05 May 2019 2019-05-05

یہ تو اللہ کا شکر ہوا، کہ غیرت مسلمانی جوش میں آئی، اور بھارتی فلمیںاب پاکستان میں نہیں دکھائی جاتیں، ورنہ تو گھر گھر میں اندرا گاندھی کی روح نظریہ پاکستان کو چڑانے کے لیے چڑیل کی شکل میں موجود ہوتی تھی، اور حیرت کی بات ہے، کہ درگادیوی کی اس پجارن نے بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالا ہوتا تھا۔

مگر جب سے بھارتی وزیراعظم مودی نے یہ تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کو ہم نے ہاتھ دکھایا تھا، اب حسینہ واجد نے بھی اپنا ہاتھ، مودی کو تھما دیا ہے اور اس حوالے سے اس نے آگ کے الاﺅ کے گرد پھیرے نہیں لگائے شاید اس لیے کہ اس نے دور ”مولانا بھاشانی“ سے گھیراﺅ جلاﺅ کا جو بازار گرم کیا ہوا ہے، وہ مسلمانوں کے خلاف ابھی تک جاری وساری ہے۔ قارئین کرام، اس دور میں ہندوستان کی پہلی رنگین فلم، مغل اعظم نے پاکستان کے رنگین مزاج تماش بینوں کے دل میں آگ لگادی ، اور چونکہ اس وقت پاکستان ٹیلی وژن کی ”محبت کا پھیلاﺅ“ اس قدر زیادہ نہیں تھا، لہٰذا لاہور سے دور دراز علاقوں سے کئی لڑکیاں، اور کئی شادی شدہ عورتیں فلم دیکھنے لاہور آپہنچیں، حالانکہ ان کے وارثین، بلکہ سرتاج قطعی طورپر مزاجاً ، اور مذہبی حوالے سے ان سے مختلف تھے، میری اس بات کی صداقت کی تصدیق ، اداکار رنگیلے کی واحد ہیروئین اداکارہ صاعقہ سے کرلیں، اس وقت وہ لاہور میں ہمارے گھرکے قریب ہی رہتی تھیں ، کیونکہ اس وقت آج کی مشہور ترین ہیروئین کی خالہ ملتان سے بھاگ کر لاہور آگئی تھی، اور اس کی خالہ زاد بہن بھی اسی ”ہلچل“ کے نتیجے میں لاہور ہی کی ہوگئی ہے۔

اداکارہ صاعقہ نے، اسے میرے گھر بھجوادیا تھا، کہ آپ اسے سمجھائیں کہ فلموں میں کام کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا، میں نے اس کے شوہر کو فون کرکے لاہور بلوایا ، اور وہ اسے لے کر ملتان چلا گیا، قارئین بات بہت لمبی ہوجائے گی ، تاہم جیسے کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے، آج کل وہ خاندان فلم انڈسٹری پہ چھایا ہوا ہے، اور سنا ہے کہ وہ موصوفہ پھر بھاگ کر ایسی آئی، کہ واپس جانے کا نام ہی نہیں لیا، اور آج کل اسی خاندان کا نام ہے۔

فلم مغل اعظم میں شہنشاہ اکبر کا کردار بھارت کے مشہور اداکار پرتھوی راج نے ادا کیا تھا، اس نے اکبر بادشاہ بننے کی اس قدر ریہرسل کی تھی، کہ وہ گھر میں بھی اکبر بادشاہ بنا رہتا، اور اسی انداز میں گفتگو کرتا، اور بادشاہوں کی طرح گھروالوں کو حکم دیا کرتا تھا، جس کا یہ نتیجہ نکلا، کہ مرتے وقت بھی وہ اپنے آپ کو حقیقتاً اکبر بادشاہ ہی سمجھتا رہا، اور کہتا رہا کہ مجھے پانی پلایا جائے، مجھے کھانا کھلایا جائے وغیرہ وغیرہ ۔ نفسیاتی طورپر، اور ”ہیپناٹزم “ کا کلیہ وقاعدہ بھی یہی ہے کہ باتوں کو اس قدر تواتر سے دہرایا جائے، تو انسان ویسا ہی ہوجاتا ہے ، مثلاًیہ کہناکہ اب آپ کو نیند آرہی ہے، آپ بہت بڑے سرسبز گلستان اور پارک میں پھر رہے ہیں، ٹھنڈی ٹھنڈی ہواچل رہی ہے، حالانکہ کلینک سے باہر ”لو“ چل رہی ہوتی ہے۔ اور پھر آہستہ آہستہ مریض واقعی سو جاتا ہے۔

قارئین کرام، اب پورے پاکستانی عوام سیاستدانوں کے ہاتھوں Hypnotizeہوچکے ہیں، ہمارے سیاست دان گزشتہ پون دہائی یعنی 70سال سے ایک ہی بات دہراتے جارہے ہیں کہ پاکستان کی زبوں حالی اور اقتصادی بدحالی کے ذمہ دار سابقہ حکمران ہیں۔ مگر بانی پاکستان قائداعظم ؒ نے کبھی کسی پہ ایسا الزام نہیں لگایا۔ اب تک ہم نے تو یہ نہیں دیکھا کہ کوئی بھی سیاستدان اپنی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہو اور اگر ان سے آپ یہ سوال کر بیٹھیں کہ بحیثیت اکابر سیاست وحکومت آپ کی کیا ذمہ داری ہے؟ تو پھر وہی رٹا رٹایا فقرہ چست کردیتے ہیں۔ جس کی مشق وہ گزشتہ بائیس سالوں سے مسلسل کرتے چلے آرہے ہیں ریاست مدینہ کا نام لینے والے حضرت بایزید بسطامیؒ فرماتے ہیں کہ انسان کی قدروقیمت اس چیز سے نہیں جو اسے حاصل ہو جائے، بلکہ اس چیز سے قدروقیمت ہوتی ہے کہ جس چیز کے حصول کے لیے وہ تڑپتا ہے، اور تڑپتا رہا ہے۔

حضرت بایزید بسطامیؒ نے کسی بھی حکمران ، کسی بھی انسان ، اور کسی بھی سیاستدان کے لیے یہ الفاظ مشعل راہ کے طورپر بولے تھے، اگر واقعی کوئی شخص جو اپنی شخصیت کو سدھارنے، اور حکمران ہے، تو پوری قوم کو سنوارنے کے لیے ان الفاظ کے ایک ایک لفظ پہ غورکرے، تویہ بول عقدہ کشائی کا کام دیں گے۔

اب بقول وزیراعظم عمران خان، میری حصول حکمرانی کی جدوجہد میں کئی دفعہ اونچ نیچ آئی، حالانکہ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا، کہ کبھی انہیں ”نیچ“ آئی ہو ہمیشہ اونچ ہی رہی ہے۔ کیونکہ ان کے پشت پناہ قدوقامت کے ہی نہیں، قدروقیمت میں بھی قدآور ضرور ہیں، کینہ پرور بالکل نہیں مگر یہ الفاظ کہ انسان کی قدروقیمت اس چیز سے نہیں کہ جو اسے حاصل ہو جائے، اب تحریک انصاف کو حکمرانی تو مل گئی ہے، یعنی حاصل ہو گئی ہے، مگر قدروقیمت تو اس سے ہوتی ہے، جس کے لیے وہ تڑپتا رہا ہے، کیا تحریک انصاف کے چیئرمین کا تڑپنا، ملک میں اپنے روپے کی قدروقیمت کو گھٹانے کے لیے تھا ، کیا تحریک انصاف کا تڑپنا ، گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے کے لیے تھا؟ کیا ان کی کوشش ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا کرنے کے لیے تھی۔ کیا تحریک کی جدوجہد پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنے کے لیے تھی۔ وزیراعظم عمران خان جب اوئے نواز شریف، اوے زرداری ، اوے فضل الرحمن کہتے تھے، تو قوم کو یہ نوید سناتے تھے، کہ نواز شریف نے تین سو ارب روپیہ بدعنوانی سے اکٹھا کرکے باہر بھیج دیا ہے، وہ ہرقیمت پر واپس لاﺅں گا کیا قوم یہ پوچھنے کی جرا¿ت کرسکتی ہے کہ وہ پیسہ کب واپس آئے گا ، وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھا، اور ان کے سرپردست شفقت پھیرنے والوں نے بھی ہاں میں ہاں ملائی تھی، کہ متحدہ کی بھاری بھر کم شخصیت الطاف حسین کو کٹہرے میں لائیں گے، اور مولانا فضل الرحمن کو بھی کشمیر کمیٹی کا چیئرمین ہونے کی بدعنوانی اور کرپشن کا حساب دینا ہوگا .... ان وعدوں اور نعروں کا کیا بنا ؟؟؟ورنہ تو قوم علامہ اقبالؒکا شعر گنگناتی رہے گی۔

معلوم نہیں ہے یہ خوشامد کی حقیقت

کہہ دے کوئی الو کو اگر رات کا شہباز


ای پیپر