یہ ملاقات اِک بہانہ ہے! ....(دسویں قسط )
05 May 2020 2020-05-05

گزشتہ نو قسطوں کی ” میں، میں“کے بعد اب میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کی طرف آتا ہوں، اُن کے ساتھ چارموضوعات پر کھل کر گپ شپ ہوئی، ایک ”موضوع“ آف دی ریکارڈ ہے، اس میں ایک ایسا واقعہ بھی اُنہوں نے مجھے سنایا حیرت سے میں اُن کا منہ تک رہا تھا کہ ان کے ذہن کے کسی کونے میں یہ بات نہیں ہے ان کا دوست ہونے کے ساتھ ساتھ میں ایک صحافی یا کالم نویس بھی ہوں، جو عموماً کسی کے دوست نہیں ہوتے، اور اگر ہوتے بھی ہیں تو کسی نہ کسی مقصد کی وجہ سے ہوتے ہیں ویسے تو حکمران بھی کسی کے دوست کسی نہ کسی مقصد کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں، سو صحافت اور سیاست کی اگر نہیں بن رہی ہوتی تو اس میں زیادہ تر ” مشترکہ مفادات کا ٹکڑاﺅ“ ہی ہوتا ہے، یہ نہیں ہوتا کہ ملک وقوم کے مفاد میں ان کی نہیں بنتی یا بگڑتی ہے، البتہ یہ اپنے مفاداتی ٹکڑاﺅ” کو ملک اور قوم کے مفاد کا نام دیں تو یہ الگ بات ہے، ....بہرحال میں وزیراعظم عمران خان کا شکرگزار ہوں انہوں نے چوبیس سالہ رفاقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مجھ پر اعتماد کیا اور کچھ ایسے مسائل پر کھل کر بات کی جن سے بہت سی غلط فہمیاں دور ہوگئیں، میں اُس وقت ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا اگر بادشاہوں کی ساری خواہشات پوری نہیں ہوتیں تو ”رعایا“ کس کھاتے میں آتی ہے؟ یہ نہیں کہ یہ صرف پاکستانی بادشاہ کی حالت ہے، دنیا بھر کے بادشاہوں کا یہی معاملہ ہے ان کی ساری خواہشات پوری نہیں ہوتیں، سو ”اصل بادشاہ“ صرف ایک ہے جس کی مرضی کے بغیر پتا بھی نہیں ہلتا، جب ہمارے کچھ ”دنیاوی بادشاہ“ اس حقیقت کو فراموش کرنے لگتے ہیں تو پھر اصلی بادشاہ کی طاقت جوش میں آتی ہے اور سب کے ہوش اُڑا کر رکھ دیتی ہے، ”ابھی ہواﺅں اور پانیوں کو حکم نہیں ہوا، ابھی زمین کو حکم نہیں ہوا، ابھی صرف خوردبین سے بمشکل نظر آنے والا ایک وائرس ہے جس کے ڈر سے پوری کائنات ، دنیا بھر کے بادشاہ ہل کررہ گئے ہیں۔ اگر اس نے رحم نہ کیا، خوراک کے لیے بلوے شروع ہو گئے، تو یہ کاغذ کے جو نوٹ ہیں، اور پلاسٹک کے جو کریڈٹ کارڈز ہیں انہیں کھاکر لوگ اپنی بھوک نہیں مٹا سکیں گے، جب بھوک غالب آئے گی، پھر کون سا قانون، کون سی تہذیب کونسی معاشرت کونسی اخلاقیات ؟؟؟؟بس رہے نام اللہ کا۔ اور وہی ہمیشہ رہنے والا ہے، .... دوسرا موضوع جس پر وزیراعظم سے بڑی تفصیلی بات ہوئی وہ کورونا کا تھا، پھر میڈیا کی آزادی زیر بحث آئی، جس کی تفصیل آگے چل کر میں عرض کروں گا۔ اس میں بھی کچھ باتیں میں کھل کر نہیں لکھ سکتا، کچھ باتوں کو وزیراعظم نے ”آف دی ریکارڈ“ قرار نہیں دیا، پر میں اپنے طورپر یہ سمجھتا ہوں ان میں سے کچھ باتیں راز میں ہی رہیں تو اچھا ہے، اہل صحافت میں وزیراعظم عمران خان کے پہلے ہی بہت دشمن ہیں،میں ان باتوں کو ریکارڈ پر لاکر ان کے دشمنوں میں مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتا، جبکہ میں ان کی دعوت پر ان کے ساتھ ملاقات کی ہی اس لیے تھی، انہیں یہ مشورہ دوں میڈیا کے حوالے سے اپنی پالیسی دوستانہ بنائیں، میں ان میں سے بہت سی باتیں اس لیے بھی نہیں کرنا چاہتا کہ کسی صحافی ، کالم نویس یا اینکر کے پیٹ سے کپڑا اُٹھانا اصل میں اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھانے کے مترادف ہے کہ انیس بیس کے فرق سے ہماری ساری صحافت ایک جیسی فطرت وخصلت ہی رکھتی ہے، جیسے ہمارے حکمران بھی چاہے وہ سیاسی ہوں یا اصلی حکمرانی کے معاملات میں ایک جیسی خصلت اور فطرت ہی رکھتے ہیں، اور اس فطرت کا خلاصہ یہ ہے اپنا اقتدار بچانے کے لیے یہ کسی حدتک بھی جاسکتے ہیں، اس معاملے میں بعض اوقات انہیں یہ تک یاد نہیں رہتا انہوں نے جو حلف اٹھایا ہوا ہے کوئی حیثیت یا اہمیت اس کی بھی ہوتی ہے، وہ شاید یہ سمجھتے ہیں ” اصل میں حلف کی عبارت بولنے والا حلف اٹھا رہا ہوتا ہے، دہرانے والا نہیں اٹھارہا ہوتا، .... میڈیا کے حوالے سے وزیراعظم کے گلے شکوے جب پوری طرح میں نے سن لیے دوباتیں ان کی خدمت میںمیں نے عرض کیں، ایک تو یہ کہ آپ نے بھی اپنی بے شمار پالیسیوں یا خرابیوں کی وجہ سے میڈیا کو یہ موقع فراہم نہیں کیا کہ وہ آپ کی حکومت یا آپ کے بارے میں ویسی تعریف کرے جیسی آپ تمنا رکھتے ہیں یا جسے اپنا حق سمجھتے ہیں، دوسری اہم بات یہ ہے جس طرح اللہ نے اربوں کھربوں انسانوں کی شکلیں اور آوازیں ایک جیسی نہیں بنائیں اسی طرح ان کی فطرت بھی ایک جیسی نہیں بنائی،ہر انسان میں اپنی طرح کی خوبیاں ہیں اپنی طرح کی خرابیاں ہیں، ہوسکتا ہے آپ میں جو خوبیاں ہوں وہ مجھ میں نہ ہوں، اور مجھ میں جو خرابیاں ہیں وہ آپ میں نہ ہوں، ہمیں لوگوں کی خوبیاں خامیاں قبول کرکے ان کے ساتھ چلنا پڑتا ہے، کیونکہ جو لوگ ہمارے ساتھ چل رہے ہوتے ہیں انہوں نے بھی ہماری خوبیوں خامیوں کو قبول کیا ہوتا ہے، اصل خرابی جزااور سزاکے نظام میں ہے، آپ کسی بھی شعبے کے بُرے خصوصاً کرپٹ لوگوں کو اپنادوست نہیں بنانا چاہتے نہ بنائیں، پر کیا یہ ضروری ہے آپ اپنی مخصوص طبیعت یا مزاج کے باعث کسی شعبے کے چند اچھے لوگوں کو خوامخواہ اپنا دشمن بنالیں؟ ، اس وقت یہ تاثر مل رہا ہے آپ یا آپ کی حکومت پوری میڈیا انڈسٹری کے خلاف ہے، میر شکیل الرحمان کی گرفتاری سے اس تاثر کو مزید تقویت ملی ہے، ممکن ہے آپ کا اس میں کوئی کردار نہ ہو، ممکن ہے یہ ساری کارروائی نیب نے اپنے طورپر کی ہو، پر بہت عرصے سے میڈیا کے حوالے سے آپ کی حکومت یا آپ کا جو رویہ یا غصہ محسوس کیا جارہا ہے اس سے لوگ اس یقین میں مبتلاہیں میر شکیل الرحمان کے خلاف شاید کوئی انتقامی کارروائی ہورہی ہے، میر شکیل الرحمان کے کیس میں واقعی جان ہے تو اس کا خمیازہ انہیں بھگتنا چاہیے، پر کسی بھی ”جمہوری حکومت“ کے حوالے سے یہ تاثر قائم نہیں ہونا چاہیے وہ اپنے مخالفین کے ساتھ انتقامی کارروائیاں کررہی ہے، .... مسئلہ صرف میر شکیل الرحمان کا بھی نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے آپ کا میڈیا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا جو رویہ ہے، اور آپ کے دیکھا دیکھی آپ کے وزیروں مشیروں کا اور ان کے دیکھا دیکھی کچھ سرکاری اداروں کا میڈیا کے ساتھ جو منفی رویہ ہے اس کے برے اثرات کا سب سے زیادہ نقصان آپ خود ہی کو ہورہا ہے، لہٰذا میں ضروری سمجھتا ہوں میڈیا انڈسٹری کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرنی چاہیے، اپنا دل بڑا کرنا چاہیے ، اس شعبے کے اچھے لوگوں کو اپنا دوست بنانا چاہیے۔ (جاری ہے)


ای پیپر