The constitution cannot be ignored to please anyone, the Election Commission said in response to the Prime Minister's statement
کیپشن:   فائل فوٹو
05 مارچ 2021 (14:25) 2021-03-05

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزرا اور وزیراعظم کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کی خوشنودی کی خاطر آئین کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز اپن تقریر میں الیکشن کمیشن پر تنقید کی تھی۔

اس بیان کا نوٹس لیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا تھا۔

الیکشن کمیشن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن آئین اور قانون کے مطابق کروانے پر ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ وہ خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوئے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کے رزلٹ کے بعد میڈیا کی وساطت سے جو خیالات ہمارے مشاہدے میں آئے ہیں ان کو سن کر دکھ ہوا۔ خصوصی طور پر وفاقی کابینہ کے چند ارکان اور بلخصوص وزیراعظم نے کو کل اپنے خطاب میں فرمایا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی اور آزاد ادارہ ہے۔ اس کو ہی دیکھنا ہے کہ آئین اور قانون اس کو اجازت دیتا ہے اور وہی اس کا معیار ہے۔ ہم کسی کی خوشنودی کی خاطر آئین اور قانون کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور نہ ہی ترمیم کرسکتے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق اگر کسی کو الیکشن کمیشن کے احکامات پر اعتراض ہے تو وہ آئینی راستہ اختیار کریں اور ہمیں آزادانہ طور پر کام کرنے دیں ۔ہم کسی بھی دباؤ میں آئے ہیں اور نہ ہی انشاءاللہ آئیں گے۔

الیکشن کمیشن کو کسی بھی وفود نے ملنا چاہا الیکشن کمیشن نے ان کا موقف سنا ان کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ الیکشن کمیشن سب کی سنتا ہے مگر وہ صرف اور صرف آئین و قانون کی روشنی میں ہی اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔ اور آزادانہ طور پر بغیر کسی دباؤ کے فیصلے کرتا ہے تاکہ پاکستانی عوام میں جمہوریت کو فروغ ملے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ حیران کن بات ہے کہ ایک ہی روز ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی الیکٹرول میں ایک ہی عملہ کی موجودگی میں جو ہار گئے وہ نامنظور جو جیت گئے وہ منظور ۔کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔ جبکہ باقی تمام صوبوں کے رزلٹ قبول ۔ جس رزلٹ پر تبصرہ اور ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے الیکشن کمیشن اس کو مسترد کرتا ہے۔

اعلامیے مزید کہا گیا ہے کہ یہی ہے جمہوریت اور آزادانہ الیکشن اور خفیہ بیلٹ کا حسن جو پوری قوم نے دیکھا اور یہی آئین کی منشا تھی۔ جن خیالات کا اظہار کیا گیاہ ے وہ پارلیمنٹ سے منظور کروانے میں کیا امر مانع تھا جبکہ الیکشن کمشین کا کام قانون سازی نہیں ہے بلکہ قانون کی پاسبانی ہے۔اگر اسی طرح آئینی اداروں کی تضحیک کی جاتی رہی تھو یہ ان کی کمزوری کے مترادف ہے کہ الیکشن کمیشن کی۔

ہر سیاسی جماعت اور شخص میں شکست تسلیم کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے اگر کہیں اختلاف ہے تو شواہد کے ساتھ آکر بات کریں۔ آپ کی تجاویز سن سکتے ہیں تو شکایات کیوں نہیں لہٰذا ہمیں کام کرنے دیں ۔ملکی اداروں پر کیچڑ نہ اچھالیں۔ کچھ تو احساس کریں ۔الیکشن کمیشن انشاءاللہ خدا کے فضل و کرم سے اپنی آئینی ذمہ داریاں بخوبی قانون اور آئین کی بالادستی کے لیے احسن طریقے سے انجام دیتا رہے گا۔


ای پیپر