وفاقی میزانیہ 2018-19 ء۔۔۔ ایک جائزہ !
05 May 2018 2018-05-05

بجٹ کو اعدادو شمار کا گورکھ دھندا کہا جاتا ہے۔ اس گورکھ دھندے کو سمجھنا اور درست بیان کرنا اتنا آسان نہیں۔ میرے سامنے بڑے قومی اخبارات کے بجٹ پیش کرنے کے اگلے دن (ہفتہ 28 اپریل ) کے شمارے رکھے ہوئے ہیں ان میں بھی بجٹ کے حوالے سے کچھ بنیادی تصریحات میں یکسانیت نہیں پائی جاتی ۔ تاہم اس سے قطع نظر گہرائی میں جاکر دیکھتے ہوئے بجٹ کے مختلف پہلوؤں کاجائزہ لیتے ہیں ۔ ان میں بجٹ کے کل حجم ، آمدنی کے وسائل ، محاصل کی وصولی ، اس میں صوبوں کاحصہ ، دفاع پر اخراجات، قرضوں کی ادائیگی اور ترقیاتی منصوبوں کے مجوزہ اخراجات، ٹیکسوں میں چھوٹ ، ایک لاکھ ماہانہ آمدنی تک والوں کو ٹیکس سے استثنیٰ ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ہاؤ س رینٹ الاؤنس اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشنوں میں اضافہ، کھادوں پر سیلز ٹیکس میں کمی ، شرح نمو کا ہدف 6.2 فیصد مقرر کرنے اور مالیاتی خسارہ 5.5 فیصد تک رکھنے کے اقدامات اور بجٹ کے کچھ دوسرے پہلو شامل ہیں۔ بجٹ کا کل حجم 5932 ارب ، 50 کروڑ روپے (تقریباً 60 کھرب روپے ) ہے ۔ جو پچھلے سال کے 4753 ارب روپے کے مقابلے میں16.2 فیصد زیادہ ہے، اس سے قومی معیشت میں وسعت کا پتا چلتا ہے۔ بلا شبہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے پچھلے پانچ برسوں میں قومی معیشت کے حجم (وسعت ) میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت جون 2012 ء میں مالی سال 2012-13 ء کا جو بجٹ پیش کیا گیا تھا اس کا کل حجم 3510 ارب روپے تھا۔ جون 2013 ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت برسرِ اقتدار آئی تو وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے مالی سال 2013-14 ء (مسلم لیگ ن کی حکومت کے پہلے سال ) کا جو بجٹ پیش کیا اس کا کل حجم اُس سے کئی زیادہ تھا ۔ مالی سال 2014-15ء کے اسحاق ڈار کے پیش کردہ بجٹ کا حجم 4300 ارب روپے رہا ۔ جو مالی سال 2017-18 میں بڑھ کر 4750 ارب روپے تک پہنچ گیا ۔ اب اگلے سال کے مالی بجٹ میں تقریباً1200 ارب روپے کا اضافہ قومی معیشت کی ترقی اور پھیلاؤ کو ہی ظاہر نہیں کرتا ہے بلکہ اس سے وزیر خزانہ کے اس دعوے کا ثبوت بھی ملتا ہے کہ پاکستان دُنیا کی چوبیسویں بڑی معیشت کا درجہ رکھتا ہے۔ مالی سال 2018-19 ء کے بجٹ میں وسائل کی دستیابی کا تخمینہ 4917 ارب روپے لگایا گیا ہے جو مالی سال 2017-18 ء کے 4713 ارب روپوں کے مقابلے میں تقریباً200 ارب روپے زیادہ ہے ۔ قطعی مالیاتی وصولیات کا 3070 ارب روپے کا تخمینہ بھی رواں مالی سال (2017-18 ) کے تخمینے کے مقابلے میں 4.9 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے ۔ اسی طرح 2018-19 ء کے مالی سال کے میزانیے میں وفاقی مالیاتی وصولیات میں صوبوں کے حصے کا تخمینہ 2590 ارب روپے ہے جو 2017-18 ء کے میزانیہ کے تخمینے سے 8.6 فیصد زیادہ

ہے۔ مالی سال 2018-19 ء کے دوران بیرونی وصولیات کا تخمینہ 111.8 ارب روپے لگایا گیا ہے جو مالی سال 2017-18 ء کے مقابلے میں 33.4 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ 2018-19 ء کے دوران کل اخراجات کا تخمینہ 5932 ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں اخراجاتِ جاریہ کا حصہ 80.6 فیصد اور ترقیاتی اخراجات کا حصہ 19.4 فیصد ہے ۔ مالی سال 2018-19 ء میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP ) کا حجم 1650 ارب روپے ہے جس میں 850 ارب روپے صوبوں کیلئے اور 800 ارب روپے وفاقی PSDP پروگرام کے لیے مختص کیے گئے ہیں ۔ مالی سال 2018-19 ء کے دوران بجٹ خسارہ اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے بینکوں سے قرضہ لینے کا تخمینہ 1015 ارب روپے ہے جو 2017-18 ء کے نظر ثانی شدہ تخمینے سے نمایاں حد تک زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے اس گورکھ دھندے سے بجٹ کے حوالے سے کچھ ضروری معلومات ہی سامنے نہیں آتی ہیں بلکہ بجٹ کے فنی پہلوؤں پر کچھ روشنی پڑتی ہے۔ تاہم اب بجٹ میں پیش کردہ کچھ عام فہم اور مفادِ عامہ سے تعلق رکھنے والے پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین (سول اور فوجی تمام سرکاری ملازمین) کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ (ایڈہاک ریلیف ) دیا گیا ہے ۔ عمومی خیال یہی تھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد تک اضافہ ضرور کیا جائے گا لیکن محض 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔ تاہم متوقع اضافے میں کمی کو سرکاری ملازمین کے ہاؤس رینٹ سیلنگ اور الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ کر کے پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سے سرکاری ملازمین کو یقیناًمعقول ریلیف ملے گا اور عملی طور پر اُن کی تنخواہوں میں بحیثیت مجموعی 15 سے 20 فیصد تک اضافہ ہو جائے گا۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشنوں میں 10 فیصد اضافہ یقیناًناکافی ہے ۔ اس سے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے طبقے جسے عرفِ عام میں بزرگ شہریوں کا نام دیا جاتا ہے کی فلاح و بہبود اور مالی مشکلات سے حکومت کے اغماض اور عدمِ توجہ کی نشاندہی ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشنوں میں زیادہ نہیں تو کم از کم 15 فیصد اضافے کا اعلان کرے۔ اس سے بزرگ شہریوں پر مشتمل اس طبقے کی کچھ نہ کچھ اشک شوئی ہو سکے گی۔

مالی سال 2018-19 ء کے بجٹ میں دفاع کیلئے 1100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو پچھلے سال کے 997 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً10 فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔ دفاعی بجٹ میں یہ اضافہ اس لحاظ سے غیر معمولی نہیں کہ یہ جی ڈی پی کے پونے تین فیصد سے بھی کم ہے جبکہ کم از کم قابلِ قبول اضافہ 3 فیصد ہونا چاہیے۔ دفاعی بجٹ کے حوالے سے یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ دُنیا میں 32ویں نمبر پر ہے جبکہ بھارت کا بجٹ 8 ویں نمبر پر آتا ہے ۔ پاکستان کے دفاعی بجٹ کا 94 فیصد حصہ مسلح افواج کی دیکھ بھال ، تنخواہوں اور پنشن پر خرچ ہوتا ہے۔ جبکہ فوج کی ترقی و توسیع کیلئے صرف 6 فیصد بجٹ باقی بچتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں بھارت اپنے دفاعی بجٹ کا 20 فیصد تک جو پاکستان کے کل دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے اپنی افواج کی ترقی اور توسیع پر خرچ کرتا ہے۔ پاکستان کے دفاعی بجٹ کو سامنے رکھ کر ایک سپاہی پر اُٹھنے والے اخراجات کا جائزہ لیں تو پاکستان کے ایک فوجی سپاہی پر اوسطاً یومیہ خرچ 8.7 ڈالر بنتا ہے جبکہ بھارت میں ایک فوجی سپاہی پر یومیہ اوسطاً خرچ 17.5 ڈالر اُٹھتا ہے۔ اس طرح دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں پاکستان میں ایک فوجی پر سب سے کم رقم خرچ کی جاتی ہے ۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کے سالانہ میزانیے میں قرضوں کی ادائیگی کیلئے مختص 31 فیصد اور پبلک سروسز کیلئے مختص 28 فیصد اخراجات کے بعد ہمارے قومی اخراجات کی سب سے بڑی مد دفاعی بجٹ پر اُٹھنے والے اخراجات ہیں۔

مالی 2018-19 ء کے بجٹ میں کھادوں ، لائف سٹاک اور زرعی و صنعتی مشینری سمیت کئی اور متعلقہ چیزوں پر عائد سیلز ٹیکس اور دوسرے ٹیکسوں میں کمی اور ردوبدل تجویز کیا گیا ہے جس سے زرعی کھادوں سمیت، زرعی و صنعتی مشینری، الیکٹرک گاڑیوں، پولٹری، ایل ای ڈی لائٹس، ایل این جی ، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، نظر کے چشمے ، ٹائر، آپٹیکل فائبر کیبل ، سٹیشنری آئٹمز ، استعمال شدہ کپڑے اور جوتے سستے ہونگے۔ کھاد اور زرعی مشینری کی قیمتوں میں کمی زراعت کی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ نئے بجٹ میں ہر قسم کی کھادوں اور زرعی مشینری پر جنرل سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح 5 فیصد کو کم کر کے 3 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ زراعت کی ترقی اور کسانوں کی بہبود کے لیے یہ تجاویز حوصلہ افزا ہیں اور ان سے یقیناًملک میں زراعت کو فروغ اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔

مالی 2018-19 ء کا ایک اور قابلِ تحسین اقدام تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس چھوٹ کی مد میں اضافہ ہے جس کے تحت ایک لاکھ تک ماہانہ آمدنی والوں کو ٹیکس سے مکمل استثنیٰ حاصل ہو گا ۔ 24 لاکھ روپے تک سالانہ آمدنی والوں کو 12 لاکھ سے اوپر آمدنی پر 5 فیصد جبکہ 24 لاکھ روپے سے 48 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والوں کو 24 لاکھ سے اوپر آمدنی پر 10 فیصد ٹیکس دینا ہو گا۔ ٹیکس کی یہ چھوٹ تنخواہ دار طبقے کیلئے یقیناً ایک خوش آئندہ اقدام ہے ۔ یہاں پر ایک عام استعمال کی چیز پر ٹیکس میں اضافے کا ذکر کرنا ضروری ہے سیمنٹ جو ہماری تعمیرات کا اہم جز ہے اُس کے فی کلو پر 25 پیسے (50 کلو بیگ پر 12.50 روپے ) اضافی ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ اس سے سیمنٹ کے 50 کلو فی بیگ پر ابھی سے زیادہ نہیں تو کم از کم 15 سے 20 روپے اضافہ ہو چکا ہے یقیناًیہ زیادتی ہے اور اس کا تدارک ہونا چاہیے۔


ای پیپر