عوام....جائیں تو جائیں کہاں؟
05 May 2021 2021-05-05

ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا ۔

چند ماہ کی غیر حاضری کے بعد قارئین سے رابطہ ہورہا ہے۔ اس عرصے میں کتنا ہی پانی پلوں کے نیچے سے بہہ گیا۔ لیکن ہمارے حالات ہیں کہ جوں کے توں ہیں۔ 

”وبا“ کی تیسری لہر نے لوگوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ اور اب تو یہ حال ہے کہ عوام حکومتی تدابیر پر بھی کان نہیں دھرتی ،رینجر اور فوج شہروں میں موجود ہونے کے باوجود بھی لوگ نہ سماجی فاصلے کا خیال رکھ رہے ہیں اور نہ ہی ماسک کا استعمال مناسب طریقے سے کیا جارہا ہے۔ ادھر ماہ رمضان دکاندار اور تاجرحضرات بھی ”عید“ بنانے کی فکر میں دبلے ہوئے جاتے ہیں، یہی تو ایک مہینہ ان کے لیے منافع خوری اور سال بھر کی روٹیاں اکٹھی کرنے کا ہوتا ہے۔ رمضان المبارک کی برکتوں سے، گھٹیااور خراب مال بھی فروخت ہو جاتا ہے اور تو اور گلی سڑی سبزیاں اور پھل وغیرہ بھی دگنا نرخوں پر بک جاتے ہیں۔ پکوڑوں سموسوں کے بغیر پاکستانی روزہ افطار ہی نہیں کرسکتے سو ان اشیاءمیں باسی سبزیاں (آلو پالک بطور خاص) استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ زندگی کی ضروریات کا ہرسامان کئی گنا نرخوں کے ساتھ بیچا جاتا ہے گویا سب منافع خوروں کی چاندی اسی مہینے میں ہوتی ہے۔ رمضان بازاروں اور عید بازاروں میں رش دیدنی ہوتا ہے، ایسے میں بھی ”کرونا ایس اوپیز“کا خیال کیسے رکھاجاسکتا ہے؟ حکومت نے سخت اقدامات کا فیصلہ کررکھا ہے اور مکمل لاک ڈاﺅن ہوا چاہتا ہے۔ اور عید کے قریب تو بڑے بازار شاپنگ مال اور ٹرانسپورٹ تک بند کیے جارہے ہیں، اس اعلان کا ایک نقصان یہ ہے کہ عید کی شاپنگ کے لیے پہلے ہی بازاروں میں رش لگ گیا ہے، پنجاب میں ”کرونا کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے مگر لوگ احتیاط کرنے کو تیار نہیں ہیں۔اگلے روزایک سرپھرا تو تمسخرانہ انداز میں کہہ رہا تھا کہ پاکستانی مسلمان اگر یہ اعلان سنیں کہ کل قیامت آنے والی ہے تو اسی وقت تسبیحیاں اور جائے نماز مصلے دگنا مہنگے ہوجائیں ۔“

حکومت کی رٹ کا حال یہ ہے کہ کسی جگہ کوئی حکم ماننے کو تیار نہیں۔ عمران خان ایک ہیرو کھلاڑی تھے ان کا رُعب ایک سیاستدان کا ہرگز نہیں۔ صحافی ہوں یا دیگر ادارے اور ان کے افسران عمران خان کو ”ایزی“ لیتے ہیں اور پنجاب میں تو اس سے بھی بُرا حال ہے کہ ایک بالکل اجنبی سا ”شریف آدمی“ وزیراعلیٰ ہے، اس کی بات ہماری ”افسر شاہی“ کیسے سن سکتی ہے۔ یہاں پنجاب میں تو ایک ”بارعب اور سنجیدہ مدبر شخصیت کی ضرورت تھی سو ابھی تک وزیراعلیٰ کی شخصیت سازی کا کام جاری ہے اور وہ تربیت حاصل کررہے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ پنجاب کی گورننس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اوپر سے ان کے مشیر بھی عجیب بنائے ہوئے ہیں۔ اگلے روز سیالکوٹ کے رمضان بازار کا دورہ کرنے والی بھاری بھر کم سیاستدان فردوس عاشق اعوان نے ایک نوجوان اسسٹنٹ کمشنر کو سربازار جھاڑدیا ،مشیر وزیراعلیٰ کا رویہ انتہائی نامناسب تھا اے سی کی کوئی کوتاہی بھی تھی تو تحمل سے الگ سے سمجھایا جاسکتا تھا مگر انہوں نے تو اے سی تعینات کرنے والے کو بھی نہ بخشا.... ہوسکتا ہے مشیر صاحبہ کو بھی اسی شخص نے تعینات کیا ہو۔ سربزم تو بچہ بھی ڈانٹ برداشت نہیں کرتا وہ تو ایک شہر کی اے سی تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ اے سی نہایت باصلاحیت افسران میں شامل ہوتی ہیں۔ مشیر صاحبہ نے سربازار ان سے توہین آمیز سلوک کیا آفرین ہے کہ خاتون افسر چپکے سے الگ ہو گئیں، اب سوشل میڈیا پر مشیر صاحب کی دُھول اڑتی جارہی ہے واللہ اعلم بالصواب۔ 

یہ درست ہے کہ ہمارے ہاں بیوروکریسی خود کو ”ناخدا“ سمجھتی ہے مگر سبھی افسران ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ہمارے بیوروکریٹس میں نئے بھرتی ہونے والے افسران چاہے وہ مردہوں یا خواتین، پرانے افسران سے بہتر ہیں۔ فردوس عاشق اس وقت نہ تو منتخب ممبر اسمبلی ہیں نہ سینٹ کا کوئی عہدہ ان کے پاس ہے، انہیں نجانے کون سی خوبیوں کی بناپر کسی نہ کسی طرح کوئی عہدہ دے دیا جاتا ہے ایک تو وزیراعلیٰ پنجاب اوپر سے ان کی مشیر فردوس عاشق اعوان .... گویا ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا.... ایسے میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ٹریفک کا نظام ہو یا بازاروں میں مہنگائی کا طوفان اور ”وبائی کہرام“ مرنا صرف غریب کو پڑتا ہے۔ خالص چیزیں کہیں نہیں ملتیں۔ بات کچھ بھی سکول کالج فوراً بند کردیئے جاتے ہیں بازاروں، غلہ منڈیوں اور بس اڈوں ریلوے اسٹیشنوں پر رش اس طرح ہے۔ نزلہ صرف سکولوں کالجوں پر گرتا ہے۔ شفقت محمود ہردوسرے روز سکول بند کرنے کے اعلان کیلئے تیار رہتے ہیں۔ یہ رحمتوں کا مہینہ ہے اور مہنگائی کو نتھ ڈالنے والا کوئی وزیر نہیں ہے۔ عوام جائیں تو جائیں کہاں؟ 


ای پیپر