عورت کو گالی دینے والے ، پارسا اورفرشتے!!
05 May 2018 2018-05-05

تحریک انصاف کا مینار پاکستان پر جلسہ مشکوک اور اس میں شریک خواتین مہا مشکوک۔ چنانچہ جتنے بھی بازاری الفاظ اور گالیاں دستیاب ہو سکیں ان پر آزمانے کی ہر کس و ناکس کو کھلی اجازت ہے۔ اسی از خود اجازت کے تحت ن لیگ کے ایک پاک باز اور پارسا وزیر نے انہیں ان کی اصل اوقات کے مطابق مخاطب کیا ہے اور پی ٹی آئی کو بازاری عورتوں کا ایسا پلیٹ فارم قرار دیا ہے جہاں انہیں فواحشات کی کھلی آزادی مہیا کی جاتی ہے۔ جبکہ جس جماعت سے محترم پاک پاز اور پارسا وزیر صاحب کا تعلق ہے، اس میں سبھی شرم و حیا کی پتلیاں اور پتلے ہیں، بشمول وزیر صاحب کے، چنانچہ ان کے دامن اتنے شفاف ہیں کہ فرشتے جب چاہیں نچوڑ کر وضو کر سکتے ہیں۔ یہ وضو خانے سمجھے جانے والے پارسا، تحریک انصاف کے جلسوں میں شریک خواتین پر ہمیشہ سے تبرے بھیجتے آئے ہیں۔ اور ان کے بارے میں غلط پروپیگنڈے اور افواہیں پھیلاتے آئے ہیں تا کہ اس حلیے، باعزت گھرانوں کی وہ بہو بیٹیاں جو ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ سیاسی تبدیلی کے لیے گھروں سے باہر نکلی ہیں۔ وہ واپس پلٹ جائیں اور آئندہ کے لیے پکی توجہ کر لیں۔ اس سے دو فائدے حاصل ہو سکتے ہیں۔ اول، حریف جماعت کے جلسوں کا کلچر تبدیل ہو جائے گا۔ دوئم اس ملک کی باعزت اور پڑھی لکھی خواتین جو سیاسی تبدیلی میں اپنا کردار شامل کرنے کی غرض سے باہر نکلی ہیں، وہ اتنی بد دل ہو جائیں کہ دوبارہ ایسا خیال بھی دل میں نہ لا سکیں۔ یہ خواتین جنہیں میڈیا اور مخالف سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی کی کارکن کی پہچان سے پارتی ہیں۔ ان کی غالب تعداد جو جلسوں میں دکھائی دیتی ہے، وہ عام خواتین کی ہے، جو ہرگز بھی پی ٹی آئی کی کارکن نہیں۔ البتہ اس جماعت کی اس لیے حمایت کرتی ہیں کہ وہ اس وقت ملکی سیاست میں واحد جماعت ہے، جو پر خلوص، دیانت دار، اور پر جوش لیڈر شپ کے تحت ملک میں سچ مچ کی تبدیلی لانا چاہتی ہے، اور اس ضمن میں اس کی درد مندی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ مگر مخالفین جنہیں اقتدار میں رہنے کی لت پڑ چکی ہے، وہ اوچھے ہتھکنڈے آزمانے کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ وہ اس ملک کی باعزت خواتین کے کردار پر بھی کیچڑ اچھالنے سے باز نہیں آتے، اور جب ان سے جواب طلبی ہوتی ہے تو نہایت آرام سے اپنے الفاظ واپس لینے کی بات کر کے اپنا دامن بچا لیتے ہیں۔

یہ محض سیاسی ہتھکنڈے نہیں، ایک پرانا مائنڈ سیٹ ہے، جو ہراس عورت کو گالی دیتا ہے جو کسی مقصد کے لیے گھر سے باہر نکلتی ہے۔ چاہے وہ معلمہ ہو، ڈاکٹر ہو، شاعر و ادیب ہو، کسی دفتر میں کام کرتی ہو، یا کسی کاروباری ادارے میں۔ اسے یہ گالی کسی نہ کسی شکل میں کھانی ہی ہوتی ہے، اس کے منہ پر اس کی خوشامدیں کرتے، رال ٹپکاتے مرد، اس کی پیٹھ پھیرتے ہی اس کے متعلق نجانے کیسے کیسے خیالات کا اظہار کرتے ہیں، اور اسے کن کن القابات سے نوازتے ہیں۔ خصوصاً وہ عورت جو انہیں بآسانی دستیاب نہیں ہوتی۔ اسی لیے پچھلے ادوار میں عورتوں کو کام کرنے اور سیاسی شعور کا حصہ بننے کی اجازت نہ مل سکی، اسے برقع پہنا کر، چادر اوڑھا کر، اپنے سے دو قدم پیچھے چلنے کا حکم دینے والا مرد، ایک حاکم کی طرح اس کی روح پر قابض رہا۔ یہ شٹل کاک برقع جو آج ہمیں پشاور اور افغانستان میں دکھائی دیتاہے، ایک زمانے میں پنجاب کی خواتین بھی اسی برقعے کو پردے کے طو رپر استعمال کرتی تھیں، میری نانی کا سفید برقع مجھے یاد ہے۔ جس کے خیمے کے اندر چھپ کر میں گڑیاں کھیلا کرتی تھی، ایک دفعہ اس کی ٹوپی میں سر گھسیڑ کر دیکھنے کی کوشش کی، تو جالی سے سارا منظر ٹکڑے ٹکڑے دکھائی دیا، درخت کے بجائے اس کی ٹہنی کا حصہ، دروازے کے بجائے اس کی کنڈی، چہرے کے بجائے محض آنکھیں اور سڑک کے بجائے تارکول کا ایک چھوٹا سا سیاہ دھبہ ، پھر سمجھ آئی۔ یہ برقع پہن کر عورتوں کو ٹھڈے کیوں لگتے ہیں اور ہر ٹھڈے پر مرد حاکم کی جھڑکی، اندھی ہو دیکھ کر نہیں چل سکتی۔ اسی اندھی، ٹھڈے کھاتی گرتی، جھڑکیاں گھرکیاں سہتی عورت نے اب برقعے کی جالی کے پیچھے سے ٹکڑے ٹکڑے تصویر کو دیکھنے سے انکار کر کے، پورے منظر کو آنکھوں میں سمونے کی خواہش کا بر ملا اظہار کر دیا ہے۔ اور اس بے جا تشدد پابندی اور جبر کو مزید سہنے سے انکار کر دیا ہے۔ اور یہی ہے وہ جرم جس کی اسے طرح طرح کی اذیتیں پہنچا کر سزا دی جا رہی ہے۔ ایک طرف اس پر جسمانی تشدد ہو رہا ہے تو دوسری جانب وہ رانا ثنا ء اللہ ٹائپ بیمار ذہنیت کے لوگوں کے ہاتھوں ذہنی تشدد کا نشانہ بن رہی ہے۔ آج کے سوکالڈ پڑھے لکھے تہذیبی معاشرے میں اسے وہی گالی پڑ رہی ہے۔ جو صدیوں پہلے کا بے رحم جاہل اور تمدن نا آشنا معاشرہ اسے دیتا آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جائیں تو وہاں بھی اسے نہایت بے شرمی سے گشتی اور کنجری کہہ کر اس کی روح کو داغا جاتا ہے۔میں دیکھ رہی ہوں جیسے جیسے اظہار کے مختلف ذرائع مہیا ہو رہے ہیں۔ ایسے ہی ہم اپنے رویوں میں زیادہ پر تشدد ہوتے جا رہے ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اکیسویں صدی میں جب دنیا سمٹ کر ہتھیلی پر آچکی ہے، ہم عورتوں کے متعلق اس پرانے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرتے اور اسے معاشرے کا باعزت فرد تسلیم کر کے اس کے معاشرتی سیاسی سماجی اور معاشی کردار کو ابھرنے کا موقع دیتے۔ مگر افسوس کہ ہمارے ہاں معاملہ اس کے بالکل الٹ ہو رہا ہے۔ وہ عورت جو ہمیں جدوجہد پاکستان میں نمایاں کردار، ادا کرتی دکھائی دیتی تھی، قیام پاکستان کے بعد ہمیں سیاسی اور سماجی منظر نامے پر اگر وہ نظر آتی بھی ہے تو محض ایک علامتی کردار ایک شوپیس کی طرح۔ جو مردوں کے شانہ بشانہ نہیں، ہمیشہ اس کے عقب میں ایک خاموش بت کی طرح ایستادہ ہوتی ہے۔ مشرف دور میں جو 33 فیصد سیاسی کلچر کا حصہ بنیں۔ ان کی شکل و صورت لباس اور چال ڈھال پر تو بہت کچھ کہا گیا۔ مگر سیاست میں ان کا کردار؟ یہ ایک ایسا سوال ہے۔ جس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ البتہ سکینڈل کہ اس سے کوئی خوش قسمت ہی محفوظ رہی۔ یہی ہے ہمارا سیاسی کلچراور یہی ہے ہمارا سماجی کلچر ،جس میں عورت کی صلاحیتوں، قابلیت اور ہنر کے بجائے اس کے خال و خد پر بھرے ہوتے ہیں۔ اگر بد قسمتی سے وہ خوبصورت ہے۔ سلیقہ مند ہے۔ رکھ رکھاؤ والی ہے۔ اور مرد کے بل بوتے پر نہیں، اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر آگے بڑھنا چاہتی ہے تو پھر اسے ناکام بنانے کے لیے وہ سارا نظام حرکت میں آجاتا ہے۔ جو اس خوش شکل عورت سے ’’مستفید‘‘ ہونا چاہتا ہے۔ یہی مائند سیٹ آڑے آتا ہے۔ ہر باصلاحیت عورت کے، جو اپنے پاؤں پر کھڑا ہوناچاہتی ہے۔ اپنے قد سے دراز ہونا چاہتی ہے۔ یہی عورت ہمیں بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں آج دکھائی دیتی ہے۔ جو سماج کو بدلنا چاہتی ہے۔ عورت کے پرانے کردار کو بدلنا چاہتی ہے۔ اور یہی وہ جرم ہے، جو مخصوص سوچ رکھنے والے مردوں کو ان کے خلاف مزید اکسا رہا ہے۔ وہ اسے ہر گز ہر گز معاف کرنا نہیں چاہتے۔اسی لیے باعزت عورتوں کی روح کو بازاری اور گشتی کی سلاخوں سے داغتے ہیں تاکہ وہ ڈر کر گھروں میں محدود ہو جائیں، مگر سوال یہ ہے، ہوا کو روکنا کب تک ممکن ہے؟ وہ روشن دانوں کھڑکیوں کی درازوں اور دیواروں کے مساموں سے باہر نکل کر راستہ بنائے گی۔ اسے اوچھے ہتھکنڈوں سے روکنا ممکن نہیں !!


ای پیپر