05 May 2019 2019-05-05

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جس روز نواز شریف کی ضمانت میں توسیع اور بیرون ملک علاج کی درخواست مسترد ہوئی اسی شام شہباز شریف کے ذریعے پارٹی کی نئی فدائی تنظیم کا اعلان سامنے آگیا، جی ہاں، اسی شہباز شریف کے ذریعے جو لندن جا چکے اور وہاں کبھی کسی بس سٹاپ پر موبائل استعمال کرتے اور کبھی بند دکانوں کے دروازے کھٹکھٹاتے نظر آتے ہیں۔ وہی شہباز شریف جن کے بارے کہا جا رہا تھا کہ وہ نواز شریف کی بطور وزیراعظم نااہلی کے دن سے ہی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کے مشن پر تھے مگر نئی تنظیم کے اعلان سے پہلے انہیں قومی اسمبلی میں نواز لیگ کے پارلیمانی لیڈر اور پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹایا جا چکا تھا۔آپ نئے مقرر کئے جانے والے عہدیداروں کا شاہد خاقان عباسی سے رانا ثناءاللہ خان تک جائزہ لیجئے،یہ سب نواز شریف کی ذات اور بیانئے کے وفادار اور محافظ ہیں، سو پیارے پڑھنے والو! جب نواز شریف دوبارہ جیل جا رہے ہیں تو یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ شہبا زشریف کی ناکامی کے بعد انہیں پارٹی امور سے بے دخل اور ان کے بیانئے کو عاق کر دیا گیا۔

یہ شہباز شریف کی ہی حکمت عملی تھی جس کے تحت گذشتہ برس جولائی کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کیا گیا تھا، حلف اٹھا کے اسمبلی کو جائزیت عطا کی گئی تھی،آپ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر اصرار نہ کرنے اور کسی وائیٹ پیپر کے اجرا نہ ہونے کو بھی شہباز شریف ڈاکٹرائن پر عملدرآمد کہہ سکتے ہیں مگر بظاہر یہی لگتا ہے کہ شہباز شریف یہ سب کچھ قبول کرنے کے باوجود اپنے بھائی کو ریلیف نہ دلوا سکے اوروہ دن آ گیا جب عین رمضان المبارک شروع ہونے کے ساتھ ہی دوبارہ جیل جانے کا حکم آ گیا حالانکہ شہباز شریف گروپ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مریم نواز شریف کی رہائی موجودہ صورتحال میں ایک بڑا ریلیف تھا مگر دوسرا نکتہ نظر یہ ہے کہ شہباز شریف گروپ نے یہی کہہ کر ذمہ داری لی تھی کہ نواز شریف نے ہی پارٹی کو موجودہ صورتحال تک پہنچایا ہے اور اگر اسے موقع دیا جائے تو پارٹی کے لئے حالات بہتر بنائے جا سکتے ہیں ۔یوں شہباز شریف کو پہلے وزیراعظم کے طور پر نامزد کیا گیا اورپھر پارٹی بھی انہی کے حوالے کر دی گئی۔ شہباز شریف جس مفاہمت کے ذریعے معاملات کو آگے لے جانا چاہتے تھے اس کی سب سے بڑی شرط مریم نواز کے بعد نواز شریف کی مستقل رہائی تھی۔

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ پارٹی پالیسیاں ٹوئیٹر پر’ چوولیں‘ مارتے ہوئے کچھ نام نہاد ایکٹی ویسٹس اورسستے سیلی بےری ٹیز کے مفت مشوروں پر بننی چاہئیں تو آپ کی فہم و فراست کو سلام پیش کیا جا سکتا ہے مگر بہرحال پی ٹی آئی کے بعد مسلم لیگ نون میں بھی مریم نواز شریف کی سرپرستی میں ایک ایسا ہی سوشل میڈیائی گروپ پیدا ہو چکا ہے جو سمجھتا ہے کہ جو زیادہ ری ٹوئیٹس لے سکتا ہے وہی سب سے بڑا دانشور ہے۔ سوشل میڈیا کے اس گروپ نے شہباز شریف اوراس کی سوچ پر اس وقت سے چڑھائی کر رکھی ہے جب وہ،نواز شریف اور مریم نواز شریف کی انتخابات سے قبل وطن واپسی کے موقعے پر، ایک جلوس لاہورائیرپورٹ تک نہیں لے جا سکے تھے مگر وہ اس امر کی وضاحت نہیں کرتے کہ اگر شہباز شریف لاہور ائیرپورٹ پہنچ بھی جاتے تو کیا اس مجمعے نے ائیرپورٹ کی دیواریں توڑ کے نواز شریف اور مریم نواز شریف کو باہر لے آنا تھا ، ہاں ، حقیقی زندگی کوئی فلم ہوتی تو ضرور نواز شریف ایک گھوڑے پر اپنی بیٹی کو ساتھ بٹھائے فتح کے پھریرے لہراتے ہوئے نکل آتے ، سکرین پر دی اینڈ کے الفاظ چمکنے لگتے اور شائقین تالیاں بجاتے ہوئے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاتے۔

چلیں، مان لیتے ہیں، شہباز شریف ناکام ہو گئے، وہ نہ ائیرپورٹ فتح کر سکے اور نہ ہی مستقل طور پر جیل کی دیواریں گرا سکے تو شہباز شریف بیانئے کو طلاق دینے کے بعد کیا اب دما دم مست قلندر ہو گا، ایک لمحے کے لئے ٹھہرئیے،کیا آپ جانتے ہیں کہ مسلم لیگ نون میں بہت سارے ارکان اسمبلی اور عہدے دار صرف اس اُمید پر ٹھہرے ہوئے ہیں کہ شہباز شریف معاملات سنبھال لیں گے، مسلم لیگ نون اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا نہ بھی بنی تو جیو او ر جینے دو کا فارمولاضرورمنوا لیا جائے گامگر جیسے ہی دما دم مست قلندر کا باقاعدہ اعلا ن ہو گا جس کی امیداگست سے ستمبر کے درمیان کی جا رہی ہے یعنی وہ وقت جسے لانے کے لئے مولانا فضل الرحمان بھی ملین مارچ کر کے اپنے مدرسوں میں پڑھنے والے اور پڑھ کر چلے جانے والے لاکھوں طالب علموں کو وارم اپ کر رہے ہیں مگر اس وقت تک ایسا نہ ہو کہ لوگ دائیں بائیں ہوجائیں۔ آپ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ احتجاجی سیاست میں نواز لیگ کے لوگ دائیں بائیں کیوں ہوں گے جب ایک طویل دھرنے کے دوران پی ٹی آئی کے لوگ دائیں بائیں نہیں ہوئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ پی ٹی آئی والوں کو علم تھا کہ ان کا مقابلہ نواز شریف سے ہے اور نواز لیگ والوں کوعلم ہے کہ ان کا مقابلہ عمران خان سے نہیں ہے۔

چلیں ، مان لیتے ہیں، نواز شریف کے صبر کا وہ پیمانہ لبریز ہو گیا جو پرویز مشرف کے مارشل لا میں بھی نہیں ہوا تھا اور وہ اس وقت بیگم کلثوم نواز کی شروع کی ہوئی تحریک کو آگے بڑھانے کے بجائے (مان لیتے ہیں کہ مشرف کی طرف سے جبری طور پر ) جلاوطن ہو گئے تھے۔یقین مانئے کہ مجھے رانا ثناءاللہ خان کو مسلم لیگ نون پنجاب کا صدر دیکھتے ہوئے بھی یقین نہیں آ رہا کہ نواز شریف لڑنے کے لئے تیار ہیں کیونکہ وہ پچھلے تیس ،پینتیس برسوں میں نہیںلڑے، وہ کہہ ضروردیتے ہیں کہ ڈکٹیشن نہیں لیں گے مگر جب بھی ڈکٹیشن ملتی ہے خاموشی سے لے لیتے ہیں کیونکہ وہ بہت زیادہ بولنے کے عادی نہیں۔ نواز شریف طاقت ور حلقوں سے لڑنے کے بجائے راستہ تلاش کرتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے وزارت عظمیٰ سے نااہل کئے جانے کے بعد سے اب تک راستہ تلاش کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا ہے اور میرے خیال میں مریم نواز شریف کی نائب صدارت ہو، طلال چودھری کی جوائنٹ سیکرٹری شپ ہو یا رانا ثناءاللہ خان کی صوبائی صدارت، یہ بھی منزل تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے۔ عین ممکن ہے کہ منزل تک پہنچنے کے لئے مولانا فضل الرحمان اس مرتبہ وہ کردارا دا کریں جو اس سے پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو نے ادا کیا تھا۔ ہم این آر او کی ساری کالک پیپلزپارٹی کے منہ پر ملتے ہیں مگر بے نظیر بھٹو کی مفاہمت اور واپسی نے ہی نواز شریف کی واپسی کا راستہ ہموار کیا تھا۔ مولانا فضل الرحمان مقتدر حلقوں پر سخت برہم ہیں کہ انہیں پارلیمان میں کیوں نہیں لے جایاگیا اور وہ دباو¿ کے لئے باالترتیب خیبرپختونخوا، بلوچستان،سندھ اورپنجاب کے کارکنوں پر انحصار کر رہے ہیں جبکہ نواز شریف کا پورا انحصار اپنی ہوم گراو¿نڈ پنجاب پر ہے۔کیا نواز شریف پنجاب کے سر پر لڑنا چاہتے ہیں تو کسی تاریخ دان سے کہئے کہ وہ پنجاب کی تاریخ پر تحقیق کرے اور بتائے کہ پنجاب پر خود پنجابیوں نے کتنی حکومت کی ہے ۔نواز شریف پنجاب کی تاریخ اورحال کو بہتر طور پرجانتے ہیں لہٰذا مجھے حیرت ہو گی اگر وہ پنجابیوں پر مشتمل لیگی کارکنوںفوج پر انحصار کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ سے اعلان جنگ کریں گے۔ قصہ مختصر، نواز لیگ کی نئی تنظیم بھی ہاتھی کے دکھانے کے دانت ہیں، کھانے کے دانت کہیں اور ہیں، نواز شریف لڑنا نہیں چاہتے ،وہ لڑنے کا اندازبنا کے جنگ جیتنا چاہتے ہیں۔

نواز شریف لڑنا چاہتے ہیں؟

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جس روز نواز شریف کی ضمانت میں توسیع اور بیرون ملک علاج کی درخواست مسترد ہوئی اسی شام شہباز شریف کے ذریعے پارٹی کی نئی فدائی تنظیم کا اعلان سامنے آگیا، جی ہاں، اسی شہباز شریف کے ذریعے جو لندن جا چکے اور وہاں کبھی کسی بس سٹاپ پر موبائل استعمال کرتے اور کبھی بند دکانوں کے دروازے کھٹکھٹاتے نظر آتے ہیں۔ وہی شہباز شریف جن کے بارے کہا جا رہا تھا کہ وہ نواز شریف کی بطور وزیراعظم نااہلی کے دن سے ہی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کے مشن پر تھے مگر نئی تنظیم کے اعلان سے پہلے انہیں قومی اسمبلی میں نواز لیگ کے پارلیمانی لیڈر اور پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹایا جا چکا تھا۔آپ نئے مقرر کئے جانے والے عہدیداروں کا شاہد خاقان عباسی سے رانا ثناءاللہ خان تک جائزہ لیجئے،یہ سب نواز شریف کی ذات اور بیانئے کے وفادار اور محافظ ہیں، سو پیارے پڑھنے والو! جب نواز شریف دوبارہ جیل جا رہے ہیں تو یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ شہبا زشریف کی ناکامی کے بعد انہیں پارٹی امور سے بے دخل اور ان کے بیانئے کو عاق کر دیا گیا۔

یہ شہباز شریف کی ہی حکمت عملی تھی جس کے تحت گذشتہ برس جولائی کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کیا گیا تھا، حلف اٹھا کے اسمبلی کو جائزیت عطا کی گئی تھی،آپ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر اصرار نہ کرنے اور کسی وائیٹ پیپر کے اجرا نہ ہونے کو بھی شہباز شریف ڈاکٹرائن پر عملدرآمد کہہ سکتے ہیں مگر بظاہر یہی لگتا ہے کہ شہباز شریف یہ سب کچھ قبول کرنے کے باوجود اپنے بھائی کو ریلیف نہ دلوا سکے اوروہ دن آ گیا جب عین رمضان المبارک شروع ہونے کے ساتھ ہی دوبارہ جیل جانے کا حکم آ گیا حالانکہ شہباز شریف گروپ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مریم نواز شریف کی رہائی موجودہ صورتحال میں ایک بڑا ریلیف تھا مگر دوسرا نکتہ نظر یہ ہے کہ شہباز شریف گروپ نے یہی کہہ کر ذمہ داری لی تھی کہ نواز شریف نے ہی پارٹی کو موجودہ صورتحال تک پہنچایا ہے اور اگر اسے موقع دیا جائے تو پارٹی کے لئے حالات بہتر بنائے جا سکتے ہیں ۔یوں شہباز شریف کو پہلے وزیراعظم کے طور پر نامزد کیا گیا اورپھر پارٹی بھی انہی کے حوالے کر دی گئی۔ شہباز شریف جس مفاہمت کے ذریعے معاملات کو آگے لے جانا چاہتے تھے اس کی سب سے بڑی شرط مریم نواز کے بعد نواز شریف کی مستقل رہائی تھی۔

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ پارٹی پالیسیاں ٹوئیٹر پر’ چوولیں‘ مارتے ہوئے کچھ نام نہاد ایکٹی ویسٹس اورسستے سیلی بےری ٹیز کے مفت مشوروں پر بننی چاہئیں تو آپ کی فہم و فراست کو سلام پیش کیا جا سکتا ہے مگر بہرحال پی ٹی آئی کے بعد مسلم لیگ نون میں بھی مریم نواز شریف کی سرپرستی میں ایک ایسا ہی سوشل میڈیائی گروپ پیدا ہو چکا ہے جو سمجھتا ہے کہ جو زیادہ ری ٹوئیٹس لے سکتا ہے وہی سب سے بڑا دانشور ہے۔ سوشل میڈیا کے اس گروپ نے شہباز شریف اوراس کی سوچ پر اس وقت سے چڑھائی کر رکھی ہے جب وہ،نواز شریف اور مریم نواز شریف کی انتخابات سے قبل وطن واپسی کے موقعے پر، ایک جلوس لاہورائیرپورٹ تک نہیں لے جا سکے تھے مگر وہ اس امر کی وضاحت نہیں کرتے کہ اگر شہباز شریف لاہور ائیرپورٹ پہنچ بھی جاتے تو کیا اس مجمعے نے ائیرپورٹ کی دیواریں توڑ کے نواز شریف اور مریم نواز شریف کو باہر لے آنا تھا ، ہاں ، حقیقی زندگی کوئی فلم ہوتی تو ضرور نواز شریف ایک گھوڑے پر اپنی بیٹی کو ساتھ بٹھائے فتح کے پھریرے لہراتے ہوئے نکل آتے ، سکرین پر دی اینڈ کے الفاظ چمکنے لگتے اور شائقین تالیاں بجاتے ہوئے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاتے۔

چلیں، مان لیتے ہیں، شہباز شریف ناکام ہو گئے، وہ نہ ائیرپورٹ فتح کر سکے اور نہ ہی مستقل طور پر جیل کی دیواریں گرا سکے تو شہباز شریف بیانئے کو طلاق دینے کے بعد کیا اب دما دم مست قلندر ہو گا، ایک لمحے کے لئے ٹھہرئیے،کیا آپ جانتے ہیں کہ مسلم لیگ نون میں بہت سارے ارکان اسمبلی اور عہدے دار صرف اس اُمید پر ٹھہرے ہوئے ہیں کہ شہباز شریف معاملات سنبھال لیں گے، مسلم لیگ نون اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا نہ بھی بنی تو جیو او ر جینے دو کا فارمولاضرورمنوا لیا جائے گامگر جیسے ہی دما دم مست قلندر کا باقاعدہ اعلا ن ہو گا جس کی امیداگست سے ستمبر کے درمیان کی جا رہی ہے یعنی وہ وقت جسے لانے کے لئے مولانا فضل الرحمان بھی ملین مارچ کر کے اپنے مدرسوں میں پڑھنے والے اور پڑھ کر چلے جانے والے لاکھوں طالب علموں کو وارم اپ کر رہے ہیں مگر اس وقت تک ایسا نہ ہو کہ لوگ دائیں بائیں ہوجائیں۔ آپ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ احتجاجی سیاست میں نواز لیگ کے لوگ دائیں بائیں کیوں ہوں گے جب ایک طویل دھرنے کے دوران پی ٹی آئی کے لوگ دائیں بائیں نہیں ہوئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ پی ٹی آئی والوں کو علم تھا کہ ان کا مقابلہ نواز شریف سے ہے اور نواز لیگ والوں کوعلم ہے کہ ان کا مقابلہ عمران خان سے نہیں ہے۔

چلیں ، مان لیتے ہیں، نواز شریف کے صبر کا وہ پیمانہ لبریز ہو گیا جو پرویز مشرف کے مارشل لا میں بھی نہیں ہوا تھا اور وہ اس وقت بیگم کلثوم نواز کی شروع کی ہوئی تحریک کو آگے بڑھانے کے بجائے (مان لیتے ہیں کہ مشرف کی طرف سے جبری طور پر ) جلاوطن ہو گئے تھے۔یقین مانئے کہ مجھے رانا ثناءاللہ خان کو مسلم لیگ نون پنجاب کا صدر دیکھتے ہوئے بھی یقین نہیں آ رہا کہ نواز شریف لڑنے کے لئے تیار ہیں کیونکہ وہ پچھلے تیس ،پینتیس برسوں میں نہیںلڑے، وہ کہہ ضروردیتے ہیں کہ ڈکٹیشن نہیں لیں گے مگر جب بھی ڈکٹیشن ملتی ہے خاموشی سے لے لیتے ہیں کیونکہ وہ بہت زیادہ بولنے کے عادی نہیں۔ نواز شریف طاقت ور حلقوں سے لڑنے کے بجائے راستہ تلاش کرتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے وزارت عظمیٰ سے نااہل کئے جانے کے بعد سے اب تک راستہ تلاش کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا ہے اور میرے خیال میں مریم نواز شریف کی نائب صدارت ہو، طلال چودھری کی جوائنٹ سیکرٹری شپ ہو یا رانا ثناءاللہ خان کی صوبائی صدارت، یہ بھی منزل تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے۔ عین ممکن ہے کہ منزل تک پہنچنے کے لئے مولانا فضل الرحمان اس مرتبہ وہ کردارا دا کریں جو اس سے پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو نے ادا کیا تھا۔ ہم این آر او کی ساری کالک پیپلزپارٹی کے منہ پر ملتے ہیں مگر بے نظیر بھٹو کی مفاہمت اور واپسی نے ہی نواز شریف کی واپسی کا راستہ ہموار کیا تھا۔ مولانا فضل الرحمان مقتدر حلقوں پر سخت برہم ہیں کہ انہیں پارلیمان میں کیوں نہیں لے جایاگیا اور وہ دباو¿ کے لئے باالترتیب خیبرپختونخوا، بلوچستان،سندھ اورپنجاب کے کارکنوں پر انحصار کر رہے ہیں جبکہ نواز شریف کا پورا انحصار اپنی ہوم گراو¿نڈ پنجاب پر ہے۔کیا نواز شریف پنجاب کے سر پر لڑنا چاہتے ہیں تو کسی تاریخ دان سے کہئے کہ وہ پنجاب کی تاریخ پر تحقیق کرے اور بتائے کہ پنجاب پر خود پنجابیوں نے کتنی حکومت کی ہے ۔نواز شریف پنجاب کی تاریخ اورحال کو بہتر طور پرجانتے ہیں لہٰذا مجھے حیرت ہو گی اگر وہ پنجابیوں پر مشتمل لیگی کارکنوںفوج پر انحصار کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ سے اعلان جنگ کریں گے۔ قصہ مختصر، نواز لیگ کی نئی تنظیم بھی ہاتھی کے دکھانے کے دانت ہیں، کھانے کے دانت کہیں اور ہیں، نواز شریف لڑنا نہیں چاہتے ،وہ لڑنے کا اندازبنا کے جنگ جیتنا چاہتے ہیں۔


ای پیپر