بھارتی انتہا پسند اب شاعر جاوید اختر کے درپے ہوگئے
05 May 2019 (14:06) 2019-05-05

نئی دہلی: ناموربالی ووڈ شاعر اور اسکرپٹ رائٹر جاوید اخترکو برقع پرپابندی کے مطالبے کے جواب میں گھونگھٹ پر پابندی کے مطالبہ پر ہندو انتہا پسندوں نے قتل کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی حد میں رہو راجستھان کی ثقافت پر انگلی نہیں اٹھا و، اپنے بیان پر تین دن کے اندر معافی مانگیں ورنہ وہ انہیں ان کے گھر میں گھس کر ماردیں گے۔

تفصیلات کے مطابق جاوید اخترنے بھوپال میں ایک تقریب کے دوران ہندوانتہا پسند جماعت شیوسینا اورحکمران جماعت بی جے پی کی جانب سے بھارت میں مسلم خواتین کے برقع پہننے اورنقاب کرنے پر پابندی کے مطالبے پر کرارا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگربرقع پر پابندی کا قانون پاس ہوا تو ریاست راجستھان کی ہندو خواتین کے گھونگھٹ کرنے پربھی پابندی عائد ہونی چاہیئے، قانون برقع اورگھونگھٹ دونوں کے لیے ایک ہونا چاہئے تاہم جاوید اختر کو برقع کے حق میں بیان دینا منگا پڑگیا۔

جاوید اخترکے برقع کے حوالے سے دئیے گئے بیان کے بعد ہندو انتہا پسند جماعت کرنی سینا نے جاوید اختر کو دھمکی دی ہے کہ وہ اپنے بیان پر تین دن کے اندر معافی مانگیں ورنہ وہ انہیں ان کے گھر میں گھس کر ماردیں گے۔کرنی سینا نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں مہاراشٹرا ونگ کرنی سینا کے سربراہ جیون سنگھ سولنکی نے جاوید اختر کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جاوید اختر اپنی حد میں رہو، ریاست راجستھان کی ثقافت پر انگلی نہیں اٹھا، میں جاوید اخترکو کہنا چاہتا ہوں کہ 3 دن کے اندر اپنے بیان پر معافی مانگو ورنہ کرنی سینا کا غصہ جھیلنے کے لئے تیار رہو۔


ای پیپر