بنے گا نیا پاکستان !

05 مئی 2018

توفیق بٹ

جیسا کہ میں نے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا میں اِن دِنوں دبئی ہوں۔ سنگا پور سے میرے بھائی نعیم ظفر دبئی آرہے تھے، اُنہوں نے لاہور میں مقیم اپنے چھوٹے بھائی کلیم ظفر سے کہا وہ مجھے اپنے ساتھ دبئی لے کر آئیں۔ دبئی میں الیکٹرانکس کی عالمی نمائش تھی۔ نعیم ظفر اور حکیم ظفر کا سیکسس انٹرنیشنل کے نام سے الیکٹرانکس کا عالمی سطح کا کاروبار ہے۔ میں نے دونوں بھائیوں سے بہت معذرت کی میں دبئی نہیں آسکتا۔ انہوں نے میری ایک نہیں سُنی۔ اُن سے مسلسل معذرت کی ایک وجہ یہ تھی بیٹی کی شادی کے بعد گھر کا ایک فرد کم ہونے سے گھر کی رونقیں ذرا ماند پڑ گئی ہیں۔ پہلی بار بیگم صاحبہ نے اپنی طرف سے گزارش کی جو میرے نزدیک ایک ”حکم“ کا درجہ رکھتی ہے کہ اب آپ اندرون و بیرون ملک آنا جانا ذرا کم کر دیں۔ آپ کے جانے سے گھر کی بے رونقی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور دبئی نہ جانے کے لیے دوستوں سے معذرت کی دوسری وجہ یہ تھی لاہور میں عمران خان کا مینار پاکستان پر تاریخی جلسہ تھا جِس میں شرکت کے لئے پوری دنیا بے تاب تھی اور زیادہ تر ایسے لوگ بے تاب تھے جو عمران خان کے ساتھ صِرف اِس وجہ سے جذباتی محبت اور عقیدت رکھتے ہیں اُنہیں یقین ہے وہ پاکستان کے لئے دِل سے کچھ کرنا چاہتا ہے۔ میرے ساتھ تو اُس کا ایک ذاتی تعلق ہے جو پچیس برسوں پر محیط ہے۔ وہ میرے ہر دکھ سُکھ میں شریک ہوتا ہے۔ سو اِس حوالے سے اُس کے ساتھ میری محبت اور عقیدت ایک قدرتی امر ہے۔ مگر وہ لوگ جو اُسے آج تک نہیں ملے، بلکہ اُن میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اُس سے ملنا بھی نہیں چاہتے، مگر وہ اُس کی محبت میں اِس قدر مبتلا ہیں ایک لفظ اُس کے خلاف سننا گوارا نہیں کرتے۔ کینیڈا میں میرے ایک عزیز چھوٹے بھائی عدیل محی الدین ہی ایک نوجوان ہے وہ آج تک عمران خان سے نہیں مِلا۔ میں نے اُس سے کہا آپ جب بھی لاہور آئے میں آپ کو عمران خان سے ملواﺅں گا۔ وہ بولا ” مجھے اِس کی ضرورت نہیں ہے۔ اُس کی تصویر میرے دِل میں ہے۔ میں روز اُس سے ملتا ہوں۔ میں اُس سے غیر مشروط محبت کرتا ہوں، کیونکہ مجھے یقین ہے وہ واقعی پاکستان کی تقدیر بدل دے گا اور ہم جو اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنے وطن سے دُوری کی اذیت میں مبتلا ہیں اُس کے اقتدار میں آنے کے بعد ہمیں اُس اذیت سے نجات مِل جائے گی۔ اور ہم واپس اپنے ملک جا کر اپنی صلاحیتوں کو اپنے ملک کے لئے وقف کر دیں گے۔ جو کہ اب صِرف اِس لئے نہیں کر پا رہے کہ وہاں کے حکمرانوں کی گندگیوں کی وجہ سے کِسی کی جان مال عزت سمیت کچھ محفوظ نہیں ہے۔ کرپشن عروج پر ہے۔ کوئی کام پیسے دیئے بغیر نہیں ہوتا۔ اشرافیہ کی بدمعاشیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ غریب ، غریب ترین ہوتا جا رہا ہے۔ امیر ، امیر ترین ہوتا جا رہا ہے۔ بد، بدترین ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں یقین ہے عمران خان کے اقتدار میں آنے سے ایسی تمام عیاشیاں اور بدمعاشیاں ختم ہو جائیں گی۔ ختم نہ بھی ہوئیں اتنی کم ضرور ہو جائیں گی ہم وطن واپسی کا سوچ سکیں گے۔ کینیڈا میں مقیم صِرف ایک نوجوان عدیل محی الدین ہی نہیں بیرون ملک مقیم لاکھوں لوگ خصوصاً لاکھوں نوجوان ایسی ہی سوچ رکھتے ہیں۔ وہ عمران خان سے کبھی نہیں ملے، نہ وہ اُس کے ساتھ سیلفیاں بنوانے کے خواہش مند ہیں۔ بس وہ اُسے ہر حال میں اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اُن کے خیال میں بلکہ اُنہیں یقین ہے وہ واحد سیاستدان ہے جو ملک کو ایک عزت مندانہ مقام پر واپس لاسکتا ہے۔ اُس مقام پر جہاں ہر پاکستانی بیرون ملک بطور ایک پاکستانی کے اپنا تعارف کروانے میں فخر محسوس کرے۔ مجھے اکثر بیرون ملک جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔ حالت یہ ہے بیرون ملک اکثر پاکستانی اپنا تعارف کرواتے ہوئے شرماتے بلکہ گھبراتے ہیں کہ کہیں اُن کے ملک کے حکمرانوں کی طرح اُنہیں بھی چور ڈاکو یا لیٹرا نہ سمجھ لیا جائے۔ بہر حال میں عرض کر رہا تھا میں دبئی اِس وجہ سے بھی نہیں آنا چاہتا تھا عمران خان کا جلسہ تھا مجھے اُس میں شرکت کرنی تھی۔ مگر برادرم نعیم ظفر اور کلیم ظفر کی محبت کے آگے ہتھیار پھینکنا پڑے۔ دوسرے میں اِس وجہ سے بھی دبئی چلا گیا مجھ پر میرے دوستوں اور عزیزوں کا یہ پریشر بڑھتا جا رہا تھا کہ پی ٹی آئی کے مینار پاکستان کے جلسے میں وہ اُس سٹیج پر چڑھنا یا بیٹھنا چاہتے تھے جِس پر عمران خان نے بیٹھنا تھا۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی
عرض کیا اندرون و بیرون ملک سے بے شمار دوست احباب اور عزیز و اقارب اِس جلسے میں شرکت کے لئے تشریف لا رہے تھے۔ کپتان کے ساتھ میرے دیرینہ ذاتی تعلق کو پیش نظر رکھتے ہوئے اُن سب کا خیال تھا میں انہیں سٹیج پر چڑھانے کا آسانی سے بندوبست کر سکتا ہوں۔ ظاہر ہے یہ میرے لئے ممکن نہیں تھا۔ لہٰذا ایسے تمام دوستوں اور عزیز و اقارب سے جان چھڑانے کے لئے بھی میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ دبئی جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے اُن سے کہا میں پاکستان میں ہوتا آپ سب کو ساتھ لے کر سٹیج پر چڑھ جاتا۔ اصل میں لوگ عمران خان کے ساتھ بے پناہ عقیدت اور محبت رکھتے ہیں۔ وہ اُسے قریب سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اُس سے ملنا چاہتے ہیں۔ اُس کے ساتھ تصویریں بنوانا چاہتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں کسی شخصیت کے ساتھ لوگوں خصوصاً نوجوانوں کی اتنی محبت اور عقیدت نہیں دیکھی جتنی عمران خان کے ساتھ دیکھی۔ وہ اِس حوالے سے خوش قسمت ترین انسان ہے۔ اُس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو قدرت نے ہمیشہ سے اُسے ایک ” ہیرو“ کے مقام پر رکھا۔ جتنی شہرت دنیا میں ایک پاکستانی کے طور پر اُسے ملی شاید ہی اور کِسی کو ملی ہو۔ اِس شہرت کی بنیاد پر وہ دنیا کا سب سے بڑا دولت مند بن سکتا تھا مگر اُس نے دنیا کا سب سے بڑا عزت مند بننے کے لیے کوششیں کیں۔ اُس کی سماجی خدمات کی وجہ سے بھی لوگ اُس کے دیوانے ہیں۔ شوکت خانم میموریل ہسپتال کی تعمیر اُس کا ایسا کارنامہ ہے جس کی بنیاد پر اُس نے اپنی دنیا ہی نہیں آخرت بھی سنوار لی ہے۔ اُس کے ساتھ لوگوں کی دیوانہ وار محبت کی دوسری وجہ یہ ہے پاکستان کے سیاسی فرعونوں کا جِس انداز میں اُس نے مقابلہ کیا اور ملک اور اِس کے مظلوم عوام کو اُن سے نجات دِلانے کے لیے جتنی جدوجہد کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ابھی آج ہی دبئی کے ایک شاپنگ مال میں نون لیگ کے ایک لاہوری ایم این اے سے اچانک ملاقات ہوگئی۔ وہ بھی یہ اعتراف کر رہے تھے اُن کی جماعت کے فرعونوں کا مقابلہ صِرف اور صرف عمران خان ہی کر سکتا تھا۔ اُس کی وجہ شاید یہ ہے اُسے اللہ نے ہر طرح کے خوف اور لالچ سے آزاد رکھا ہے۔ ورنہ سیاسی فرعون خرید و فروخت کے جتنے ماہر ہیں اُس کی بنیاد پر وہ سمجھتے ہیں کوئی شخص ایسا نہیں خواہ اُس کا تعلق کِسی بھی شعبہ یا ادارے سے ہو جِسے وہ خرید نہ سکیں یا جِسے اپنے خوف میں مبتلا کر کے اپنی مرضی کے کام اُس سے نہ نکلوا سکیں۔ عمران خان نے اُن کے اِس زعم کو زبردست زد پہنچائی ہے اور اِس وجہ سے وہ تقریباً باﺅلے ہوگئے ہیں۔ (جاری ہے )

مزیدخبریں