ٹھنڈے دل سے غور کیجیے
05 May 2018 2018-05-05

8اکتوبر 1958ء کو جب جنرل ایوب نے پہلے مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کیا تو میں اچھرہ لاہور کے ایک سکول میں آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا۔ گھر میں روزانہ دو اخبار آتے تھے۔۔۔ ایک نوائے وقت جسے والد مرحوم تحریک پاکستان سے وابستگی کی بنا پر توجہ کے ساتھ پڑھتے تھے۔ دوسرا انگریزی اخبار ’پاکستان ٹائمز‘ جس کا دو بڑی ہمشیرگان جن میں سے ایک اسلامیہ کالج برائے خواتین میں بی ایس سی کی طالبہ تھی اور دوسری لاہور کالج فار وومن میں ایف اے کی تعلیم حاصل کر رہی تھی باقاعدگی کے ساتھ مطالعہ کرتی تھیں۔۔۔ کبھی کبھار اخبار کو اپنے ساتھ کالج بھی لے جاتی تھیں۔۔۔ گویا نصاب کا حصہ تھا۔۔۔ اسے پڑھنے سے انگریزی زبان کی استعداد میں اضافہ ہوتا تھا۔۔۔ گھر میں وقت کے رواج کے مطابق بجلی کی تاروں سے چلنے والا ایک عدد ریڈیو ہوا کرتا تھا۔۔۔ پرانا ہو جانے کی وجہ سے ہم سب کا ابا جی سے تقاضا تھا نیا لا کر دیں۔۔۔ وہ اپنے کاروباری سفر کے دوران کراچی گئے تو جرمنی کا ساختہ مشہور برانڈ والا ریڈیو Blaupuncut خرید لائے جو دیکھنے میں خاصا جاذب نظر تھا۔ برآمدے کی میز پر رکھا تو سج سا گیا۔۔۔ مختلف بٹن دبا کر اور چھوٹی سی سکرین پر سوئی کو آگے پیچھے کر کے دنیا کے کئی سٹیشنوں کی نشریات سنی جا سکتی تھیں۔۔۔ ایک دن میری ہمشیرگان نے دو ایک گھنٹے کی محنت کے ساتھ بی بی سی (اردو) کا سٹیشن تلاش کر لیا اور بڑی مسرت کے ساتھ اعلان کیا کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تھا ہم نے اپنے گھر میں لندن ڈھونڈ نکالا ہے اب روزانہ مستند خبریں سنا کریں گے۔۔۔ والد صاحب چھوٹا سا مگر کامیاب کاروبار چلاتے تھے اس لیے قدرے آرام سے گزر بسر ہو رہی تھے۔۔۔ انہیں عملی سیاسیات سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔۔۔ چونکہ تحریک پاکستان میں پر جوش حصہ لے چکے تھے۔۔۔ (بعد از مرگ گولڈ میڈل ملا) لہٰذا خود کو ملکی واقعات سے باخبر رکھنے کے لیے اخبار کا بالالتزام مطالعہ کرتے تھے۔۔۔ ریڈیو سے بھی خبریں سنا کرتے تھے۔۔۔ صبح برآمدے میں بیٹھ کر اپنے زیر تعلیم بچوں کے ساتھ واقعات پر تبصرہ کرتے تھے۔۔۔ کوئی چچا یا ماموں آ جاتے یا ابا جی کا پرانا دوست بیٹھک میں آ بیٹھتا تو یہ بحث تیز تر اور قدرے گہری ہو جاتی تھی۔۔۔ والدہ البتہ ان باتوں سے بے نیاز ہوتی تھیں۔۔۔ انہوں نے 1950ء میں بحری جہاز پر سفر کے ذریعے حج کی سعادت حاصل کر رکھی تھی۔۔۔ محلے اور رشتہ داروں میں حجن جی کے نام سے پکاری جاتی تھیں۔۔۔ اس زمانے میں پانچ ہزار میں بمشکل ایک عورت ہوتی تھی جس نے حج کیا ہوتا۔۔۔ لہٰذا والدہ کو اپنے حجن ہونے پر بہت ناز تھا۔۔۔ اس سفر کا ذکر کرکے ان کا چہرہ کھل جاتا تھا۔۔۔ نورانی لہریں ابھر آتی تھیں۔۔۔ ہر ملنے والی خاتون کے ساتھ خانہ خدا اور روضہ رسولؐ سے حاصل ہونے والے فیوض و برکات کا تذکرہ کرتیں۔۔۔ مختلف ممالک سے آئے ہوئے حاجیوں کی بابت بتاتیں۔۔۔ بین الاقوامی امور میں ان کی دلچسپی بس یہاں تک محدود تھی۔۔۔ والد اور ہمشیرگان محترم کا معاملہ مختلف تھا۔۔۔ ان کے اندر قومی اور عالمی امور کے بارے میں خاصی دلچسپی پائی جاتی تھی۔

اس ماحول میں پروان چڑھتے ہوئے میرے اندر چھوٹی عمر میں اخبار بینی کا شوق خاصا راسخ ہو گیا۔ ایک دن علی الصبح ہم سب گھر والوں کی تازہ اخبار پر نظر پڑی تو چیختی چلاتی شہ سرخیاں بتا رہی تھیں سب کچھ الٹ پلٹ کر رکھ دیا گیا ہے۔۔۔ کمانڈر انچیف جنرل ایوب نے صدر سکندر مرزا کے ساتھ مل کر مارشل لاء لگا دیا ہے۔۔۔ اس زمانے میں Breaking News کا نام تک کسی نے سنا تھا نہ ٹیلی ویژن چینل ہوتے تھے۔۔۔ جلد ریڈیو کا بٹن دبایاگیا وہاں سے مارشل لاء ریگولیشنز سنائے جا رہے تھے۔۔۔ خبر دی گئی کہ شام کو جنرل ایوب خان ریڈیو پر قوم سے خطاب کریں گے۔۔۔ سارا دن لوگوں پر کپکپی سی طاری تھی ساتھ یک گونہ خوشی بھی تھی۔۔۔ میں نے اخبار میں اس روز کیا سال بھر کی سب سے بڑی خبر بڑے انہماک کے ساتھ پڑھی۔۔۔ سکول اور بازار گیا ہر طرف اس کا چرچا تھا۔۔۔ لوگ سہمے ہوئے تھے اور قدرے خوش بھی۔۔۔ اعلان پر اعلان ہو رہا تھا۔۔۔ اشیائے ضرورت سستی ہو جائیں گی اور رشوت ستانی کا جہاں بھی پائی جائے قلع قمع کر کے رکھ دیا جائے گا۔۔۔ مجرموں کو سزا ضرور اور جلد ملا کرے گی۔۔۔ کوئی بچ نہ پائے گا۔۔۔ لوگوں کی خوش امید یوں اور بہترین تمناؤں کا کوئی حساب نہ تھا۔۔۔ ہر زبان سے ایوب خان کے لیے تحسین کی آوازیں اٹھ رہی تھیں۔۔۔ اس عالم میں فوج کا ذکر میں نے پڑھا نہ کہیں سے سنا۔۔۔ ایک رعب دار باوردی شخصیت تھی جو تمام حالات وو اقعات کا محور بنی نظر آتی تھی۔۔۔ 27 اکتوبر کو سکندر مرزا کو نکال باہر پھینکا گیا تو عام تبصرہ یہ تھا ایوب نے اچھا کیا۔۔۔ مرزا ناپسندیدہ شخصیت تھا اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ضروری تھا۔۔۔ کسی نے کم از کم عام آدمی کی حد تک فوج کا نام نہ لیا۔۔۔ نہ اس جانب کوئی اشارہ کرنا تھا۔۔۔ دو ایک برس گزر گئے مارشل لاء کی قلعی اترنا شروع ہو گئی۔۔۔ مہنگائی کے گراف نے آسمان کا رخ کر لیا اور سرکاری افسروں کی رشوت خوری کے چرچے دوبارہ زبان زدعام ہو گئے۔۔۔ یہاں تک کہ 1964ء میں محترمہ فاطمہ جناح جملہ قد آور اپوزیشن لیڈروں کو ساتھ لیے ایوب خان کو للکارتے ہوئے باہر نکل آئیں۔۔۔ سخت تنقید کی سیاسی توپوں کا رخ ایوب کی جانب تھا۔۔۔ فوج ہرگز نشانہ تھی۔۔۔ زبردست انتخابی معرکہ ہوا۔۔۔ کہا گیا ایوب نے بیورو کریسی کی مدد سے صدارتی انتخاب جیتا ہے۔۔۔ مراد

سول سروس کے اعلیٰ افسران تھے۔۔۔ 1965ء کی جنگ ہوئی عوام سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند اپنی فوج کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔۔۔ وہ جو ایوب آمریت سے سخت نالاں تھے سیاسی لیڈروں کارکنوں اور دانشوروں کا اچھا خاصا گروہ ایسے لوگوں پر مشتمل تھا مگر ان سب کی نظروں میں فوج عزیز تر تھی۔۔۔ اعلان تاشقند ہوا۔۔۔ بھٹو نے علم بغاوت بلند کیا ہر ایک نے ایوب کو ذمہ دار ٹھہرایا۔۔۔ فوج کے بارے میں کہا گیا اس نے جنگ جیت دکھائی تھی ایوب مذاکرات کی میز پر ہار گیا۔۔۔ 1968ء میں ڈکٹیٹر کے خلاف ملک گیر تحریک اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ مقصود صرف اتنا تھا ایوب سے نجات حاصل کی جائے۔۔۔ اخبار بینی کی رغبت ایف سی کالج لاہور سے بی اے کی ڈگری لے کر مجھے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات میں لے گئی۔۔۔ میں ایم اے کا طالب علم تھا۔۔۔ ہر سو ایوب مردہ باد کے نعرے گونج رہے تھے۔۔۔ فوج غیر متنازع تھی۔۔۔ یونیورسٹی سے فارغ ہوا۔۔۔ والد نے اپنی کمپنی کی جانب سے NIPA میں انتظامات کی تربیت حاصل کرنے کے لیے نامزدگی دلوا دی۔۔۔ میں نے وہاں زیر تربیت اعلیٰ افسروں کے ساتھ مغربی اور مشرقی پاکستان کے تمام بڑے شہروں کا دورہ کیا۔۔۔ پشاور اور کوئٹہ کے لوگ زیادہ تر ون یونٹ کے خلاف تھے۔۔۔ پنجاب اور بیوروکریسی کو ہدف تنقید بناتے تھے۔۔۔ مشرقی پاکستان گئے۔۔۔ ڈھاکہ چٹاگانگ اور آسام وغیرہ میں پنجابی اور اردو بولنے والوں پر مشتمل بیورو کریسی نشانہ بنی ہوئی تھی۔۔۔ فوج کا ذکر زبانوں پر نہیں آتا تھا۔۔۔ وہاں تو یہ عالم تھا لوگ جنرل اعظم خان کو رو رو کر یاد کرتے تھے۔۔۔ کہتے تھے ایوب نے کتنا برا کیا اتنا اچھا گورنر ہم سے چھین لیا۔

1969ء میں جنرل یحییٰ نے دوسرا مارشل لاء لگایا۔۔۔ انتخابات ہوئے نتائج جو بھی آئے قبول نہ کیے گئے۔۔۔ سرزمین مشرقی پاکستان پر جنگ ہوئی۔۔۔ بھارتی فوج نے مداخلت کی۔۔۔ سرنڈر ہوا۔۔۔ آدھا ملک ہاتھ سے چلا گیا۔۔۔ مغربی پاکستان کے گھر گھر میں سوگ تھا۔۔۔ کسی نے فوج کو مورد الزام نہ ٹھہرایا۔۔۔ کہا گیا یحییٰ خان نے اپنے چند شراب خور ساتھیوں کے ساتھ مل کر قوم اور فوج دونوں کو دھوکا دیا۔۔۔ اسی ایک شخص یا وقت کے چند حاضر سروس جرنیلوں کی مذمت کی جاتی تھی۔۔۔ فوج کے ساتھ عمومی ہمدردی تھی۔۔۔ 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے تیسرا مارشل لاء ٹھونس دیا۔۔۔ ذوالفقار علی بھٹو کے پاکستان قومی اتحاد کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو چکے تھے۔۔۔ یا مارشل لاء کی خاطر کامیاب نہیں ہونے دیئے گئے۔۔۔ بھٹو کو پھانسی ہوئی۔۔۔ پورے ملک کی رائے عامہ تقسیم ہو چکی تھی۔۔۔ ایک جانب بھٹو ہیرو تھا دوسروں کے یہاں ضیاء الحق اپنے اسلامی اطوار کی وجہ سے آنکھ کا تارا تھا۔۔۔ کم لوگ بیچ میں فوج کو لاتے تھے۔۔۔اگرچہ اس کا کردار زیربحث آنا شروع ہو گیا تھا۔۔۔ ضیاء الحق کے حادثے کے بعد نوّے کی دہائی کا آغاز ہوا۔۔۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف آمنے سامنے تھے۔۔۔ ایجنسیوں کا کردار زوردار طریقے سے زیربحث آیا۔۔۔ کارہائے سیاست میں ان کی خفیہ اور ظاہری مداخلت بڑا موضوع بن گئی۔۔۔ کافی ہاؤس سے لے کر اخبارات کے صفحات تک۔۔۔ سیاست دانوں کے درمیان ہونے والے مجادلوں میں بھی۔۔۔ فوج مگر بطور ادارہ کافی حد تک محفوظ رہی۔۔۔ بات البتہ ایجنسیوں کے کردار کے ساتھ چند حاضر سروس جرنیلوں تک آ چکی تھی۔۔۔ جنرل اسلم بیگ مرزا اور جنرل حمید گل کے خیالات و اعمال کا تذکرہ ہوتا تھا حالانکہ دونوں نے مارشل لاء نہیں لگایا لیکن پس پردہ کہانیاں بہت تھیں۔۔۔ غلام اسحق خان شاید آخری متنازع ترین سول بیوروکریٹ تھے۔۔۔ ان کے بعد یہ گروہ بہت پیچھے چلا گیا۔۔۔ میں کافی برس پہلے اخبار نویسی کی دنیا میں آ چکا تھا۔۔۔ 1993ء میں امریکی محکمہ اطلاعات کے پروگرام کے تحت چند صحافیوں کے ساتھ واشنگٹن و نیویارک وغیرہ جانا ہوا۔۔۔ وہاں تبادلہ خیال کی مختلف محفلوں میں ہم سے کچھ جرنیلوں کے بارے میں ضرور پوچھا گیاکہ کیا نظریات رکھتے ہیں۔۔۔ سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کا ذکر کم ہوا۔۔۔ بطور ادارہ فوج پر گفتگو بھی کم کم تھی۔۔۔ 12 اکتوبر 1999ء کو جنرل مشرف نے شب خون مارا۔۔۔ موصوف اور ان کے قریبی جرنیلوں کا خوب چرچا ہوا۔۔۔ ان کے دور کے آٹھ سالوں کے اواخر میں وردی کے ساتھ باہر نکلنا اگرچہ آسان نہ رہا تھا۔۔۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے صورت حال کو خاصا سنبھالا دیا۔۔۔ لمحہ موجود کے اندر صورت حال یکسر تبدیل ہو چکی ہے اور قومی سلامتی کے پیش نظر یہ بات خاصی تشویشناک ہے۔۔۔ اب کوئی جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام نہیں لیتا۔۔۔ فوج کی باتیں ہوتی ہیں۔۔۔ وہ سیاسیات ملکی کو کس ڈھب پر لے کر جانا چاہتی ہے۔۔۔ کیا عزائم اور کیا ارادے رکھتی ہے۔۔۔ تین مرتبہ منتخب ہونے والے برطرف شدہ وزیراعظم نوازشریف نے سرعام کہا آنے والے انتخابات میں میرا مقابلہ عمران خان یا زرداری سے نہیں نادیدہ قوتوں سے ہو گا۔۔۔ ہر کوئی سمجھ گیا کیا مراد ہے۔۔۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا عمران خان انہی قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔۔۔ جواب آں غزل کے طور پر کرکٹ کا کھلاڑی جمع سیاستدان بول اٹھا 2013ء کے انتخابات میں فوج نے نوازشریف کی مدد کی تھی۔۔۔ ایک بریگیڈیئر کا نام بھی لے لیا۔۔۔ اگلے روز اس کی جانب سے سخت تر الفاظ میں تردید کر دی گئی۔۔۔ اس کے معاً بعد نوازشریف نے گویاقومی سیاسی مشاعرے کے لیے مصرع طرحہ پیش کر دیا ۔۔۔ انتخابات میں اصل مقابلہ کسی سیاستدان کی بجائے خلائی مخلوق سے ہو گا۔۔۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی غزل سنا ڈالی آئندہ انتخابات نگران حکومت کی بجائے خلائی مخلوق کے زیرسایہ ہوں گے۔۔۔ الیکشن آف پاکستان نے نوٹس لیا۔۔۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید اور ان کے ساتھ پی پی پی کے سربراہ آصف علی زرداری بھی اکھاڑے میں آن کودے گویا ہوئے نواز تمہاری تو سیاسی پرورش ہی خلائی مخلوق نے کی تھی۔۔۔ قومی سیاسی افق پر تیزوتند بحث چھڑ گئی ہے۔۔۔ سیاستدانوں کے درمیان تو سرپھٹول جاری رہتی ہے۔۔۔ لیکن فوج جیسا محترم اور عزیز ترین ادارہ کیوں متنازع ہو گیا ہے۔۔۔ معاملات کی نوبت یہاں تک کیوں پہنچی ہے۔۔۔ آئین پس پشت چلا گیا ہے۔۔۔ پارلیمنٹ کا نام برسبیل تذکرہ لیا جاتا ہے۔۔۔ ہر جگہ فوج زیربحث ہے۔۔۔ اس پر قومی سطح پر ٹھنڈے دل کے ساتھ غور ہونا چاہیے۔۔۔ سیاستدانوں کو تو اپنی زبانوں کو لگام دینی چاہیے۔۔۔ لیکن فوجی قیادت کو بھی اس امر کو یقینی بنانا چاہیے وہ کسی طور فریق نہ بنے۔۔۔ نہ ایسا کوئی تاثر قائم ہو۔۔۔ اس کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے جن کے نتیجے میں فوج کی غیرمتنازع حیثیت پر معمولی سا حرف بھی نہ آنے پائے۔۔۔ یہ ادارہ قوم کے ہر ہر فرد کو دل و جان سے عزیز ہے۔۔۔ اس لیے کہ ہماری سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہے۔۔۔ ملک و قوم کو دشمن کے جارحانہ عزائم و اقدامات سے محفوظ و مامون رکھتا ہے۔۔۔ اس کے جوان بے دریغ قربانیاں دیتے ہیں۔۔۔ اسے سیاست سے دور رہنا اور ہر عالم میں رکھا جانا چاہیے۔۔۔ اس کی حرمت پر کوئی حرف نہ آئے۔۔۔ محض بیانات سے کام نہیں چلے گا بلکہ عملی اقدامات ہوتے نظر آنے چاہئیں۔۔۔ جیسا کہ انصاف کے بارے میں کہا جاتا ہے نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا نظر بھی آنا چاہیے۔۔۔ اسی طرح فوج کو سیاست یا اہل سیاست کے باہمی تنازعات سے دور اور مکمل طور پر غیرجانبدار رکھنا ازحد ضروری ہے۔۔۔ فوج کی حرمت باقی نہ رہے گی تو کوئی ادارہ یا شخصیت بچی نہیں رہے گی۔۔۔ اس کے مداوے کے لیے فوج کے اندر اور باہر سختی سے نوٹس لیا جانا چاہیے۔۔۔ فوج والوں کو ایسا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے کہ کسی قسم کے شک و شبہے کی گنجائش باقی نہ رہے۔۔۔ ملکی تاریخ کے ارتقاء کا کون سا عمل ہے جو صورت حال کو اس نہج پر لے آیا ہے ۔۔۔ آخری تجزیے میں اس کا ذمہ دار کون ہے ہمارے ستر سالہ تاریخ میں کون حقیقی معنوں میں کتنا طاقتور رہا ہے کتنا نہیں یہ تمام کا تمام قومی فریضہ ہے۔۔۔ جس کی ادائیگی میں کسی جانب سے کوئی کسر باقی نہیں رہنی چاہئے۔


ای پیپر