امریکی موجودگی میں افغانستان میں امن کیسے ممکن؟
05 مئی 2018 2018-05-05

افغانستان کے صوبے قندوز میں مقامی دینی مدرسے پر ہونے والی فضائی بمباری سے شہید ہونے والوں کی تعداد 150سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ شہید ہونے والوں میں بڑی تعداد مدرسے کے زیر تعلیم ان بچوں کی تھی جو حفظ قرآن مکمل کرنے کے بعد تقریب دستار بندی میں شرکت کے لئے وہاں اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود تھے۔دوسری طرف افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ وحشی فوج نے بھارتی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مدرسے پر بمباری کی جبکہ اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ بمباری کے دوران مدرسے میں طالبا ن کو کوئی اجلاس جاری تھا یا وہاں کوئی طالبان کمانڈر موجود تھا ، جبکہ امریکی فوج نے بھی قندوز میں مدرسے پر ہونے والی بمباری سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایسا کوئی حملہ نہیں کیا اگر کوئی ایسا کہہ رہا ہے تو وہ غلط ہے۔
’’وائس آف امریکہ ‘‘ کے مطابق حملے میں کم از کم 59 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر مدرسے میں زیرِ تعلیم بچے ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ نے افغان صوبے قندوز میں مدرسے پر ہونے والی بمباری میں درجنوں عام شہریوں کی ہلاکت کے الزام کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی صوبے قندوز میں واقع مدرسے میں تقسیم اسنادکا جلسہ جاری تھا جس کے دوران وہاں افغان ایئر فورس نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بمباری کی۔ اس تقریب میں سینکڑوں افراد شریک تھے۔افغان حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بمباری میں متعدد عام شہری بھی مارے گئے ہیں،جبکہ افغان وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حملے میں افغان طالبان کے ’’ریڈ یونٹ ‘‘ اور کوئٹہ شوریٰ کا ضلعی کمانڈر بھی شامل تھا۔ دوسری طرف افغان طالبا ن نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جارح امریکی و کٹھ پتلی فوجوں نے قندوز میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنا یا اور وحشی فوجوں نے بھارتی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے صوبہ قندوز ضلع دشت آرچی کے پھٹان بازار کے علاقے میں واقع ’’ہاشمیہ عمریہ ‘‘نامی دینی مدرسے پر ایسے وقت شدید بمباری کی، جب وہاں معمول کے مطابق حفاظ کرام اور دینی علمائے کرام کی دستاربندی کی تقریب جاری تھی ۔ اس حملے میں 150 علمائے کرام، طلبہ، حفاظ کرام اور ان کے عزیز و اقارب شہید و زخمی ہوئے جبکہ شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ افغان طالبان نے پہلی مرتبہ کسی حملے میں بھارتی طیاروں کو حملوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل اور صوبہ قندھار کے ضلع دامان میں 3 بم دھماکوں میں طلبہ اور صحافیوں سمیت 49 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ پہلے دھماکے میں خودکش حملہ آور نے افغانستان کی خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) کے دفتر کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس دھماکے کے 20 منٹ بعد دوسرا دھماکا ہوا جس میں موقع پر موجود ریسکیو اہلکاروں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔کہا جا رہا ہے کہ یہ قندوز مدرسہ پر حملہ کا جواب ہے۔ اس سے قبل 22 اپریل کو کابل میں ووٹر رجسٹریشن سینٹر کے باہر خود کش دھماکا ہوا تھا، جس میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 57 افراد جاں بحق اور 119 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ اسی طرح 12 اپریل 2018ء کو افغان صوبہ غزنی میں ضلعی حکومت کے کمپاؤنڈ پر طالبان کی جانب سے کیے گئے حملے میں ضلعی گورنر اور پولیس اہلکاروں سمیت سمیت 15 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
اس سے قبل افغان فوج کی جانب سے شمالی قندوز میں طالبان کو بمباری میں نشانہ بنایا گیا تاہم خیال کیا جارہا ہے کہ اس کے نتیجے میں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے ضلع دشت آرچی میں دینی مدرسے کو نشانہ بنایا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں 25 اسلام پسند ہلاک یا زخمی ہوئے۔طالبان کا کہنا ہے کہ اس مدرسے میں کوئی بھی جنگجو نہیں تھا اور مارے جانے والے عام شہری ہیں۔ یہ ضلع طالبان کے کنٹرول میں ہے اور ہسپتال میں موجود ایک ڈاکٹر نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں شہری اور طلبا شامل ہیں۔کچھ مقامی رپورٹس کے مطابق حملے میں ایک مسجد نشانہ بنی تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ دینی مدرسہ مسجد کا حصہ تھا یا نہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کے اعلان کے بعد سے افغانستان میں فضائی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی کہا ہے کہ زیادہ فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں زیادہ ہوئی ہیں۔ 2017ء میں اقوام متحدہ نے حکومت کی حامی فوج کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں میں 631 ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کی تھی۔یہ تعداد 2016ء میں سات فیصد زیادہ ہوئی۔ جس کے بعد اس قسم کے نقصانات میں نو فیصد کمی آئی ہے۔ سابق امریکی صدراوباما کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی انخلا سے افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا۔ عراق سے امریکی فوجی انخلا کو دو سال مکمل ہو چکے ہیں لیکن کیا امریکی فوجی انخلا کے بعد عراق میں امن قائم ہو گیا ہے یا وہاں وسیع پیمانے پر تشدد اور دہشتگردی کی وارداتیں بدستور جاری ہیں۔ اب امریکی صدر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے مزید امریکی فوج بھیجی جائے گی۔ یہاں وہ اس بات کو فراموش کر رہے ہیں کہ جنگ کا آغاز تو جو ملک بھی چاہے کر سکتا ہے خواہ وہ کمزور ہی کیوں نہ ہو مگر جنگ کو انجام پر پہنچانا اور اس سے پیدا ہونے والے نتائج کو سمیٹنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ عراق اس کی واضح مثال ہے۔ امریکا
نے عراق میں جنگ شروع کی، صدام اور ان کے ساتھیوں کا خاتمہ کیا، اور فتح یاب ہو کر واپس آ گیا، لیکن عراق ابھی تک بدامنی اور قتل وغارت کا شکار ہے۔ سیاسی عدم استحکام اپنے عروج پر ہے۔ کسی کو پتہ نہیں کل کیا ہو گا۔ افغانستان کا محاذ عراق سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ عراق خاصا ترقی یافتہ ملک تھا۔ یہاں قبائلی نظام اور جاگیرداریت کا کلچر خاصی حد تک دم توڑ چکا تھا لیکن افغانستان مکمل قبائلی معاشرہ ہے۔ یہاں انفرااسٹرکچر بھی نہیں ہے۔ صرف کابل ہی شہری کلچر کا حامل شہر ہے۔اس قسم کے معاشرے میں امن قائم کرنا انتہائی مشکل ہے اور ایسے معاشرے کے نوجوانوں پر مشتمل فوج کو پروفیشنل کلچر میں ڈھالنا بھی مشکل کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغان نیشنل آرمی کے افسر اور جوان بھی قبائلی عصبیتوں کا شکار ہیں اور ان کے نظریات اور خیالات بھی مبہم ہیں۔ اس قسم کی فورس زیادہ دیر تک متحد نہیں رہ سکتی اس میں توڑ پھوڑ کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ اگر امریکا یہ سمجھتا ہے کہ اس کی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں گی اور ان کی جگہ افغان نیشنل آرمی کمان سنبھال لے گی تو یہ دن میں تارے دیکھنے والی بات ہے۔


ای پیپر