اب دھوکہ نہ ہوا تو
05 May 2018 2018-05-05

29 اپریل کو مینار پاکستان کے سائے تلے آنکھوں دیکھا حال اور کانوں سنے احوال میں پاکستان تحریک انصاف کے مستقبل کے پلانز سے متعلق آگاہی ہوئی۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 2 نہیں ایک پاکستان کے لیے 11 نکات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت میں آیا تو ان نکات پر عمل کرکے ملک کو نیا پاکستان بنا دوں گا۔ تقریر دل کو بہت بھلی لگی اور سمجھ میں بھی خوب آئی۔ موازنے میں پتا چلا کہ نئے پاکستان اور تبدیلی کے نعرے کو لے کر اگست 2014ءمیں عمران خان صاحب نے اسلام آباد کا رخ قریباً انہی الفاظ کے ساتھ کیا تھا۔ پھر کیا شہر شہر جلسوں اور دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اسی بہانے ہمیں اور دیگر صحافی حضرات کو عمران خان کی ہمراہی میں پورا پاکستان دیکھنے کا اتفاق ہوا مگر یہ تجزیہ PTI کے تمام حلقے ضرور مانیں گے کہ 29 اپریل 2018 کا عمران خان PTI کے 22 سالوں میں سب سے مختلف نظر آیا۔

دو گھنٹے سے زائد کی تقریر میں عمران خان کسی مقام پر بھی پٹری سے اکھڑتے نظر نہیں آئے۔ وہ جو سوچ کر آئے تھے وہی بول کر گئے۔ اور جو دکھانے کا ارادہ رکھتے تھے عوام نے بڑی سکرین پر وہی دیکھا۔ نہ مخالفین کے لیے طعنے تھے نہ تشنے اور نہ ہی زیر لب مسکراتے ہوئے طنز۔ قطع نظر اس کے کہ اس جلسے کا موازنہ ماضی کے کسی جلسے سے کیا جائے۔ کتنے لوگ تھے، کہاں کہاں سے آئے تھے، تاثرات کیا تھے، لیکن یہ ضرور دیکھا کہ سب آج بغور عمران خان کی تقریر اور نکات سن رہے تھے۔ مخالفین کو لتاڑنا تو دور کی بات کئی بار مہنگائی اور ڈیزل کا ذکر ہوا مگر ہ±و ہ±و ہ±و کے ساتھ ساتھ کسی کا خیال بھی اور طرف نہیں گیا۔

11 نکات میں جب سنا کہ عمران خان وعدہ کررہے ہیں کہ قوم کو ایک کرنے کے لیے ایک تعلیمی نصاب لائیں گے یعنی ایچیسن کالج اور میونسپل کارپوریشن کے سکول کا نصاب ایک کرنے کا منصوبہ ہے۔ 2۔ پورے ملک کو صحت کی یکساں سہولتیں ہوں گی یعنی مٹیاری کا مریض یہ سوچ سوچ کر ہی نہیں مرجائے گا کہ اس کا علاج صرف کراچی یا حیدرآباد میں ہونا ہے۔ 3۔ ٹیکس کا درست نظام یعنی روزمرہ کی ہر ضرورت سے ٹیکس اینٹھنے کا عمل PTI کی حکومت میں چلنے والا نہیں۔ 4۔ NAB کو مضبوط کرنے کا منصوبہ بھی تقریر میں شامل تھا یعنی کرپشن پر کنٹرول احتساب سب کا کے نعرہ سے ہوگا۔ 5۔ ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کا ماحول دیا جائے گا یعنی تارکین وطن ہی پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوں گے۔ 6۔ 50 لاکھ سستے گھر پورے ملک میں تعمیر کیے جائیں گے یعنی PTI کی حکومت میں فی گھر چار افراد کی مناسبت سے 2 کروڑ افراد کو اپنے گھر کا مالک ہونے کا خواب دکھایا جارہا ہے۔ 7۔ سیر و سیاحت کے حوالے سے پاکستان کو ٹورازم کا حب بنانے کا ارادہ بھی خان صاحب رکھتے ہیں اور اس کا موازنہ سوئٹزرلینڈ کی اکانومی سے تقریر میں کیا بھی ہے۔ 8۔ انصاف اور پولیس کا نظام بہتر کریں گے یعنی پنجاب میں امیر کی شادی رات گئے تک اور غریب کی شادی رات 10 بجے ختم نہیں ہوگی۔ 9۔ کسانوں کی حالت بہتر بنانے کیلئے زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے گی یعنی اگلے پانچ سالوں میں گنے اور گندم کی لاکھوں ٹرالیاں فلور مل اور شوگر مل کے سامنے اس انتظار میں کھڑی نظر نہیں آئیں گی کہ حکومت کی جانب سے بتائے گئے ریٹ پر اناج کیوں نہیں اٹھاتے ہو۔ 10۔ جنوبی پنجاب فی الفور نیا صوبہ ہوگا اور فاٹا خیبرپختونخوا میں ضم ہوگا یعنی اب کسی مخالف سیاسی جماعت کو نئے صوبوں کے قیام کی حد تک مکھی پر مکھی مارنے کا موقع نہیں ملے گا۔ 11۔ خواتین کو مزید طاقتور اور خودمختار بنایا جائے گا یعنی گوٹھ، قصبے اور گاو¿ں کی عورت اپنے حقوق سے آشنا ہونے جارہی ہے نہ کہ بینظیر انکم سپورٹ کارڈ سے۔ کوئی شک نہیںPTI کا شو اور کپتان کی تقریر دونوں ہی متاثر کن تھیں۔ خان صاحب نئے پاکستان کے پورے وژن کے ساتھ عوام کے سامنے آگئے ہیں یا یوں کہیے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عوام کی عدالت میں پہلی بار اپنے الفاظ کے قیدی بن کر 2018ءکے الیکشن میں اترنے جارہے ہیں۔ ن لیگ کہتی ہے کہ PTI کے گیارہ نکات میں کچھ بھی نیا نہیں۔ یہ سب تو 2013 ءکے ہمارے الیکشن منشور میں درج تھا۔ اگر مزید 10 یا 20 سال مل جاتے تو پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کردیتے۔ پیپلز پارٹی کا بھی کم و بیش انہی الفاظ کے ساتھ بیانیہ ہے۔

عمران خان صاحب کو مشورہ ہے کہ اگر ایک تہائی اکثریت وہ حاصل نہ کرسکے تو کم از کم 18 ویں ترمیم کو ختم کرنا ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوگا کیونکہ 11 نکات میں سے قریباً 9 نکات ایسے ہیں جو اب صرف اور صرف صوبوں کو ہی تفویض کردیے گئے ہیں۔ صرف مرکز میں رہ کر ان پر عملدرآمد ناممکن ہوگا۔ سندھ اور بلوچستان میں PTI تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ سینیٹ میں آپ کی 12 نشستیں ہیں اور 18 ویں ترمیم میں سرمایہ کاری، نوکریاں، ماحولیات، پولیس، خواتین کے امور، تعلیم، احتساب 2010 ءسے صوبوں کے پاس ہیں۔ تاریخ لکھی جارہی ہے یہ گیارہ نکات ن لیگ کے ہوں یا پیپلزپارٹی کا نعرہ۔ اگر مان بھی لیا جائے تو کم از کم دل کو اتنی تسلی ضرور ہوگی کہ بین الاقوامی سازش، تیسری طاقت، خلائی مخلوق یا پھر جمہوریت کا حسن ہی تھا جس کی بنا پر پاکستان کے تمام جمہوری حکمران یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ گیارہ نکات کسی بھی ملک کو پستی سے بلندی تک لے جانے کے لیے ایک عام جزو ہیں---ان پر عمل نہیں کرپائے۔ اور اب PTI کا اگلے پانچ سال کا منصوبہ اس بات کا یقین دلا رہا ہے کہ پاکستان کے تمام سیاستدان 70 سال کی کمزوریوں کو جانتے ہیں۔ بہت غور کیا تو معلوم ہوا کہ اسلامی فلاحی ریاست کے لیے صرف یہ گیارہ نکات ہی تو درکار ہیں۔ لیکن اب عوام نے دیکھنا یہ ہے کہ دھوکہ کون دیتا ہے۔


ای پیپر