سے کوئی آواز اُبھری۔

درمیان میں موقع ملا تو راقم باہر نکل گیا اور گھوم پھر کر یونی ورسٹی کو دیکھنے کی خواہش پوری کی ۔لائبریری ،ایڈمنسٹریٹو بلاک ، مرکزی دروازہ، یونی ورسٹی کی پہچان بننے والا کلاک ٹاور، یہاں وہاں آرائشی تعمیرات ،فوارے اور سب سے بڑھ کر ہنستی مسکراتی زندگی کے امین توانا اور تروتازہ طلبا و طالبات کو دیکھا ،ان سے ملا اوران سے پاکستان اور اقبال کے بارے میں پوچھتا رہا ۔زیادہ تر طلبا و طالبات اپنی اپنی محبتوں میں گم تھے مجھے پاکستانی جان کر گرم جوشی سے ملے وہ پاکستان کے بارے میںاچھا تاثر تو رکھتے تھے لیکن معلومات نہیں ۔بہت کم کسی نے اقبال سے واقفیت کا اظہار کیا جب وہ مجھ سے پوچھتے کہ اقبال…کون؟ تو میں انہیں ایک ایسے شاعر کی حیثیت سے اقبال کا تعارف کراتا جس نے خود کو عالم عرب کا شاعر کہا ہے اور یونی 

ورسٹی میں لگے ہوئے بڑے بینرز پر لکھے ہوئے آج کی کانفرنس کے اعلانات کی جانب متوجہ کرتا پھر وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہتے چل کر دیکھنا چاہیے اس کانفرنس میں کیا ہے …؟کانفرنس کے پہلے باقاعدہ اجلاس کے بعد کھانے کا وقفہ تھا ۔کھانا جامعہ اردن کے اپنے ریستوران میں تھا یہ ایک بہت بڑااور پر آسائش ریستوران تھا جہاں بیک وقت کئی تقریبات کے کھانے ہو رہے تھے ۔کسی فیکلٹی کا الوداعیہ بھی ہورہا تھا۔ موسیقی کی دھنیں سنائی دے رہی تھیں اور ہر کھانے کے شرکا اپنی اپنی دنیا میں مگن تھے ۔ کھانے کی میز بہت لمبی اور تمام مہمانوں کی جامع تھی ۔روایتی اردنی کھانے ،فریقہ یبرک ،قباب ،باس مشکات وقفے وقفے سے آتے رہے اور خوب شکم سیری کا سامان ہوا اور یہاں مختلف اردنی اصحاب سے دلچسپ گفتگو رہی ۔کھانے کے دوران اور کانفرنس کے وقفوں میں اردنی اصحاب نے جو گفتگو کی ان سے پاکستان کے ساتھ ان کے گہرے تعلق اور وابستگی کا اظہار ہوتا تھا ۔یوں بھی اردن میں پاکستان کے لیے بہت محبت اور احترام کے جذبات پائے جاتے ہیں۔بعدمیں مہمانوں کا گروپ فوٹو بنایا گیا۔ ایک بجے تیسرے اور آخری اجلاس کے آغاز کا وقت تھااس سیشن کی زبان انگریزی تھی۔راقم کا مقالہ اسی اجلاس میں تھا ۔راقم کے مقالے کا عنوان تھا Muhammad Iqbal's Passion for the Arab world.وقت کی کمی کے باعث 

مقالے کے منتخب حصے سنائے گئے اور پاور پوائنٹ میں بنائی گئی پریزینٹیشن کی مدد سے مختلف اشعار و اقتباسات کی وضاحت بھی کی گئی ۔مقالہ دلچسپی سے سنا گیا راقم نے جہاں کلام اقبال میں عرب اور اہل عرب کی نسبت اقبال کے خیالات کا تدریجی ارتقا دکھایا وہاں اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ اقبال کے نزدیک عربوں کے مذہبی شعور نے اسلام کو جنم دیا جس نے ایشیاکی مختلف اقوام کو غیر معمولی طور پر ایک سلک وحدت میں پرو دیا(The Arabs whose religious conscious gave birth to Islam,which united the various races of Asia with remarkable success)اقبال یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اسلام کا مستقبل عربوں کے مستقبل سے وابستہ ہے۔اور یہ کہ ان کے نزدیک ان کے اصل مخاطب عرب ہیں اگرچہ ان کا دل ستم رسیدہ نغمہ ہائے عجم رہا لیکن ان کی نوا عربی ہی رہی ۔وہ اس بات پر بہت افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ شرق و غرب نے تو آزادی پالی لیکن مسلمان غیروں کی غلامی پر راضی ہیں اور ان کی صلاحیتوں کا سرمایہ دوسروں کے کاشانوں کی تعمیر میں صرف ہو رہا ہے ان کے خیال میں علم و فن کی پری مسلمانوں کی متاع تھی جو اب اہل یورپ کے ہاتھوں میں جاکر بہت شوخ و شنگ ہوگئی ہے اسے واپس اس کے وطن لا کر حیا آشنا کرنے کی ضرورت ہے۔اس صورت حال میں وہ عالم اسلام کی حالت زار کو قبیلہ بنی طے کے سردار کی اس بیٹی سے تشبیہ دیتے ہیں جو جنگ میں گرفتار ہوکر رسول اللہ ؐ کے سامنے لائی گئی تھی اورشرم سے جس کی گردن خم تھی 

،رسول اللہ ؐ نے باوجودیکہ غالب اور فاتح تھے اس لڑکی کو بے پردہ دیکھ کر اپنی چادر مبارک سے اس کا سر ڈھانپا تھا ،اقبال، رسول اللہ ؐ سے عرض پرداز ہوتے ہیں کہ ہم اس وقت قبیلہ بنو طے کی اس لڑکی سے بھی زیادہ بے پردہ ہیں اور اقوام ِجہاں کے سامنے ہماری چادر اتر چکی ہے :یہی ہمارے مقالے کا پیغام تھا۔

پای در زنجیر و ہم بی پردہ بود

گردن از شرم و حیا خم کردہ بود

دخترک را چون نبی بی پردہ دید

چادر خود پیش روی او کشید

ماازان خاتون ِطے عریان تریم

پیش اقوام جہان بی چادریم 

اس ایک روزہ کانفرنس کے بعد اردن کے اس سفر میں ہم نے وادی مدین میںحضرت شعیب ؑ جیسے نبی اللہ اور مقام جنگ موتہ پرحضرت جعفر طیارؓ،حضرت زید بن حارثہؓ،حضرت عبداللہ بن رواحہؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کرامؓ کے مزارات مقدس کی زیارات بھی کیں ۔جبل نیبو پر وہ مقام دیکھا جہاں سے حضرت موسی ٰ ؑ نے فلسطین کو دیکھا تھا ۔عمان سے ساڑھے تین گھنٹے کی مسافت پر واقع پیٹرا کے حیران کن آثار دیکھے ،بحر مردارمیں تیرتی زندگیوں کو دیکھا۔عمان میں بھی اصحاب کہف کے مقام پر حاضری دی ،حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے مقام پردعا پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ رومیوں کے آثار، ان کا ایمفی تھیٹر اور عجائب گھر دیکھا ،عمان کا قلعہ دیکھا،لیکن اس سب کچھ کی تفصیل کسی اور وقت خوانندگان کرام کی خدمت میں پیش ہو گی۔


ای پیپر