Rana Zahid Iqbal
05 مارچ 2021 (11:58) 2021-03-05

گزشتہ برس جنوری سے تعطل کا شکار 6 ارب ڈالر قرضہ کا پروگرام کچھ شرائط کی تکمیل کے وعدے پر عالمی مالیاتی ادارے نے  بحال کر دیا ہے، جس پر حکومت بغلیں بجا رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گدا گری انسانیت کی توہین ہے اور جب یہ مرض قوموں کے قائدین کو لاحق ہو جائے تو وہی کچھ ہوتا ہے جو ان دنوں ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔ کوئی افتاد آئے، کوئی بحران کھڑا ہو ، ہمارے حکمرانوں کی رال ٹپکنے لگتی ہے اور ان کے ہاتھ بڑے بڑے کشکولوں میں چھپ جاتے ہیں۔ ہر مسئلے کو مال بنانے کا ایک وسیلہ سمجھ لینے کی روش ہر دور میں کسی نہ کسی طور موجود رہی ہے لیکن گزشتہ دو دہائیوں سے یہ بڑے عروج پر ہے۔ موجودہ حکومت اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بیرونی قرضوں کو بہت تنقید کا نشانہ بنایا کرتی تھی لیکن اب وہ بھی اسی ڈگر پر چل رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں پاکستان کے بیرونی قرض میں 3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ جو ملکی جی ڈی پی کا 87 فیصد بنتا ہے۔ جب کہ آئین کے مطابق حکومت جی ڈی پی کا 60 فیصد سے زائد قرض حاصل نہیں کر سکتی۔ عام آدمی کے سمجھنے کے لئے اس سے مراد ہے کہ پاکستان پر قرضہ جات اس کی جی ڈی پی کا 87 فیصد ہڑپ کر گئے ہیں اور  حکومت مزید قرضے بھی حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہے، کم از کم موجودہ حالات میں اس کے رکنے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ 

وزیرِ اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دورِ حکومت میں پاکستان نے 20 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ واپس کیا ہے جو بیرونی قرضوں کی ریکارڈ واپسی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق حکومت نے قرض تو واپس کیا ہے لیکن اس بیرونی قرض کو اتارنے کے لئے اس نے نیا قرض لے کر ملک پر قرضوں کا مزید بوجھ بڑھا دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 31 دسمبر 2020ء تک ملک کا مجموعی قرض 115.756 ارب ڈالر تھا۔ ایک سال پہلے یعنی 31 دسمبر 2019ء کو 110.719 ارب ڈالر تھا یعنی پاکستان کے ذمے مجموعی طور پر واجب الادا قرض میں ایک سال میں پانچ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ملک کے جی ڈی پی اور قرض کے درمیان تناسب تقریباً 30 فیصد ہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق موجودہ حکومت کی مدت شروع ہونے سے لے کر 31 دسمبر 2020ء تک اس حکومت نے 20.454  ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ واپس کیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اتنے ہی عرصہ کے دورِ اقتدار میں بیرونی قرض کی واپسی کو دیکھا جائے تو اس کی مالیت 9.953 ارب ڈالر تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اتنے عرصہ میں 6.454 ارب ڈالر کا بیرونی قرض واپس کیا تھا۔ اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو موجودہ حکومت کا سب سے زیادہ ادا کیا جانے والا قرضہ ہے۔ہر سال پاکستان کے ذمے قرض میں سے آٹھ سے دس ارب ڈالر ادائیگی 

کے لئے میچور ہو جاتا ہے۔ پھر ادائیگی کے لئے نیا قرض لینا پڑتا ہے اس کے ساتھ بجٹ خسارے کے لئے مزید قرض حاصل کرنا پڑتا ہے جو تقریباً پانچ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں اب تک یہی ہوتا آ رہا ہے اور اب بھی یہی ہوا کہ بیرونی قرضوں کی واپسی کے لئے نیا قرض اٹھایا گیا جو حکومتی اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ بیرونِ ملک سے لئے جانے والے قرض کی مالیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 20 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنے کے باوجود 31 دسمبر 2019ء کے مقابلے میں 31 دسمبر 2020ء میں ملک کے بیرونی قرضے میں 5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان آئی ایم ایف سے زیادہ سے زیادہ قرض حاصل کرنے کی فکر میں رہتا ہے اور پھر جیسے ہی آئی ایم ایف کو قسطوں کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے ، زرِ مبادلہ کے ذخائر کم ہو جاتے ہیں، ڈالر کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس طرح روپے کی قدر گھٹ جاتی ہے۔ جس سے ایک طرف درآمدات کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے تو دوسری طرف ملک میں مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو قرضہ لینا پڑتا ہے اور قرضہ لینا کوئی بری بات نہیں ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ یہ قرضہ کیسے خرچ ہوتا ہے۔ اگر یہ قرضہ پیداواری شعبے کو بڑھانے کے لئے خرچ ہو رہا ہے اور اس سے معیشت کا حجم بڑھ رہا ہے تو یہ اچھی پالیسی ہے۔اگر بیرونِ ملک سے قرضہ لے کر بجٹ خسارہ پورا کیا جائے تو اس کا معیشت پر بہت منفی اثر پڑتا ہے اور ملک قرضوں کے چنگل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ ملک کی آمدنی بڑھا کر بیرونِ ملک قرضے پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ حالت میں یہ بھی بہت مشکل کیونکہ ملک کی معیشت سکڑ رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ دورِ حکومت میں بیرونی قرض بڑھنے کی بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی تھی جو ڈالر کے مقابلے میں 106 سے بڑھ کر 160 روپے تک پہنچ گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گزشتہ 12سال میں ملک کا قرض جس تیزی سے بڑھا ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس وقت ملک کا مجموعی قرض 6 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 36 ہزار ارب روپے ہو چکا ہے جس کی بنیادی وجہ عالمی مالیاتی ادارے کے پروگرام میں شمولیت ہے۔ 

حصولِ آزادی کے بعد گزشتہ 73 سال میں ہمارے ملک کے بیرونی قرضوں کے حجم میں بدستور اضافہ ہوتا رہا ہے۔ حکومتوں کی طرف سے ان قرضوں کا جو جواز بتایا جاتا رہا ہے کہ معاشی سرگرمیوں کو سپورٹ کرنے اور غربت میں کمی لانے کے لئے، لئے جا رہے ہیں لیکن در اصل موجودہ اور ماضی کی حکومتوں کے حاصل کردہ بیرونی قرضے زیادہ تر غیر پیداواری شعبوں میں استعمال کئے جاتے رہے۔ بیرونی قرضے اگر صنعتی ومعاشی ترقی کے لئے قابلِ عمل پروجیکٹس پر لگائے جائیں تو ان قرضوں کی ادائیگی کے ساتھ صنعتی و معاشی ترقی حاصل ہو جاتی ہے۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ ملک کے قیمتی اثاثوں کی نجکاری کر کے ان سے حاصل ہونے والی رقم سے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی گئی لیکن دستیاب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتنے قیمتی اثاثے بیچ کر بھی بیرونی قرضے کم نہیں ہوئے حتیٰ کہ کئی قومی اثاثے بیرونی قرضوں کے عوض گروی بھی رکھے گئے۔ پاکستان نے ہمیشہ قرض سے حاصل کی گئی رقم کے بڑے حصے کو بھاری قرضہ جات کی ادائیگی کے لئے استعمال کیا، جس کی وجہ سے پاکستان کے لئے بہت مشکل اور پیچیدہ صورتحال پیدا ہو رہی ہے اور اب اس امر سے ہر پاکستانی پوری طرح واقف ہے کہ جب آمدنی سے زیادہ خرچ ہو گا اور آمدنی کے وسائل بھی سکڑتے جا رہے ہوں تو مسائل تو پیدا ہوں گے ہی۔ پاکستان بار بار بیل آئوٹ پیکیجز کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جاتا ہے جو  پاکستان کی معیشت کے حوالے سے انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ اس کے بجائے پاکستان کو اپنے توازنِ ادائیگی کو بہتر بنانے کے لئے اور مالیاتی مسائل حل کرنے کے لئے اپنی مالیاتی پالیسیوں کو بہتر طور پر تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ 


ای پیپر