Kanwar Dilshad, former secretary Election Commission, Prime Minister, Imran Khan, reservations, Election Commission, unconstitutional
05 مارچ 2021 (15:26) 2021-03-05

لاہور: سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے وزیر اعظم عمران خان کے الیکشن کمیشن پر تحفظات اور خدشات کو غیر آئینی قرار دیدیا ۔

انھوں نے نیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت وہی اختیارات ہیں جو سپریم کورٹ کے پاس ہیں ۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیشن 10 کے تحت جو بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف جائے گا ۔ اسکے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے ۔

کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کو انکے آئینی ماہرین ٹھیک سے اپ ڈیٹ نہیں کر رہے ، چیف الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں خفیہ رائے شماری کی مخالفت نہیں کی تھی بلکہ آرٹیکل 226 میں ترمیم کرنے کی بات کی تھی ۔

سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن نے ماضی کا واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ 1996 میں نواز شریف نے اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر سردار فخر عالم کے خلاف عمران خان جیسے ہی الفاظ استعمال کئے تھے جس پر نواز شریف کو بعد ازاں ان سے معافی مانگی تھی ۔

وزیراعظم اور وزرا کی تقاریر پر الیکشن کمیشن کا ردعمل ، کہا ملکی اداروں پر کیچڑ نہ اچھالیں ، کچھ تو احساس کریں ۔ ایک ہی چھت تلے ہونے والے الیکشن میں سے جو جیت گئے وہ منظور۔ جو ہار گئے وہ نامنظور کیوں؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ فیصلوں پر اعتراض ہے تو آئینی راستہ اختیار کریں ، آئینی اداروں کی تضحیک الیکشن کمیشن کی نہیں حکومت کی کمزوری ہوگی ۔ الیکشن کمیشن نے مشورہ دیا ، ہر سیاسی جماعت اور شخص میں شکست تسلیم کا جذبہ ہونا چاہئے ۔


ای پیپر