انصاف کا موسم اور شیدا
05 May 2018 2018-05-05

یہ شام کا وقت تھا،ڈوبتے سورج کی لالی کو اندھیرے نگل رہے تھے،میں جیسے ہی گلی کے کونے سے گھر کی طرف بڑھا ایک صاحب تیزی سے میرے کندھے سے ٹکرا گئے ،میرا کندھا ہل کر رہ گیا ابے دیکھ کر نہیں چلا جاتا میں غصے سے مڑکر چلایا،دیکھا تو شیدا تھا،اُس نے کندھے پر ایک بڑا بیگ اُٹھا رکھا تھا اور کان سے موبائل فون لگا ئے کچھ اول فول بک رہا تھا،کیوں ابے کسی بات کی جلدی ہے کیوں اودھم مچا رہا ہے۔ میرا کندھا ہلا کر رکھ دیا،اچھا بتا کدھر جا رہا ہے،میں نے ایک ہی سانس میں بہت سارے سوال پوچھ لئے، شیدا بوکھلاہٹ میں میرا منہ تکنے لگا۔میں نے کہا بول کیوں نہیں رہا، شیدا ہکلا کر بولا وہی ہوا جس کا ڈر تھا میں تم سے بچنا چاہتا تھا اور تم ہی سے ٹکرا گیا۔ اب تو ضرور مجھے جیل ہو گی،تم نے سب کو میرے بارے میں بتا دینا ہے اور پولیس ایک دودن میں مجھے پتال سے بھی نکال لائے گی اور عد الت میں پیش کر دے گی اور میں میرا سارا مستقبل جیل کی کال کوٹھری میں گزر جائے گا۔میں شیدے کو جانتا تھا اُسے بات بڑھانے کی بہت بری عادت تھی،زلزلہ شمالی امریکا آیا تو شیدا سول انجینئر کوبلا لایااورگھر کے درودیوار کا معائنہ کروانے لگ گیا،ایک دفعہ تو حد ہو گئی ویتنام میں سیلاب کی خبرسن کر شیدا مستری لے آیا اور گھر کے آگے بڑا سا تھڑا بنوا لیا،حالانکہ شیدے کے محلے کے آس پاس دریا تو دور کی بات کوئی ڈھنگ کا نالا بھی نہیں تھا۔

شیدے کی ایک اور عادت بھی تھی مجھے اپنی ساری دونمبریوں کے بارے میں بتا دیتا اور ساتھ ساتھ مجھے کہتا تو میرا سب سے بڑا دشمن بنے گا،

مجھے پتا تھاابھی کوئی ایسا ہی مسئلہ ہو گا۔میں نے کہا آؤ ہوٹل پر بیٹھتے ہیں پھر چلے جانا جہاں بھی جانا ہو گا،اچھا ٹھیک ہے شیدے نے چور نظروں سے ادھر اُدھر دیکھ کر جواب دیا،ہوٹل نہیں تمہارے گھر کے ڈرائنگ روم میں جا کر بات ہوگی اور تم مجھ سے وعدہ کرو تم کسی سے کچھ نہیں کہو گے،شیدے نے زور سے میرا ہاتھ تھام کر کہا۔اچھا چلوتو شیدے نے موبائل جیب میں ڈالا اور منہ پر کپڑا رکھ کر میرے ساتھ چل پڑا۔ مجھے شیدے کے رومال رکھنے سے کوفت ہوئی مجھے لگ رہا تھا کہ میں چوری چھپے کسی تالے کھولنے والے کو لے کر جا رہا ہوں وہ تو شکر تھا کوٹھی قریب ہی تھی،شیدے کو بھی اس علاقے میں منتقل ہوئے ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا تھا اور زیادہ دوستی ٹائپ والی چیز بھی مجھ ہی سے تھی۔ڈرائنگ روم میں آتے شیدا کرسی پر ڈھیر ہو گیا اور زور زور سے لمبے سانس لینے لگا، مجھے اس کی حالت دیکھ کر ہنسی آ رہی تھی،میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے شیدے سے پوچھا بتاؤ تو سہی کیا بات ہے،تمہیں نہیں پتا سارے اخبارات بھرے پڑے ہیں، بول بول کے ٹی وی اینکرز کے گلے بیٹھ گئے ہیں، یار پہیلی نہ بجھواؤ کھل کر بات کرو۔رشید صاحب ملک میں انصاف شروع ہو گیا ،روزانہ اتنے بڑے بڑے لوگ گرفتار ہو رہے ہیں ،ابھی کل ہی کرپشن کے الزام میں ایک بہت بڑے ٹھکیدار کوگرفتار کیا گیا ہے۔ شیدے کے ماتھے پرپسینے کے قطرے نمودار ہو رہے تھے،یہ تو اچھی بات ہے میں نے کہا۔میری بات سن کی شیدے کی شکل روہانسی سی ہو گئی،رشید ویسے تم سے یہ امیدتو نہیں تھی کیوں کیا عدل وانصاف کی حکمرانی ہو نا اچھی بات نہیں ،شیدے نے میری بات سن کی منہ دوسری طرف پھیر لیا،پھر اچانک ہی شیدا سنبھل کر بیٹھ گیا،اب اس کے چہرے پر غصے کے آثار نمایا ں تھے،گردن کی رگیں پھول رہی تھیں،تمہیں پتا ہے کہ میں نے یہ گھر کہاں سے بنایا ،یہ گاڑی کہاں سے لی۔ نہیں پتا تو سن لو یہ سب میں نے بوٹی لگوا کر کمایا ہے،بوٹی مطلب امتحانات میں نقل۔ میں نے حیرت سے پوچھا۔ہاں جی رشید صاحب ایویں اتنی دولت نہیں اکٹھی کر لی میں نے شیدے نے فخر سے میری طرف دیکھا،مجھ اب غصہ آ رہا تھا، تیرے جیسے لوگوں کی وجہ سے جعلی ڈاکٹر تیار ہوتے ہیں جو بعد میں معمولی تلخ کلامی پر اپنے مریضوں کو پیٹتے ہیں،یہ تو بہت بڑا جرم ہے۔کوئی جرم نہیں ہے جناب بس روٹی روزی کا مسئلہ ہے،اپنے بچوں کو کما کر کھلانا ہے بس۔اچھا تو اب کدھر بھاگ رہا تھا ۔میں کسی دوسرے ملک جانے کا سوچ رہا تھا بعد میں بیوی بچوں کو بھی بلا لیتا شیدا مسکرا کر بولا۔غیر قانونی طریقے سے باہر جانا چاہ رہے ہو اور کیا کروں قا نونی طریقے سے جانا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ شیدے نے گویا کوشش سے پہلے ہی ہاتھ کھڑے کر دیئے۔شیدے میری بات غور سے سنو اور یہ بیوقوفی کی باتیں چھوڑ دو۔ ہمارے ملک کی سیاست اور انصاف کا نظام نہایت پیچیدہ ہے،یہاں انصاف کا باقاعدہ موسم آتا، یہ الیکشن سے ٹھیک پہلے آتا ہے اور اس موسم کی بو سونگھ کر سیاسی پرندے ایک منڈیر سے دوسرے منڈیر تک اُڑان بھرتے ہیں اور اپنے پرانے آقاؤں کو برا بھلا کہہ کرنئے آقا کو اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ جب یہ موسم آتا ہے،بادلوں میں خوب بجلی چمکتی ہے، انصاف کی

امید لگائے عوام یقین کر لیتے ہیں کہ اب اس بار ضرور انصاف کی بارش برسے گی،کچھ اندر سے خوفردہ بھی ہوتے ہیں کہ کہیں اس بارش سے نظامِ زندگی ہی مفلوج نہ ہو جائے اور کسی کو انصاف کے سیلاب میں اپنی ساری جمع پونجی ڈوبتی نظر آ تی ہے۔مگر ہوتا کچھ نہیں چند مہینوں میں زندگی اپنی ڈگر پر واپس آ جاتی ہے،پھر وہی بوٹی مافیا ہوگا اور غریب کی گردن پر لیڈر کی جوتی ہو گی،تو یوں سمجھ لے نہ ہی نو من تیل ہو گا اور نہ رادھا کو ناچنا پڑے گا۔اچھا جی شیدے کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ،بڑی گہری سوچ رشید صاحب آپ کی۔ شیدا بولا، اچھا ایک بات اور بتائیں اگر چند ماہ بعد بھی پکڑ دھکڑ ہوتی رہی تو میرا کیا بنے گا۔کچھ بھی نہیں پھر تیرا اکیلے کا نہیں ہم دونوں کا تیا پانچا ہو جائے گا،کیا مطلب شیدا نے غور سے میری طرف دیکھا،شیدے پھر تم اکیلے نہیں بلکہ ہم دونوں اکٹھے فرار ہونگے۔ رشید صاحب آپ بھی، شیدے کو گویا بڑی خوشخبری مل گئی۔ اب ڈرائنگ روم میں صرف ہم دونوں کے قہقہے کی گونج تھی۔


ای پیپر