Dr Azhar Waheed, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
05 May 2021 (11:34) 2021-05-05

اس مضمون کا مقصد عبادت کو خدمت پر، یا خدمت کو عبادت پر فائق قرار دینا ہرگز نہیں بلکہ عبادت اور خدمت کے نادیدہ اور غیر محسوس رشتوں کی تفہیم پر گفتگو ہے۔

بندگانِ خدا کی خدمت بندگانِ خدا ہی کرتے ہیں۔ کوئی نفس کا بندہ، حرص وہوا کا اسیر مخلوقِ خدا کی خدمت پر قادر نہیں ہوتا۔ خدمت ِ خلق ایک شرف ہے… اور یہ شرف انہیں ہی دیا جاتا ہے جو اپنی ذات میں اشرف المخلوقات ہونا ثابت کرتے ہیں۔ اشرف المخلوقات ہونا کوئی پیدائشی وصف نہیں، یہ نسب نہیں بلکہ کسب ہے… اور کسبِ کمال ہے۔ یہ اسی طرح ہے، جس طرح ایمان موروثی چیز نہیں بلکہ عین شعوری حالت میں اقرار بالّلسانِ و تصدیق بالقلب کے ساتھ اپنے رب کے حضور تسلیم و رضا کے باب میں داخل ہونا ہے۔ اِسلام موروثی ہو سکتا ہے، ایمان سراسر ذاتی نوعیت کی ایک قلبی واردات ہے۔ احادیث میں ایمان کی تفصیلات میں اسے ذائقہ چکھنے سے تعبیر کیا گیا ہے اور ظاہر ہے، ذائقہ چکھنا ایک انفرادی تجربہ ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ سے ایک مرتبہ کسی نے سوال کرتے ہوئے کہا ’’سر! یہ انسان خلیفۃ اللہ ہے، تو…‘‘ آپؒ نے یکلخت اسے ٹوکتے ہوئے کہا ’’کون سا انسان؟ بھئی! سب انسان نہیں، بس وہی جو خلیفۃ اللہ ہے‘‘۔ مراد یہ ہے کہ انسان ہونا بھی ایک شرف ہے اور یہ شرف صرف کسی انسان کے گھر پیدا ہونے سے حاصل نہیں ہو جاتا۔ انسان ایک مجموعۂ صفات ہے، اُن جملہ اخلاق و صفات کا، جو خالق ِ انسان، انسان کے اندر دیکھنا چاہتا ہے۔

انسان کے لیے کامل انسانی صفات کے حصول کا راستہ انسانِ کامل ؐ کی اطاعت و محبت ہی سے وابستہ ہے۔ اتباعِ رسولؐ ہی کسی انسان کے اندر وہ اخلاق و صفات پیدا کرنے کا ایک مستند راستہ ہے، جو اخلاق و صفات اللہ کو محبوب ہیں، چنانچہ فرمایا گیا ’’آپؐ کہہ دیجئے اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ خود تم سے محبت کرے گا‘‘۔ گویا خدائے اَحد نے اپنے واحد محبوبؐ کی اطاعت ہی کو اپنے قرب کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص اللہ کے رسولؐ کے بتائے ہوئے طریقے کو ترک کر کے کسی خود ساختہ راستے پر چل نکلتا ہے اور اپنے سوشل ورک کو خدمت ِ خلق اور قرب ِ خداوندی کا ذریعہ جانتا ہے تو جان لینا چاہے کہ وہ گمراہی کی وادی میں بھٹک رہا ہے۔

اللہ کی مخلوق کی خدمت اللہ ہی کے بتائے ہوئے طریق پر ہو گی اور یہ طریقت اللہ نے اپنے رسولﷺ کی معرفت مخلوق کو بتا دی ہے۔ رسولِؐ خدا نے بتلا دیا ہے کہ مخلوق خدا کا کنبہ ہے۔ کنبہ عیال اور خاندان کو کہتے ہیں، کوئی اور کہے تو اپنے محدود فہم کی بنیاد پر یہ شرک ہو گا لیکن جب رسولِؐ خدا ارشاد فرمائیں تو یہ عین معرفت ِ خداوندی ہے اور حق ہے… بلکہ عین حق ہے۔ توحید کی ہر بات ہمیں رسالتؐ سے ملی ہے، توحید ہماری عقلی تحقیق نہیں۔ یہاں تخصیصِ نبویؐ کا نکتہ وا ہوتا ہے کہ ذاتِ رسولؐ کے علاوہ جو انسان بھی توحید کی بابت کوئی کلام کرے، وہ قابل ِ تشکیک اور تحقیق ہو گا، جب تک معیارِ دین ِ محمدیؐ پر پورا نہ اُترے، جب تک اُسے شہر ِ علمؐ اور درِ علمؓ سے سند میسر نہ آئے، قابلِ قبول نہ ہو گا۔ توحید سب سے بڑا غیب ہے۔ یومنون باالغیب کا مطلب دراصل یومنون باالرسولؐ ہے، کیونکہ غیب کی تمام خبریں ہمیں رسولؐ اللہ ہی کی معرفت میسر آتی ہیں۔ خدا پر وہی ایمان لاتا ہے، جو رسولِ خدا پر ایمان لاتا ہے۔ اللہ نے اپنی اطاعت کو اپنے رسول ؐ کی ا طاعت سے مشروط کر دیا ہے۔ ’’من یطع الرسول فقد اطاع اللہ‘‘… جس نے رسولؐ کی اطاعت کی، پس اُسی نے اللہ کی اطاعت کی۔ کتاب ِ ہدایت قرآن مجید فرقانِ حمید رسولؐ اللہ پر نازل ہوئی۔ کتاب ِ ہدایت ہادیؐ کے بغیر ہدایت نہیں دیتی، یعنی رسولؐ اللہ کے حوالے کے بغیر کتاب اللہ سے ہدایت نہیں مل سکتی۔ فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ کتاب ِ ہدایت سے ہدایت انہیں ملے گی جو متقین ہوں گے اور متقی وہی ہیں جو اُسوۂ رسولؐ پر کاربند ہیں۔ کتاب اللہ کو قرآنِ صامت کہا گیا ہے اور رسول اللہ کو قرآن ناطق !! کتاب اللہ کو رسولؐ اللہ کی سیرت سے جدا کرنے والے راہِ ہدایت سے دُور ہیں۔

یہی کلیہ خدمت کے باب میں ہے۔ دینی حوالے کے بغیر خدمت عام طور پر سیاست کا شعبہ ہے، یا پھر شہرت اور تجارت کا… یا پھر اپنے مزاج کی تکمیل کا کوئی راستہ ہے!! جس طرح سیاست کچھ لوگوں کا ایک اسپیشل کپ آف ٹی ہوتا ہے اس طرح خدمت کے لیے گلی کوچوں میں تنظیم سازی بھی کچھ مزاجوں کی گھٹی میں ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ خدمت ِ خلق اپنے مزاج اور مفاد کی تکمیل کے لیے کی گئی ہے یا پھر اللہ اور اُس کے رسولؐ کی خوشنودی کا ذریعہ جان کرخدمت کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ پہلی صورت میں انجمنِ خدام کا سرپرست ِ اعلیٰ اپنی تنظیم کا خود ذمہ دار ہے، اُس کی خدمت مقدار کی دنیا میں بلند و بالا عمارتوں اور نشریاتی رابطوں کے پیمانوں سے ماپی جائے گی۔ صرف اللہ اور رسولؐ کی خوشنودی چاہنے والے کی خدمت سائل اور مسئول دونوں کی روح کی سرشاری کا ذریعہ بنے گی اور اِس کا تعلق مقدار کی دنیا سے نہیں بلکہ معیار کے عالم سے ہو گا۔ فلاحی کام فلاح کا ذریعہ نہ بنے تو قابل ِغور ہے۔ مرشدی واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے ’’جب تک انسان اپنی روح کو بیدار نہیں کر لیتا، وہ کوئی فلاحی کام نہیں کر سکتا‘‘۔ رُوح کی بیداری کا تعلق ایمان بااللہ اور حبّ ِ رسولؐ سے ہے۔

بسا اوقات لوگ اِس خلطِ مبحث کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اگر مسجدیں بنانے کے بجائے یتیم خانے بنا لیے جائیں تو شاید زیادہ بہتری آ جائے گی، مزاروں پر چادر چڑھانے سے بہتر ہے کسی یتیم کے سر پر چادر ڈال دی جائے، حج اور عمرے پر رقم خرچ کرنے سے بہتر ہے، کسی سوشل ایکٹیوٹی پر خرچ کر دی جائے… بنظر ِ غائر دیکھا جائے، ایک سروے بھی کرا لیا جائے تو نتیجہ یہی نکلے گا کہ عبادات کی طرف راغب لوگ ہی خدمتِ خلق میں زیادہ رغبت رکھتے ہوئے پائے گئے۔ جسے خوف ِ خدا نہ ہو، یا پھر شوقِ خدا نہ ہو، وہ خدمت ِ خلقِ خدا میں کیونکر دل چسپی لے سکتا ہے؟

خدمت ہماری عبادت کو سند دیتی ہے اور عبادت ہمارے جذبہ خدمت کو مہمیز دیتی ہے۔ طعام المسکین سے لے کر زکوٰۃ، عشر، خمس اور اِنفاق فی سبیل اللہ تک ساری مالی عبادات دراصل ہماری بدنی عبادات کی زینت ہیں۔ مساجد کی حیثیت محض جائے عبادت ہی نہ تھی بلکہ مساجد سے ایک مقامی سوشل ویلفیئر سینٹر کے طور پر بھی کام لیا جاتا تھا۔ دین اور دنیا کو الگ الگ خانوں میں بانٹ دینے سے عبادت خدمت سے دُور ہوتی چلی گئی اور خدمت ایک سیکولر ایکٹیوٹی کے طور رواج پا گئی۔

خدمت کی آڑ میں عبادت سے فرار اختیار کرنے والے اور زعمِ عبادت میں خدمت سے انکار کرنے والے دونوں گروہِ غافلین میں شامل ہیں۔ مخلصین خدمت کی مصروفیت کے باوصف عبادت و گریہ زاری کے لیے رات کا دامن ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ مخلصین کی عبادت انہیں مخلوق کی خدمت سے غافل نہیں کرتی!!

 جس طرح سارے اچھے نام اُسی کے ہیں، اس طرح ساری اچھی صفات بھی اُسی سے منسوب ہیں۔ صفات ِ انسانی میں خدمت ِ انسانی ایک نہایت اعلیٰ صفت ہے۔ کوئی صفت صفاتِ خداوندی سے جدا ہو کر خوب نہیں ہو سکتی، خوب نہیں رہ سکتی۔ مخلوق کی ربوبیت کرنے والا اسے محبوب ہے، رزق تقسیم کرنے والا رازق کے ہاں خوب ہے… اور ان تمام ستودہ صفات کی سند محبوبِؐ رب العالمین سے پانے والا تو اُس کے ہاں خوب تر ہے!!


ای پیپر