عالمی ادارہ صحت نے ٹرمپ کی چال بے نقاب کر دی
05 May 2020 (18:05) 2020-05-05

نیویارک: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے کہا ہے کہ واشنگٹن کا بیجنگ پر الزام محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہے، ہمیں امریکا کی جانب سے کوئی ڈیٹا یا مخصوص شواہد موصول نہیں ہوئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے امریکی صدر کے قیاس آرائی پر مبنی اس دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا کہ وائرس چین کی لیب میں تیار ہوا۔ عالمی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر برائے ہنگامی صورتحال مائیکل ریان نے ایک وِرچوول بریفنگ کے دوران کہا کہ وائرس کی ابتدا کے حوالے سے ہمیں امریکا کی جانب سے کوئی ڈیٹا یا مخصوص شواہد موصول نہیں ہوئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے نقطہ نظر کے مطابق یہ قیاس آرائی ہی ہے۔سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ چین میں گزشتہ برس سامنے آنے والے والا یہ مہلک وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا اور ممکنہ طور پر ووہان میں نایاب جانوروں کے گوشت کی مارکیٹ سے پھیلا۔دوسری جانب امریکا کے ماہر وبائیات انتھونی فاسی نے نیشنل جیوگرافک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ چمگادڑوں میں وائرس کے ارتقا کو دیکھیں اور جو وہ اب ہیں(سائنسی شواہد)بہت مضبوطی سے اس بات کے حق میں کہ یہ مصنوعی یا جان بوجھ کر چھڑا گیا نہیں ہوسکتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ہونے والا ارتقا بہت زیادہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ (وائرس) فطرت میں تیار ہوا اور اس کے بعد جانوروں میں آیا۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین پر وائرس کا پھیلا روکنے کے انتظامات کے حوالے سے بہت تنقید کرتے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ یہ ووہاں کی لیبارٹری سے شروع ہوا۔


ای پیپر