ملتان کے اہل خیر کیلئے اچھی خبر
05 May 2018 2018-05-05

اسلامی تاریخ کے اوراق پے بکھرے واقعات دل میں ایک خوبصورت سی حسرت پیداکرنے کا سبب یوں بنتے ہیں کہ جب یہ ذکر ملتا ہے کہ نبی آخری الزماںؐ ضرورت پڑنے پر صحابہ کرامؓ سے انفاق فی سبیل اللہ کی اپیل کرتے ہیں تو معزز و محترم صحابہ کرامؓ اپنی اپنی حیثیت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور اس پر خدا کا شکر بجالاتے ہیں۔معروف واقعات میں اللہ اور اس کے رسول ؐ کا نام ہی صرف گھر میں چھوڑ آنے کا جب یہ ہستی اس محفل میں پیغام لاتی تو سب بڑی حسرت سے ان کی جانب دیکھتے ہیں اور خواہش ظاہر کرتے ہیں کہ کاش وہ بھی ایسا کر سکتے۔ جب یہ تذکرہ ملتا ہے کہ خلیفہ اول نے مسلمانوں کی بنیاد ی ضرورت پانی کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے جب یہودی کے زیرتسلط کنواں خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کیا تو یہ خواہش ضرور جنم لیتی ہے کہ کاش ہم بھی عہد نبوی ؐ میں پیدا ہوتے اور اس طرز کی سرگرمیوں میں شرکت کرتے اور انفاق فی سبیل اللہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ۔اللہ تعالیٰ نے جس دین کو پوری انسانیت کیلئے خیر و برکت کا ذریعہ بنایا ہے اس نے انفاق فی سبیل اللہ کے دروزاہ کو بند نہیں کیابلکہ اسی طر ح اس میں چاشنی پیدا کی ہے اور اجر کی مقدار بھی۔عہد نبوی کی مانند کوئی مومن آج بھی اپنی بساط کے مطابق دو کھجوریں ہی اللہ کی رضا کیلئے صدقہ کرے گا تو بھی اجر سے محروم نہ کیا جائے گا دیئے سے دیا جلا کر روشنی کرنے کا اہتمام اس دور میں بھی میسر ہے۔

گزشتہ اک عہد تک عیسائیت سے وابستہ افراد نے انسانی خدمت کا بیڑا اٹھایا اور دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ تعلیم اور صحت کے شعبہ جات ان کے خاص ہدف رہے لیکن سماجی سرگرمیوں کے پردے میں وہ اپنی مذہبی تعلیمات کے پرچار میں بھی مصروف عمل رہے اور سماج کاغریب طبقہ ان کا خاص ہدف رہا، اس بابت انہیں تنقید کا بھی سامنا رہا۔اس ماحول کو دیکھتے ہوئے امت مسلمہ سے وابستہ اہل خیر نے سماجی میدان میں خدمات فراہم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اس وقت دنیا بھر میں بہت سی سماجی تنظیمیں سماج کے صاحب ثروت افراد کے تعاون سے سرگرم عمل ہیں۔ یہ بلاامتیاز رنگ و نسل ، مذہب انسانیت کی خدمت کا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔ امت مسلمہ کی ان سماجی تنظیموں میں اک نام الخدمت فاؤنڈیشن کا بھی ہے۔ اپنی بہترین تنظیم، سماجی خدمت اور ایمانداری کے وصف کی بدولت بین الاقوامی سطح کی تنظیموں میں اب اس کا شمار ہونے لگا ہے۔ ارض پاک میں اس کا مکمل نیٹ ورک موجود ہے۔ تعلیم، صحت، کمیونٹی سروسز اور صاف پانی کی فراہمی کے علاوہ ہنگامی حالت میں متاثرین کی امداد اس کے خاص پروگرامات ہیں۔اس ضمن میں گزشتہ دنوں الخدمت فاؤنڈیشن ملتان کے جنرل سیکرٹری محترم ڈاکٹر ولی مجاہد کے ساتھ ایک خاص نشست ہوئی جو جنوبی پنجاب کے پسماندہ خطہ کے صدر مقام ملتان میں انسانیت کی خدمت پر مامور ہیں اور 11مئی 2018ء کو ملتان میں منعقد ہونے والی ڈونرکانفرنس بمقام شنگریلا باربی کیو بوقت آٹھ بجے رات کے لئے متحرک بھی جس میں معروف کالم نگار، محقق، اور سابق بیوروکریٹ اوریا مقبول جان بطور مہمان خصوصی شرکت کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد ملتان کے اہل خیر کو ایک چھت کے نیچے اکٹھا کرتے ہوئے انہیں انفاق فی سبیل اللہ کی دعوت دینا ہے اور ان کے سرمایہ سے اہل ملتان کی مشکلات کو کم کرنا ہے اور زیرتعمیر منصوبہ جات پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہے۔اس وقت یہ فاؤنڈیشن تین بڑے پروجیکٹ پے کام کررہی ہے پہلا الخدمت ہسپتال ہے جو ناگ شاہ چوک ملتان کے قریب زیر تعمیر ہے، 27کنال کا رقبہ اس کے لئے مختص ہے، 32کروڑ کا ہدف ہے، چوتھی منزل پر کام جاری ہے، اہل ملتان نے اس میں بھرپور حصہ ڈالا ہے۔ فی الوقت 150بستر پر مشتمل ہوگا تاہم 500بستر تک لے جانا اور اس کے ساتھ میڈیکل کالج کی تعمیر مستقبل کی منصوبہ بندی میں شامل ہے ۔ٹراما ، میٹر نٹی، میڈیسن کے شعبہ کا آغاز جلد متوقع ہے۔ دوسرا ہدف صاف پانی کی فراہمی ہے۔ بیماریوں کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ غیر شفاف پانی ہے۔ عام آدمی بازار سے صاف پانی خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔بالخصوص ہسپتالوں میں مریض اور ان کے لواحقین ، جیل خانہ جات میں قیدی، تعلیمی اداروں میں طلباء کے لئے صاف صحت مند ،شفاف اور ٹھنڈا پانی کسی غنیمت سے کم نہیں ہوتا۔الخدمت فاؤنڈیشن خلیفہ اول کے کارخیر ہی کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔ اس وقت نشتر ہسپتال میں عام افراد کو روزانہ دوہزار لٹر ٹھنڈا پانی فی گھنٹہ فراہم کیا جارہاہے اسی طرح کارڈیالوجی ہسپتال میں 800 گلاس ٹھنڈا پانی فی گھنٹہ کی فراہمی اس کارخیر میں شامل ہے۔ صاحب ثروت کے تعاون سے مستقبل قریب میں خواجہ فرید سوشل سکیورٹی ہسپتال ،ڈینٹل کالج ملتان اور جیل خانہ جات کے علاوہ نشتر کالج کے ہاسٹل میں صاف شفاف پانی کے پلانٹ نصب کرنے کا پروگرام ہے۔ یہ پانی آرسینک فری اور فوڈ اتھارٹی کے معیار کے عین مطابق ہے۔ تیسرا بڑا منصوبہ جو اہل خیر کیلئے خاص توجہ کا مرکز ہے وہ یتامیٰ کی پرورش ہے موصوف فرمارہے تھے کہ اس منصوبہ پر جب الخدمت نے کام کا آغاز کیا تو یتامیٰ کی تعداد صرف 37 تھی اب یہ تعداد دوسو سے زائد ہے نہ صرف ان بچوں کی پرورش کی ذمہ داری کا فریضہ انجام دیا جاتا ہے بلکہ ان کی تربیت پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ انہیں اسلام اور پاکستان کا سپاہی بنایا جارہا ہے قومی اہمیت کے حامل ایام کا انعقاد کیا جاتا ہے یوم پاکستان ، یوم حیا ،گرین ڈے وغیرہ علاوہ ازیں تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم مستحق طلباء و طالبات کیلئے وظائف کی فراہمی بھی الخدمت کا مشن ہے۔ اس ضمن میں مذکورہ طلباء کی بھی راہنمائی کی جاتی ہے۔ کیئر کونسلنگ کے حوالہ سے قومی سطح کی بھاری بھر شخصیت کے لیکچرز کا اہتمام کیا جاتا ہے ڈاکٹر ولی مجاہد فرمارہے تھے کہ ایک شعبہ جس پہ کسی سماجی تنظیم نے دھیان نہیں دیا الخدمت نے اس کو خاص طور پر فوکس کیا ہے۔ اس کا تعلق بھی شعبہ تعلیم سے ہی ہے۔ اس میں ڈاکٹر صفدر ہاشمی جو الخدمت ملتان کے صدر ہیں خاص طور پر متحرک ہیں۔ ان کی زیرنگرانی موبائل ہیلتھ یونٹ کا م کررہا ہے جو سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کی آنکھوں کا معائنہ کرتا ہے۔ چھوٹی عمر کے بچے اور ان کے والدین بصارت کے حوالہ سے زیادہ حساس نہیں ہوتے جبکہ بچوں کی آنکھیں متاثر ہورہی ہوتی ہیں تو الخدمت تمام بچوں کی آنکھوں کا معائنہ بلامعاوضہ کرتی ہے اور متاثرہ بچوں کو عینک بھی فراہم کرتی ہے۔ علاوہ ازیں کوڑا کرکٹ اٹھانے والے بچے بھی الخدمت کی آغوش میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ان کی تعلیم کااہتمام بھی الخدمت کررہی ہے۔ اس وقت ملتان میں 52بچے زیرتعلیم ہیں اس کا مقصد ان بچوں کو باوقار اور سماج کا ذمہ دارشہری بنانا ہے دیگر کمیونٹی سروسز کے پروگرام میں بلاسود قرضہ کی بے روزگار نوجوانان کو فراہمی ہے جس کی مالیت پندرہ ہزار روپے سے تیس ہزار روپے تک ہے۔ جس سماج کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں بے ایمانی کا دور دورہ ہے اس معاشرہ میں ہمارے قرض کی واپسی 100فیصد ہے اس کو سٹیٹ بینک آف پاکستان مانیٹر کررہا ہے۔ 2017ء کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 360خاندان اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ بچیوں کیلئے خودروزگار سکیم کے تحت سلائی مشین کی فراہمی ،معذور افراد کیلئے وہیل چیئر کی فراہمی بھی سماجی خدمت کے مشن کا حصہ ہے۔الخدمت فاؤنڈیشن ملتان کے پاس 250رضا کار اس وقت موجود ہیں جو کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں اور خدانخواستہ کوئی واقعہ رونما ہوجائے تو یہ دیگر ادارہ جات سے پہلے پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں تین ایمبولینس غریب مریضوں کیلئے ہمہ وقت دستیاب ہیں۔

ڈونر کانفرنس کے انعقاد کی بابت 85/A گلگشت کالونی میں منعقدہ اجلاس میں پنجاب کے صدر راؤ ظفر ، ملتان کے سینئر نائب محمد احمد چغتائی ، محمد طیب ، ڈاکٹر محمد سرور، اور دیگر ملتان کے اہل خیر کو اچھی خبر دیتے ہوئے رمضان کے مبارک ماہ کی آمد پر انفاق فی سبیل اللہ کی دعوت دے رہے تھے کہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہوکر مذکورہ منصوبہ جات کی تکمیل کیلئے اپنا حصہ ڈالیں۔جن سے اہل ملتان مستفید ہوکران کیلئے اجر اور صدقہ جاریہ کا اہتمام کریں گے ۔الخدمت فاؤنڈیشن کی نیک شہرت کا ہی فیض ہے کہ اہل خیر زرعی اور کمرشل اراضی انسانی خدمت کے لیے اس فاؤنڈیشن کو دے کر اپنی آخرت سنوارنے کے لئے کوشاں ہیں۔


ای پیپر