Doctor Ibrahim Mughal, columns, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
05 مارچ 2021 (12:04) 2021-03-05

قارئین کرا م آ پ بھو لے نہیں ہو ں گے تحریکِ انصا ف کے سر براہ عمران خا ن نے برسرِ اقتدا ر آ نے کے سلسلے میں جو پہلا و عدہ کیا تھا وہ مہنگائی کا ذمہ دا ر پرا نی حکو متوں کو ٹھہرا تے ہو ئے عوام کو یقین دلا یا تھا کہ وہ نو ے روز کے اندر اندر ان کی مہنگا ئی کے عفر یت سے گلو خلا صی کرا لیں گے۔ گلوخلا صی تو وہ نہ کرا سکے لیکن پچھلے دنوںانہو ں نے ایک بار پھر دہرایا کہ انہیں مسائل ورثے میں ملے ہیں۔ مسائل کے حوالے سے یہ شکایت ماضی کی ہر حکومت کم و بیش انہی الفاظ کے ساتھ کرتی آئی ہے؛ چنانچہ آج پاکستان تحریک انصاف حکومت میں ہو کر یہی کہتی ہے تو یہ بیانیہ بظا ہر حیران کن نہیں لگتا، مگروہ نو ے روزکی یقین دہا نی؟ اس کا کیا جا ئے؟چنا نچہ عوام حکومت کی جانب اس نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں کہ اس کی اپنی کارکردگی کیا ہے اور عوامی زندگی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ماضی کی حکومتوں سے ایسا بہت کچھ سرزد ہوا جو انہیں عوامی مقبولیت سے محروم کرنے اور ان کی جگہ کسی اور کو حکومت کا مینڈیٹ دلانے کا سبب بنا، اس لیے یہ سمجھنا کہ مسائل کی ذمہ داری بطور ماضی کی جانب منتقل کرکے ذمہ داری سے بچا جاسکتا ہے، درست نہیں۔ موجودہ حکومت کے لیے ماضی کی مثالیں بطور سبق موجود ہیں کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کرکے وقت گزارنے والوں کو عوام کن الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ اگر پاکستان تحریک انصاف خود کو اس سطح سے بلند کرنے کی خواہش مند ہے تو اسے اپنے طرزِ حکومت میں وہ بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے جو ماضی کی حکمران جماعتیں نہیں لاسکیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری یقینا عوام کی نظر میں بنیادی مسائل ہیں مگر امن و امان اور گورننس کی بہتر صورت حال بھی ناگزیر ہوتی ہے۔ مو جو دہ حکمرا ن عوا م کو مہنگا ئی سے نپٹنے کا ایک حل تو یہ پیش کر تے ہیں کہ وہ عا م بازاروں کی بجا ئے یو ٹیلیٹی سٹو رز سے خر یدا ری کو ترجیح دیں۔مگر ذرا غو ر تو فر ما ئیں کہ ہو کیا رہا ہے۔ کیو نکہ اخبا ر میں چھپنے وا لی ایک خبر کے مطابق پبلک اکائونٹس کمیٹی کے ارکان یوٹیلیٹی سٹورز پر غیرمعیاری او رناقص اشیا کی فراہمی پر برس پڑے۔ آڈٹ حکام کے مطابق 64 ریجنز میں کارپوریشن کوالٹی ایشورنس سرٹیفکیٹ فراہم نہیں کرسکی۔ یہ شکایات کوئی نئی نہیں اور عوام کا ایک غالب حصہ اس پر شکایت کناں رہتا ہے کہ یوٹیلیٹی سٹورروں پر قدرے ارزاں ملنے والی اکثر اشیا مضر صحت ہوتی ہیں۔ بالخصوص یوٹیلیٹی سٹورز پر فراہم کی جانے والی چینی محض سفید پائوڈر ہوتی ہے جبکہ گھی اور کوکنگ آئل بھی کم معیار کا ہوتا ہے۔ مگر اربابِ اختیار کی جانب سے اس امر کا کم ہی نوٹس لیا جاتاہے۔ اس حوالے سے ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد و ضوابط واضح ہیں؛ تاہم اطلاعات کے مطابق قواعد و ضوابط کو پس پشت ڈالتے ہوئے سستی مگر 

مضرصحت اشیا خرید کر ادارے کا خسارہ کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے نقصان صرف غریب عوام کا ہوتا ہے جو بازار سے کم اور حکومت کے مقررہ کردہ نرخوں پر سودا سلف خریدنے کے لیے ان سٹوروں کا رخ کرتے ہیں۔ ضروری ہے کہ کارپوریشن پی اے سی کی سفارشات پر کان دھرے اور معاملے کی جامع تحقیقات کرے۔ اگر واقعی اشیا مضر صحت ہیں تو ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرے، کیونکہ ادارے کا خسارہ کم کرنے کے نام پر کسی کو بھی عوام کی صحت اور جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ 

اس کے بعد اب آ تے ہیں حکمر ان جما عت کی عمو می کا ر کر دگی کی جانب۔ایک مر تبہ پھر یا د دلا تا ہوں کہ پاکستان تحریک انصاف نے قبل از انتخابات بلند تر دعووں اور ارادوں سے عوام کی امیدیں آسمان پر پہنچادی تھیں مگر حکومت ملنے کے اڑھائی برسوں میں عوام کی یہ امیدیں بر نہیں آئیں۔ ملکوں کا نظام بدلنے کے لیے اڑھائی سال کا عرصہ یقینا کافی نہیں یہ سبھی مانتے ہیں، مگر اس عرصے میں پائیدار تبدیلی کا آغاز تو ہوسکتا ہے جبکہ ہمارے معاملے میں ابھی یہ بھی یقین سے کہنا مشکل ہے کہ تبدیلی کی داغ بیل ہمارے ہاں ڈال دی گئی ہے۔ یوں تو وقت کے ساتھ کچھ نہ کچھ تبدیلی آتی ہی ہے، ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے مگر جسے ہم جامع اصلاحات یا قومی مسائل کا حل قرار دیں، اس کے آثار ابھی دکھائی نہیں دیے۔ اچھی حکمرانی کی عدم موجودگی نے عوام کو حکومت اور نظام حکومت سے بدظن کردیا ہے۔ اس میں وہ حق بجانب بھی ہیں کیونکہ سرکاری اداروں کی جانب سے عوام کو سروس کی فراہمی میں بہتری کے آثار نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اداروں میں لوگوں کو جس بدعنوانی کی شکایت پہلے تھی سو اب بھی ہے۔ سرکاری اداروں میں کام نمٹانے کی رفتار میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ یہاں تک کہ حکمرانوں کا اپنا رویہ اور طرزِ عمل بھی تبدیلی کو جسٹی فائی نہیں کرتا۔ عوام کے لیے مہنگائی بلاشبہ ایک بڑا مسئلہ ہے مگر مہنگائی کے ساتھ جڑے ہوئے دیگر مسائل بھی اسی طرح اہم ہیں۔ مثال کے طور پر تعلیم، صحت، سماجی تحفظ اور امن و امان۔ اس لیے حکومت کو اپنی توجہ، ترجیحات او رذمہ داریوں کو صرف مناسب نرخوں پر کھانے پینے کی اشیا تک محدود نہیں کرنا چاہیے بلکہ ریاست کی دیگر ذمہ داریوں کی جانب بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ اس کے لیے پائیدار نظام درکار ہے جو ہمارے ہاں نہیں بن پایا۔ حکومت کی جانب سے ان اڑھائی برسوں میں کئی تجربے کیے گئے مگر مستقل بنیادوں پر کسی ایک کو بھی قائم نہیں رکھا گیا جس کی وجہ سے موجودہ اور سابق ادوار میں کچھ خاص فرق نظر نہیں آتا۔ یہ کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ اتنی سی مدت میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہوجاتیں یا شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پینے لگتے، ایسا ممکن نہیں، مگر اس مدت میں کسی نظام کی تبدیلی اور پائیدار اصلاح کے خدوخال تو سامنے آسکتے تھے۔ حالیہ کچھ عرصے سے حکومت وعدہ فردا کا بیانیہ دھیرے دھیرے اور غیرمحسوس انداز سے سامنے لانا شروع ہوچکی ہے، مگر مدنظر رہے کہ مستقبل کے وعدے بھی ماضی کی کارکردگی کی روشنی میں ہی بھلے لگتے ہیں اور کارکردگی وہ جو سب کو نظر آئے نہ کہ وہ جو صرف اپنے بیانیے ہی میں جھلکتی ہو۔ اپنی با ت کہہ کر مسلسل اس سے پھر جا نے کو عوا م نے ایک لمبے مشا ہد ے کے بعد یو ٹر ن کا نا م دیا۔ مگر صد قے جا ئیے کہ عمرا ن خا ن کیا خو ب تو جیہہ پیش کی کہ سیا ست اسی کا نا م ہے۔ کو ئی مجھے بتا ئے گا کہ اگر یہ در ست ہے تو پھر وعد ہ خلا فی کس چڑ یا کا نا م ہے؟ ریا ستِ مد ینہ کی آ پ بات کر تے ہیں اور اسے اپنا نصب العین قرا ر دیتے ہیں تو کیا وہا ں ایسا کر نے کا سو چا بھی جا سکتا تھا؟اور ضد ایسی کہ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔ پنجا ب کے گو رنر کی کارکر دگی سے کو ن وا قف نہیں؟ مگر چو نکہ آ پ جناب نے لگا دیا ہے تو اس سے بہتر کو ئی چو ائس نہیں۔ یہا ں تو جیہہ یہ پیش کی جا تی ہے کہ وہ انتہا ئی ایما ندا ر ہے۔ ایما ندا ر تو میرا ڈر ائیو ر بو ٹا بھی بہت ہے۔تو پھر کیا اسے بھی کسی ایسے عہد ے پر فا ئز کر دیا جا ئے؟ 


ای پیپر