پیالہ الٹ گیا۔۔۔
05 May 2018 2018-05-05

یوم مئی پر مزدوروں کو تو خبر نہ ہوئی تاہم پورے ملک میں زور و شور سے منایا گیا۔ قبل از یوم مئی خبر پڑھی تو متن یہ تھا: ’ شکاگو کے ’شہداء ‘ کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا۔ پورے ملک میں عام تعطیل ہوگی‘۔ امریکہ کے ہمراہ جنگ لڑتے لڑتے ہم کہاں تک آن پہنچے۔ حقیقی شہادت ’ دہشت گردی‘ کہلانے لگی۔ امریکی مزدور شہید ٹھہرے۔ قبل ازیں ایک رینڈ کارپوریشن برانڈ عالم نے امریکہ میں 9/11 پر مرنے والے فائر بریگیڈ کے عملے کو بھی ’شہید‘ ٹھہرایا تھا۔ پتہ نہیں یوم مئی کے ان شہداء کی ’ فاتحہ‘ کے چاول ہمارے دیہاڑی دار ہانپتے کانپتے پسینے میں نہائے مزدوروں کو کھلائے گئے یا نہیں! امریکی امداد کی مد سے حکومت کو یہ کارِ خیر تو کرنا ہی چاہیے تھا! ایک اور ’ اعزاز‘ بھی اسی نوعیت کا ہمارے حصے آیا ہے۔ ایشیا کی سب سے بڑی صلیب گورا قبرستان کراچی میں جنگِ عظیم کے ’ شہداء‘ (شکاگو کے علاوہ ) کیلئے بلند کی گئی ہے۔ جدیدِ دور کا یہ منفرد لینڈ مارک کراچی کی سکائی لائن ( افق) کو سجانے والا 140 فٹ بلند، بلٹ پروف مضبوط ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے چہرے، روشن خیال بیانیے کی علامت ہے۔ اسے ذرا اس خبر کے تناظر میں پڑھیے کہ جرمنی کے صوبے باویریا کے وزیر اعلیٰ نے سرکاری عمارتوں میں صلیبیں لگانے کا حکم دیا۔ ’ مسیحی شناخت‘ اجاگر کرنے کو! اس اجلاس سے باہر آکر مرکزی دفاتر والی عمارت میں صلیب لٹکا دی۔ ان کی ریاستی سیکولرازم کو نقصان نہیں پہنچا! ہم سیکولر تر ہوگئے (مسیحی شناخت اجاگر کر کے) ۔ اگر وہ ہماری صلیب دیکھ لیں تو اس کی بلندی پر سر شار اور شرمسار ( اپنے تئیں) ہو جائیں۔ اسی روشن خیالی ، خیالی ہی میں ہمارے ہاں پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے ( کھانا گرم نہ کرنے والی خواتین کو ) گلابی موٹرسائیکلیں فراہم کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ تاہم ہمیں گلابی رنگ پر اعتراض ہے۔ کام مردانہ ہے تو رنگ بھی مردانہ ہی ہونا چاہئے۔ ورنہ کہیں زنانہ موٹرسائیکل بھی چلائیں اور کھانا بھی گرم کرنا پڑ جائے تو ساری مشقت دھری کی دھری رہ جائے۔ تین ہزار تقسیم کی جائیں گی۔ اللہ خیر کرے۔ ڈھونڈلی قوم نے فلاح کی راہ۔ اب ہم ترقی کی معراج کو بہت جلد چھولیں گے۔ یوم نسواں پر سائیکل چلانے والی خواتین کی ویڈیو ملاحظہ فرمائیے۔ ان کے تاثرات ( بھری سڑکوں پر سائیکل چلانے پر ) یوں تھے گویا چاند پر پہنچ گئیں!

موٹر سائیکل مریخ سرکروا دے گی؟ باقی حیا باختہ جملے جو لکھے بولے گئے۔۔۔ ہمارا قلم اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ آمدِ دجال کی تیاری دنیائے کفر میں تو برملا جاری و ساری ہے۔ 2001 ء سے امریکہ ہو یا اسرائیل اب مسلم دنیا دامے درہمے سخنے اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ مصر کی جمہوریت میں اخوان المسلمون کا منتخب ہو جانا، جمہوریت کے عالمی ٹھیکے داروں کو ہضم نہ ہوا۔ قے ہوگئی۔ جس کے بعد منتخب ڈاکٹر مرسی اور عوام کے اخوانی نمائندے حوالۂ زنداں ہوئے۔ جمہورت کو لگی الٹیوں میں (Vomitus) سے السیسی برآمد ہوا۔ جس نے عوام کا انتخاب ٹینکوں ، روڈ رولروں تلے دنیا کی آنکھوں کے سامنے روندا۔ گن شپ ہیلی کاپٹروں سے مردوں ، عورتوں ، طلباء طالبات کو بھونا۔ مذہبی رجحانات ، تمام تر عقوبت خانے بھرنے ، لاپتگیوں پر بھی دبائے نہ جاسکے۔ اب عالمِ اسلام کے اس نئے ( مصری) اتاترک ( جس نے قرآن پاک عالم دین کے منہ پر دے مارا تھا) نے 25 ہزار مساجد بند کر دی ہیں۔ رمضان سے پہلے یہ اقدام اس بنا پر ہے کہ یہ ماہِ مبارک نوجوانوں کی مذہبیت کیلئے مہمیز کا کام دیتا ہے۔ نیز 2 لاکھ مساجد اور مصلوں کی مانیٹرنگ ممکن نہیں۔ دنیا بھر میں مسلم اَئمہ اور خطیبوں و مفتیان کرام کی آزمائش کا دور ہے۔ ہمارے ہاں بھی اس کی شروعات ہے۔ کارند ے سامنے بیٹھ کر بیانیے مانیٹر کر رہے ہیں۔ خطبوں کی روح سلب کرنے کو ! سکولوں کے نصابوں سے پہلے مرحلے میں ایمان اور اسلام نکالا گیا۔ دوسرے مرحلے میں مغربی تہذیب کے عوامل شامل کئے گئے۔ میوزک، ڈانس ، برائیڈل شوز، سالگراہیں اہتمام سے منائی جانی۔ویلنٹائن ڈے و دیگر خرافاتی تہوار بھی۔ ہاتھوں میں موبائل واٹس ایپ، فیس بک کی فراوانیاں اس پر متزاد۔ مخلوط تعلیم ہر سطح پر چھوٹی عمروں میں ہی عشق عاشقی سکہ رائج الوقت۔ اس پر مزید اب بہانے بہانے نجی سکولوں میں جنسی تعلیم متعارف کروائی جاچکی ہے۔ اساتذہ گرتے تعلیمی معیار اور والدین بچوں کی عدم دلچسپی پر متوحش ہیں۔ ہر وقت موبائل بردار ۔ راتوں کو جاگنا۔ کلاسوں میں اونگھنا، ہوم ورک نہ کرنا، والدین اور اور اساتذہ کے احترام اور حکم براری سے فارغ۔ امتحانات جیسے تیسے گزارے لائق پاس کرنا۔ میچوں کے ہنگامے رہی سہی کسر پوری کر رہے ہیں۔ اب نوجوانوں نے انتخابات میں بھی گرم جوشی سے جلسہ درجلسہ حصہ لینا ہے۔ لڑکیوں نے بازو لہرانے، بھنگڑوں سے منظر نامہ سجانا ہے۔ قوم کا مستقبل کیا ہے؟ حال ہی میں چین میں کیچڑ جنگ (Mud War) کی تصاویر شائع

ہوئیں۔ ہزاروں نے شرکت کی۔ ڈانس بھی ہوئے۔ تاہم ہمارے ہاں اپنے محبوب دوست چین کے شانہ بہ شانہ کیچڑ اچھالنے کی جنگ ہی کا ( انتخابی ) موسم ہے۔ وہاں ہزاروں ، یہاں بھی شرکت کم نہیں! ڈانس بھی موجود ہیں۔ ادھر میکسیکو میں گدھوں کا میلہ ہوا۔ لوگ پالتو گدھے سنوار سجا کر لائے تھے۔ تصویر میں فدوی صورت گدھے دیکھے جاسکتے ہیں۔ مگر مالک بھی ہمراہ تھے ان کی خدمات ( مزدوری، محنت) کو خراجِ تحسین پیش کرنے کو۔ ہمارے ہاں گدھا تنہا اپنا راستہ پہنچانتا ہے اور بلا مالک پر فارم کرتا ہے۔ پرویز مشرف جب تک پاکستان رہے عدالتوں کیلئے عارضۂ کمر میں مبتلا رہے جو جہاز کی سیڑھیاں پھلانگنے سے ٹھیک ہوگئی تھی۔ راؤ انوار نقیب اللہ کے وکیل کے مطابق پچھلی پیشی تک ہشاش بشاش بلا ہتھکڑی مکمل پروٹو کال کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ اب وہ ’ اچانک‘ بیمار پڑ گئے ہیں۔ جیل سے گھر منتقل کر دیئے گئے ہیں۔ ان کا علاج بھی یہاں تو ممکن نہیں ہوگا۔ جہاز والا علاج ہی ایسوں کو راس آتا ہے۔ نقیب اللہ کے لواحقین قاتل، قاتل کا واویلا کرتے رہ گئے۔

ایک معاصر کالم نگار نے عمان میں ایک ’ دانشور‘ حافظِ قرآن سے کچھ نئے اسباق اخذ کر کے (رنیڈ کارپوریشنوں کی) نذر فرمائے ہیں۔ مثلاً عربی زبان میں لفظ علم ، سائنسی علوم کے لئے استعمال ہوتا ہے اور ’علماء‘ سے مراد سائنسی علوم کے ماہرین ہوتے ہیں۔ لیکن ہم نے بدقسمتی سے ( کس کی بدقسمتی ؟ امریکہ کی !) علم کو علمِ دین اور علماء کو دینی علم تک محدود کر دیا ہے اور یہ عالمِ اسلام کا بہت بڑا ’ڈیزاسٹر‘ (تباہی) ہے! اسی نوعیت کی مزید 3 تباہیاں بھی انہوں نے ان دانشور صاحب کے حوالے سے گوش گزار فرمائی ہیں! یوں تو پھر سائنسی علوم کے ’ علماء ‘ میں سے ایک شہرہ آفاق ’ عالم‘ سٹیفن ہاکنگ یہ کہتے کہتے مر گیا کہ ’خدا کا وجود نہیں ہے‘ ( اگلے ہی لمحے پتا تو چل ہی گیا ہوگا) مزید ایک سائنسی عالم آسٹریلیا کے ڈیوڈ گوڈیل ہیں۔ (جو راقمہ کے مضمون Ecology اور باٹنی کے ’عالم‘ ہیں) یہ 104 سال کی عمر پاکر جی جی کی تھک گئے ہیں۔ اب خود مرنے کیلئے سوئٹزر لینڈ جا رہے ہیں۔ آسٹریلیا میں خود مرنے Euthanasia کی اجازت نہیں ہے۔ انہیں غم یہ ہے کہ انہیں نہ کوئی بیماری ہے نہ غم! تاہم کہتے ہیں میں اس عمر کو پہنچ گیا ہوں کہ جس پر میں خوش نہیں ہوں! اس موت میں ان کی مدد کرنے والی تنظیم کا نام ہے۔۔۔ ’ ایگزٹ انٹرنیشنل! ‘ اس تنظیم کو تو کوئی ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالے! اس لئے کہ ہم ( مسلمانوں ، دانشوروں نہیں) سے پوچھا ہوتا تو بتاتے۔ اب تو گھبرا کے یہ ’ کہتے ہو‘ کہ مرجاؤ گے۔۔۔ مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جاؤ گے؟ اپنے پیش روہاکنگ کے پاس؟ جسے اب خدا نظر آچکا ہوگا۔ پناہ بخدا ! ہمارے والے تو سوئٹزر لینڈ کو مال بینکوں میں بھیجتے ہیں اور یہ حضرت موت ڈھونڈتے ہیں سوئٹزر لینڈ میں ؟‘ قبل ازیں ایک بوزنہ سائنس دان ڈارون بھی ہوگزرا ہے جس کی سائنس کی معراج افریقہ کے جنگل سے برآمد شدہ اس کے ’ اب وجد‘ تھے! بن مانس پُرکھے ! تو پھر نعوذ باللہ سائنس دان کے باپ دادا کیا ٹھہرے؟ آخر میں اس علم ، علمیت کا ماحصل مسقط کے اوپرا ہاؤس (Opera رقص و موسیقی کے ساتھ اداکاری) پر فاضل کالم نگار نے رشک آمیز حسرت ظاہر کی ہے۔ کہ یہ مسقط کی رواداری ، آرٹ سے محبت اور روشن خیالی کا مظہر ہے۔ ( جو پاکستان میں ہنوز موجود نہیں!) ایسی ہی عربی دانی کے ہاتھوں سعودی عرب کی مقدس سر زمین پر ایسے ہی ’ اوپرے‘ اقدامات کئے جاچکے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر ! پاکستان کو لکس ایوارڈ، ویٹ حسن تماشوں، سینما، تھیٹری خرافات اور 78 چینلوں پر کلبل کلبل کرتی ناچتی حسیناؤں میں کیا کسر ہے مزید اوپرے کی؟ آذانیں گھٹی گھٹی، خطبے ڈھکے چھپے۔۔۔ اور کیا درکار ہے رینڈ کارپوریشن کی تشفی کو ؟ متاعِ دینِ و دانش کس کس رنگ لٹ چکی ! اب بھی کیا انہیں۔ علم دین کو ’ہاکنگ نما عالم ‘ فراہم کرنے کی چاہت باقی ہے؟ دینی تو چھوڑیئے۔ پاکستان تو دنیاوی ، معاشی پسماندگی کی طرف لڑھکا چلا جا رہا ہے اس کی فکر کیجئے۔ ادنیٰ تصرف کے ساتھ : خواب تھے رات کے پیالے میں ۔۔۔ اور پیالہ الٹ گیا ’ہم‘ سے۔


ای پیپر