سچ تو یہ ہے پر نظر
05 May 2018 2018-05-05

تین صد اٹھائیس صفحات اوربیس ابواب پر مشتمل ’ سچ تو یہ ہے‘سے ملکی سیاست کے کئی گھناؤنے گوشے بے نقاب ہوئے ہیں۔ وہی سیاست جو خدمتِ خلق سے عبارت ہوتو انسانیت کی معراج بن جاتی ہے مگر اقتدار کی آنچ سے انسانی تپش کیا بھیانک روپ اختیار کرتی ہے، ایک انسان اپنے جیسے انسانوں سے جینے کا حق چھیننے کے لیے کیا کیا حربے آزماتا ہے، جانے کوئی سبق حاصل کیوں نہیں کرتا اور بدمستی میں گالی بن کر رہ جاتا ہے۔ جن کے پاس اقتدار و اختیار ہو تواچھے اعمال سے دنیا میں نیک نامی اور آخرت میں نجات پا سکتے ہیں۔ چند روزہ عروج سے فرعون کا روپ کیوں دھار لیتے ہیں کبھی فرصت ملے تو سیاستدانوں کو سوچنا چاہئے ۔

چوہدری شجاعت حسین کا شمار اُن سیاستدانوں میں ہوتا ہے جو وضع داری اورمہمان نوازی میں ممتاز مقام رکھتے ہیں وہ دوستی اور تعلق میں منافقت کی بجائے صداقت کے قائل ہیں۔ عام طور پر کسی کو بُرا بھلا نہیں کہتے۔ اگر بات نہ پسند آئے تو خاموشی اختیار کر لیتے ہیں لیکن ’ سچ تو یہ ہے‘ میں انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر حقیقت بیان کردی ہے۔ یہ مزاج کے خلاف قدم کیوں اُٹھایا آیا طویل عرصہ سیاست کی پُرخار وادی میں آبلہ پائی کا کرشمہ ہے یا سیاستدانوں کو اچھائی کی طرف لانے کا جذبہ! شاید کبھی اگلے ایڈیشن میں وضاحت کر دیں۔ ابھی تویہ تشنگی کا احساس موجود ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ کتاب گھرکتاب کی مطلوبہ تعداد قارئین تک پہنچانے میں ناکام ہیں اور دھڑادھڑ فروخت جاری ہے۔ کتاب مارکیٹ میں آتی ہے اور ایک دودن میں بِک جاتی ہے۔

سیاسی کارکن ہی نہیں تاجر ،صنعت کاراور سرکاری ملازمین بھی کتاب خریدرہے ہیں۔ جس کو کتاب نہیں مل رہی وہ فوٹو سٹیٹ کرا رہا ہے۔ کچھ احباب تو سوشل میڈیا پر کتاب کے حصے تحفے میں بھجوا رہے ہیں۔ کتاب کی مانگ کی بڑی وجہ سچائی ہے۔ چوہدری شجاعت حسین کے خاندان سے اپنے بیس پچیس سالہ تعلق کے دوران میں نے اُنہیں جھوٹ بولتے یا وطن کے خلاف بات کرتے کبھی نہیں سُنا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی کتاب ہاتھوں ہاتھ لی جا رہی ہے۔ کسی اپوزیشن رہنما کی پاکستان میں لکھی جانے والی مقبول ترین خود نوشت ثابت ہوئی ہے حالانکہ طرزِ تحریر میں پختگی نہیں مگر کیونکہ سچائی کی ایک اپنی تاثیر ہے اور مصنف کی شہرت صاف گو انسان کی ہے جو کتاب پڑھتے ہوئے بھی واضح محسوس ہوتی ہے۔

1958میں گھر کی بیرونی دیوار گرائے جانے کے واقعہ سے لے کر والد کی شہادت تک کے واقعات کا اختصار سے تذکرہ ہے۔ والد کی گرفتاری پر معصوم ذہن کتنا متاثر ہوتا ہے، چوہدری شجاعت حسین نے والد کی پولیس میں ملازمت اور سیات میں آمد کی بات کرتے ہوئے کچھ چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ والد کی پہلی گرفتار ی اور گاڑی کے پیچھے کچہری تک بھاگنے کے واقعات پڑھتے ہوئے قاری کھوسا جاتا ہے۔ اندازِ بیاں سادہ اور عام فہم ہے۔ چوہدری شجاعت حسین نے اپنی سادہ طبیعت کے مطابق تصنع و بناوٹ نہیں آنے دی ،کچھ بڑھا بھی لیتے ہیں زیبِ داستاں کے مصداق واقعات کو بے جا طوالت نہیں دی۔ اگر چوہدری شجاعت حسین واقعات بیانی کے ساتھ مناسب تبصرہ بھی کر دیتے تو قاری پر گراں نہ گزرتا مگر انہوں نے تبصرے کی ذمہ داری قاری پر چھوڑ کر خود غیرجانبدار رہنے کو ترجیح دی ہے ۔

سیاسی سفر کے آغاز میں حکومتوں کی انتخابی عمل میں مداخلت اور پسند کے مطابق نتائج کے لیے حربوں کا مفصل ذکر ہے۔ جو لوگ عوامی مقبولیت کی بجائے دھونس دھاندلی سے فتح یاب ہوتے ہیں اُن کا سیاسی عروج دیرپا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے چوہدری ظہورالٰہی نے دل جیتنے کی سیاست متعارف کرائی۔ اسی لیے طویل عرصہ مقبولیت کے منصب پر فائز رہے اور حریفوں کوعوامی اکھاڑے میں پچھاڑتے گئے۔ موجودہ سیاسی لوگوں کو اِس نکتے کی کیوں سمجھ نہیں آتی؟اب بھی جب لوگ ہار کو جیت کا پیراہن پہنانے کے لیے طرح طرح کے جتن کرتے ہیں اور غیر جمہوری قوتوں کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوتے

ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔ باربار ٹھوکریں کھانے اورجگ ہنسائی کے باوجود تائب کیوں نہیں ہوتے۔ یہ کمزوری ہے یا اقتدار کی ہوس دونوں صورتوں میں باعث رشک نہیں۔ آپ کتاب پڑھتے ہوئے ایسا ہی محسوس کریں گے۔

چوہدری شجاعت حسین نے چوہدری پرویزالٰہی کے ساتھ گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے مصائب و تکالیف بیان کی ہیں لیکن کون سے شہر میں یہ گرفتاریاں ہوئیں وضاحت نہیں ملتی۔ اسی طرح اپنے فرزندگان کے ساتھ تصویر اور1968ء میں ہیمبرگ کی تصویری جھلک کی وضاحت میں اجنبیت ہے اور یہ اجنبیت خود نوشت کی زباں سے میل نہیں کھاتی لیکن واقعات سے متعلق شاعری کو حصہ بنا کر اثر پزیری میں اضافہ کیا گیا ہے سچائی کی تاثیر کی بنا پر قاری کتاب پڑھنا شروع کرتا ہے تو ایک ہی نشست میں پوری کتاب پڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ نیک نام اور دیانتدار چوہدری شجاعت حسین نے لگی لپٹی رکھے بغیر سچ بیان کیا ہے لیکن کہیں بھی بے جا تنقید یا اخلاق سے گرا ہوا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا حالانکہ ہمارے ہاں لکھتے یا بولتے ہوئے حریفوں کے لتے لینے کی روایت عام ہے لیکن وضع دار سیاسی خانوادے کے چشم و چراغ چوہدری شجاعت حسین نے اپنی روایتی وضع داری داغدار نہیں ہونے دی۔

نواز شریف کی اپنے گھرآمد ،عطیے کی پیشکش اور چوہدری پرویزالٰہی سے ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے انہوں نے کمال شائستگی کا مظاہرہ کیا ہے وزارتِ اعلیٰ کے وعدوں سے روگردانی ،میاں شریف کی کنبہ پروری بے نقاب کرتے ہوئے بھی اخلاق کا دامن تھامے رکھا ہے۔ بلاشبہ اگر چوہدری شجاعت حسین نہ ہوتے تو یہ واقعات بیان کرتے ہوئے ضرور ذاتیات تک آجاتے مگر وضع دار اور خاندانی چوہدری شجاعت حسین نے وعدہ خلافیاں بیان کرنے کے علاوہ کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔ بلاشبہ باوقار اور باعزت لوگوں کا یہی شیوہ ہے لیکن باربار وعدہ خلافی کے باوجود خاموشی پر اکتفا کرنا۔۔۔؟

سچ تو یہ ہے‘ میں عروج وزوال کواحسن پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک طرف ضیاء الحق دور میں شیخ رشید کوکوڑوں کی سزا سے بچانے کی بات ہے تو اسی کتاب میں ضیاء الحق کے بے گھر خاندان کی کسمپرسی کا تذکرہ بھی ہے۔ کچھ واقعات بڑے عبرتناک ہیں۔ کہاں وفا کی قسمیں کھانے والے نوازشریف سیاسی منظر سے ضیاء الحق کے ہٹتے ہی لاتعلقی اختیار کر لیتے ہیں، یہ ابن الوقتی اور مفاد پرستی کی سبق آموز داستان اندازِ بیاں کے طور پر سادہ سہی لیکن کسی بھی قاری کی پڑھتے ہوئے آنکھیں نمناک ہو سکتی ہیں۔ سچ جانیے تو یہ کتاب سیاست کو سمجھنے کے لیے بہت کارآمد ہے۔ قدرت اللہ شہاب کے شہاب نامے کے بعد سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خودنوشت اسی لیے ہے کیونکہ سچ بیانی ہے اور داستان گوئی کے مصالحے سے پاک ہے لیکن سچ کی تاثیر ہر صفحے پر عیاں ہے۔آمریت کے عروج میں عفوودرگزر سے معاملات نمٹانے اور خوشامدی درباری پالنے کی بجائے اخلاص کو ترجیح دی جائے تو خاندان دربدرنہ ہوں۔

چوہدری ظہورالٰہی شہید کے کامیاب سیاسی سفر اور چوہدری پرویز الٰہی کی خدمات کے چیدہ چیدہ واقعات بھی کتاب کا حصہ ہیں مگر بلوچ،سندھی اور پختون سیاستدانوں سے وابستہ یادیں کتاب کا اہم حصہ ہیں۔ بھٹو دور میں جمہوریت کی آڑ میں ہونے والے غیر جمہوری سلوک کی بات کرتے ہوئے بھی تحریر میں کڑواہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ شاید چوہدری شجاعت حسین کے ذہن میں یہ بات ہو کہ تلخ نوائی اخلاقی لحاظ سے غلط ہے اسی لیے انہوں نے رواں تحریر میں واقعات بیان کرنا بہتر تصور کیا ۔کتاب کا پہلا ایڈیشن ختم ہو چکا ہے دوسرا طباعت میں ہے۔ شہاب نامہ کے بعد اردو کی یہ خودنوشت سیاسی کارکنوں کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔کتاب پڑھتے ہوئے ایک حیران کن بات صاف محسوس ہوتی ہے وہ نواز شریف بیانیے سے اتفاق ہے اور سیاست میں بیرونی مداخلت کا اعتراف ہے حالانکہ چوہدری شجاعت حسین سب سے بنا کر رکھنے کے قائل ہیں مگر نواز شریف بیانیے سے اتفاق کیونکر ہے ؟ممکن ہے سوال کا جواب کسی اگلے ایڈیشن میں مل جائے۔

کتاب کی رونمائی تقریب میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو،شیخ رشید،حامد میر،حسن نثار،ایازمیر جیسے لوگوں کو دعوت دے کر چوہدری شجاعت حسین نے ’ سچ تو یہ ہے‘ کی رونمائی کو روایتی تقریب نہیں بنایا۔ بلند پایہ محقق اوردانشور اوریا مقبول جان نے نقابت کے فرائض کچھ ایسے انداز میں سرانجام دیے کہ ہر مقرر اپنے خطا ب میں کتاب تک ہی محدود رہا میڈیا نے بھی اچھی کوریج کی جس کی وجہ سے سامعین کو کتاب کے کئی واقعات کی تفصیل معلوم ہوگئی۔


ای پیپر