Photo Credit Yahoo

آرمی چیف نے 11 دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی
05 May 2018 (20:30) 2018-05-05

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 11 دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کی توثیق کر دی جبکہ 3 دہشت گردوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے،سزا پانے والے دہشت گرد 36 شہریوں اور 24 فوجی، فرنٹئیر کانسٹیبلری اور پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہیں، دہشت گردوں نے مجموعی طور پر 60 افراد کو قتل اور 142 افراد کو زخمی بھی کیا،تینوں دہشت گردوں نے عدالت میں جرائم کا اعتراف کر لیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے مطابق دہشت گرد سنگین وارداتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھے۔ سزا پانے والے مجرمان مالاکنڈ یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے اور معصوم شہریوں کو قتل کرنے کی وارداتوں میں بھی ملوث تھے۔اس کے ساتھ ساتھ سزا یافتہ مجرمان صوبہ خیبرپختونخوا میں رکن صوبائی اسمبلی عمران خان کے قتل میں بھی ملوث تھے۔آئی ایس پی آر نے کے مطابق دہشت گردوں پر مجموعی طور پر 60 شہریوں کو قتل، 36 کو زخمی کرنے کا الزام تھا، اور اس کے علاوہ پولیس اہلکاروں سمیت 24 سیکیورٹی اہلکاروں کو قتل کرنے کا الزام تھا جبکہ انہوں نے 142 معصوم افراد کو زخمی بھی کیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں سے سزائے موت اور دیگر سزائیں سنائی جاچکی تھیں، جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے، ملزمان کو اسلحے سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔

سزائے موت پانے والوں میں محمد زیب ولد محمد نواب، برہان الدین ولد عمر دراز، شہیر خان ولد رحمان الدین، گل خان ولد وصلی خان، سلیم ولد عبدالمتین اور عزت خان شامل ہیں۔محمد زیب پر پاک فوج کے 5 اہلکاروں کو شہید اور 6 کو زخمی کرنے، رکن اسمبلی عمران خان مہمند کے قتل، ملاکنڈ یونیورسٹی پر حملے سمیت دیگر تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کا الزام تھا۔دہشت گرد برہان الدین ولد عمر دراز، شہیر خان ولد رحمان الدین اورل گل خان ولد وصلی خان نے مردان کے علاقے زرگرانو کلی میں ایک نماز جنازہ پر حملہ کیا جس سے رکن صوبائی اسمبلی عمران خان مہمند سمیت 30 افراد شہید اور 100 کے لگ بھگ زخمی ہوئے تھے۔

سلیم ولد عبدالمتین نے 3 شہریوں سمیت 4 سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا جبکہ انہوں نے 12 افراد کو زخمی بھی کیا، اس کے علاوہ اس نے سوات کے سرکاری ہائی اسکول کو بھی تباہ کیا۔عزت خان پر بے گناہ شہریوں کی ہلاکت سمیت مسلح افواج اور ملا کنڈ یونیورسٹی پر حملوں کا الزام تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق تمام مجرمان نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا ۔


ای پیپر