میں فردوس عاشق اعوان کے ساتھ ہوں
05 May 2021 2021-05-05

یہ یقینی طور پر ایک نامقبول عنوان ہے جب میرے اپنے ٹوئیٹر ہینڈلر پر پول میںصرف بائیس فیصد لوگ فردوس عاشق اعوان صاحبہ کی حمایت کر رہے ہیں اور تین چوتھائی سے بھی زائد اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کی، یہ تعداد پہلے روز اٹھارہ فیصد تھی اور جب ہم ان کے لہجے اور استعمال کئے ہوئے لفظ کو سنتے ہیں جو سوشل میڈیا پر تو وائرل ہے مگر بہت سارے چینلز اسے بیپ لگا کر آن ائیر کررہے ہیں تو ہمیں وہ اسسٹنٹ کمشنر صاحبہ واقعی مہذب اورمظلوم نظر آتی ہیں مگر بطور صحافی میرے لئے یہ تکرار صرف ’فیس ویلیو ‘ہے اور کسی بھی صحافی کو کبھی فیس ویلیو کے ساتھ نہیں جانا چاہیے۔ یہ معاملہ اس تکرار سے نہ شروع ہوتا ہے اور نہ ہی ختم جس میں صوبائی حکومت کی سیاسی عہدیدار گلے سڑے پھل رمضان بازاروں میں فروخت کرنے پر برہم نظر آ رہی ہیں۔

میں نے سیالکوٹ میں اپنے ادارے کے نمائندے راجا سعد سعید سے واقعے بارے پوچھاتو علم ہوا کہ مشیر اطلاعات جب رمضان بازار کے دورے پر پہنچیں تو اسسٹنٹ کمشنروہاںموجود نہیں تھیں۔ مثالیت پسندوں کے ساتھ جائیں تو اے سی کاوہاں کیا کام، وزیر مشیر دورے کرتے رہیں مگر عملیت پسندی یہ ہے کہ وزیروں مشیروں کے دوروں میں اگر متعلقہ ذمے داراور عہدیدار ہی موجود نہیں ہوں گے توبہتری کیسے آئے گی۔اے سی صاحبہ کو فون کر کے بلایا گیا تو اس کے بعد بھی وہ اپنی گاڑی میں بیٹھی رہیں۔فردوس عاشق اعوان نے چیک کیا کہ بازار میں عوام کو سب سڈائزڈ ریٹ پر صرف ایک کلو چینی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ صوبائی حکومت یہ کم از کم حد دو کلو کر چکی ہے۔ راجا صاحب کے مطابق اے سی صاحبہ نے اس رعائیت سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا اوراس کے بعد پھلوں والا معاملہ ہو گیا۔ اب یہاں پر وہ لفظ استعمال ہوا جس پر لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ اے سی کو نہیں بلکہ چیف سیکرٹری اور وزیراعلیٰ کو کہا جا سکتا ہے مگر لگتایہی ہے کہ یہ بات عثمان ڈار کے لئے کہی گئی۔ عثمان ڈار سیالکوٹ میں پی ٹی آئی کے رہنما ہیں اور مذکورہ اسسٹنٹ کمشنر صاحبہ انہی کی سفارش پر لگائی گئی ہیں۔ عثمان ڈار ہمیں اس کے بعد ان کی بھرپور سپورٹ کرتے ہوئے بھی نظر آئے اور راجا سعد سعید کے مطابق پی ٹی آئی سیالکوٹ بھی اس وقت دو دھڑوں میں تقسیم ہے، ایک دھڑا بیوروکریسی کو سیاسی حکومت کے سامنے جوابدہ قرار دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کے ساتھ ہے۔

یہ کوئی بڑا واقعہ نہیں تھا مگر سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے اور نیوز چینلز کی ہیڈلائنز میں آنے کے بعدچیف سیکرٹری جواد رفیق ملک نے اس پر باقاعدہ ردعمل جاری کیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے رابطہ کیا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ مریم نواز بھی اپنے ہتھیار ٹوئیٹر کے ساتھ میدان میں آئیں اور فردوس عاشق اعوان پر چڑھائی کر دی۔ سونے پر سہاگہ، وزیراعلیٰ نے بھی ایک کمیٹی بنا دی اور ہمارے دوست کہنے لگے کہ اس واقعے پر فردوس عاشق اعوان سے استعفیٰ لیا جا سکتا ہے تو میں نے پورے واقعے پر دوبارہ غور کیا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ اس ملک میں سب سے آسان شکار سیاستدان کا ہے۔ سہروردی سے جو معاملہ شروع ہوا اور بھٹو، جونیجو، جمالی سے نواز شریف تک پہنچ گیا ، اس میں سیاستدان بیچارے تو محض کیڑے مکوڑے ہیں۔ اقبال کا شعر ہے، ’ میرا یہ حال ان کے بوٹ کی ٹو چاٹتا ہوں میں، ان کا یہ حکم دیکھ میرے فرش پر نہ رینگ‘۔ ذرا غور کیجیے کہ افسر شاہی اس ملک میں کیا ہے، گریڈ سترہ کی ایک ننھی منی نااہل فرعون کے لئے چیف سیکرٹری تک نے اس حکومت سے متھا لگا لیا ہے جس نے اسے چیف سیکرٹری لگایا ہوا ہے، یہ ان کا فلسفہ، یہ ہے ان کا اتحاد اور یہ ہے ان کی طاقت مگر دوسری طرف مریم نواز سے عثمان ڈار تک سیاستدان ہیں جو ایک سیاستدان کو ذلیل کروانا چاہتے ہیں، یہ ہے ان کی فکر، یہ ہے ان کی تقسیم اوریہ ہے ان کی کمزوری۔ ذرا سوچئے، ایک پولیس افسر سرعام نوجوان قتل کر دیتا ہے مگر اس سے استعفیٰ نہیں مانگا جاتا اور نوکری اس کا آئینی او رقانونی حق رہتی ہے۔ ایک ڈی ایم جی ( اب پی اے ایس) افسر درجنوںسرکاری ملازمین سے نوکریاں چھین کر ان کے گھروں میں فاقے، طلاقیں اور خودکشیاں تک کروا دیتا ہے اور اسی طرح کچھ دوسرے طبقات مگر ان سب کے مقابلے میں ایک سیاستدان اگر سخت لہجے میں جواب طلبی بھی کر لیتا ہے تو اسے ایشو بنا دیا جاتا ہے، قابل گردن زدنی قرار دے دیا جاتا ہے۔

میں نے واضح کیا اور پھر کرتا ہوں کہ میں کبھی فردوس عاشق اعوان سیاست کے انداز اور زبان کے اسلوب کا حامی نہیں رہا مگر وہ یہ لہجہ اور زبان دوسرے سیاستدانوں ، ان کی ماوں، ان کی بیٹیوں کے لئے استعمال کریں تو وہ بہادر ہیں، ان کے لئے تالیاں ہیں، عہدے ہیں لیکن اگر کسی چھوٹی سی مقدس گائے کے لئے ہوجائے تو ہاہا کار مچ جائے، سیکرٹریٹ میں زلزلہ آجائے، ایوان وزیراعلیٰ تک ہل جائے۔ میں نے گریڈ سترہ کے یہ چھوٹے چھوٹے خدا دیکھے ہیں جن کے نئے نئے ڈالوں پر نیلی نیلی بتیاں گھومتی ہیں، جن کے آگے انہی کی طرح کے سرکاری ملازم مگر بہت چھوٹے گریڈوں کے دوڑتے بھاگتے راستے بناتے ہیں۔ا نہیں ہر قانون ہر ضابطہ تحفظ دیتا ہے چاہے یہ کتنے مغرور، کتنے نااہل، کتنے کرپٹ ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ بیوروکریٹ خود کو وہ گائے سمجھتے ہیں جس کے سینگوں پر یہ دنیا قائم ہے، یہ سینگ ہلائیں گے تو دنیا ہلے گی اور یہی ڈی ایم جی گروپ اپنے معاشرے کی کریم ڈاکٹروں اور اساتذہ تک کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ وائے ڈی اے کے چیئرمین عاطف مجید، پنجاب ٹیچرز یونین کے جنرل سیکرٹری کاشف شہزاد چوہدری سمیت دیگر بہت ساروں کی سوشل میڈیا پر پوسٹس دیکھ لیجئے، آپ کو بخوبی اندازہ ہوجائے گا۔ میں نے فردوس عاشق اعوان جیسی دھڑلے والی سیاستدان کو گریڈ سترہ کی ایک اے سی کو جھڑکنے پر جس طرح وضاحتیں دیتے او رلڑائیاں لڑتے ہوئے دیکھا تودل چاہا کہ سیاستدانوں کو بتاو¿ں کہ یہ ہوتی ہے طاقت۔

میں بیوروکریسی کے خلاف نہیں مگر سرکاری ملازمین کی بڑھتی ہوئی طاقت پر سیاستدانوں کو ضرور غور کرنا چاہئے۔ فردوس عاشق اعوان نے جو لفظ استعمال کیا اس پر انہیں بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضرور معذرت کرنی چاہئے مگر کیا یہ بیوروکریسی بھی کبھی ان تمام حالات پر معذرت کرے گی جس کا سامنا ان کی بادشاہی اور طاقت کی وجہ سے عوام کو ہے۔ کیا کسی نے رمضان بازاروں کی بری حالت پر معذرت کی ، بورڈ آف ریونیو سمیت ہر جگہ کرپشن پر معذرت کی ، تھانوں کے قتل گاہیں بننے پر معذرت کی کہ شان صرف انہی بیوروکریٹوں کی ہے، ان عوام کی کوئی عزت کوئی شان نہیں جن کے ٹیکسوں سے یہ تنخواہیں لیتے ہیں۔ یہ مریم نواز سمیت فردوس عاشق اعوان کی مخالفت کرنے والے سیاستدانوں کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ایک سیاستدان اگر فردوس عاشق اعوان بھی ہو تو اسے اپنی اوقات یاد رکھنی چاہئے۔ وہ عوامی مسائل کی نشاندہی کرے مگر اپنی حدود میں رہ کر،ایک سیاستدان اور بیوروکریسی کو جپھے، یہ نہ قبول کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی معاف۔


ای پیپر