Syed Wali Shah Afridi, columns, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
05 مارچ 2021 (11:49) 2021-03-05

شہباز شریف کے برطانوی اخبار کے خلاف مقدمے نے شہباز شریف کے حق میں ابتدائی سماعت کی منظوری اور ڈیلی میل اخبار کے وکلاء کی جانب سے اس بات کا اعتراف کہ مضمون سے شہباز شریف کی ہتک ہوئی ہے جبکہ جج کی جانب سے یہ بات کہ انہوں نے خود مضمون کو پڑھا ہے جو مفروضوں پر مبنی ہے اور شہباز شریف کی ہتک کی گئی ہے نا صرف شہباز شریف اور خاندان کے لئے ایک بہت بڑی کامیابی ہے بلکہ پاکستان کے بجائے بین الاقوامی دنیا نے اس خاندان کی ساکھ کی بحالی میں ڈیلی میل کا کیس بہت بڑا کردار ادا کرے گا ۔اب تفصیلی سماعت کے بعد اگر ڈیلی میل شواہدپیش نہیں کرتا ہے اور شہباز شریف یہ کیس جیت جاتے ہیں تو پھر نا صرف ڈیلی میل کے رپورٹرز کے لئے مسئلہ ہو گا بلکہ جس نے اس رپورٹر کو غلط معلومات فراہم کی ہیں اس کا نام سامنے آنے کا امکا ن ہے اور بین الاقوامی دنیا میں نواز شریف اور شہباز شریف خاندان کے خلاف جو پروپیگنڈا کیاگیا ہے نا صرف اس پروپیگنڈے کا توڑ ہو جائے گا بلکہ بین الاقوامی فورم پر ان کی ساکھ بحال ہو جائے گی اور قوی امکان ہے کہ شہباز شریف ڈیلی میل کے خلاف یہ کیس جیت جائیں گے کیونکہ کسی بڑے گھر میں رہنے اور طرز زندگی کو نشانہ بنایاگیا ہے جبکہ ڈی ایف آئی ڈی اور برطانوی حکام سے پوچھے بغیر ڈی ایف آئی ڈی کے پیسوں کے غلط استعمال کو جواز بنایاگیا ہے حالانکہ ادارہ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ پیسے اپنی طرز پر خرچ کرتا ہے ۔کیس کی مکمل سماعت کے دوران ڈی ایف آئی ڈی کی جانب سے تمام شواہد پیش کرنے کا امکان ہے جس سے ڈیلی میل کا کیس مزید کمزور ہو جائے گا ۔

پاکستان مسلم لیگ(ن)کے صدر و اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کو پہلا قانونی نوٹس 26جولائی 2019ء کو بھیجا تھا ۔ڈیلی میل میں ڈیوڈ روزکا آرٹیکل 19جولائی 2019ء کو شائع ہوا تھا جس میں شہباز شریف اور ان کے خاندان پر زلزلہ متاثرین کے لئے برطانیہ کی طرف سے 550ملین پائونڈز کی امداد خرد برد کرنے کا الزام لگایاگیا تھا ۔لندن کے ہائیکورٹ کے جج جسٹس نقلین نے ابتدائی سماعت کے بعد فیصلہ سنا دیا اور کہا کہ اخبار کے مضمون میں لکھے گئے الفاظ شہباز شریف کی ہتک عزت کا باعث تھے ۔ڈیلی میل کے وکلاء نے کہا کہ شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کا براہ راست الزام نہیں لگایا ۔شہباز شریف پر تفصیلی شواہد کافی حد تک مفروضوں پر مبنی تھے اور یہ کہا کہ Presumptio یعنی گمان کی بنیاد پر جو الزامات لگے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لاہور میں ایک بڑے محل میں رہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان پر مفروضوں کی بنیاد پر منی لانڈنگ اور کرپشن کے الزامات لگائے جس پر جج نے کہا کہ اگر شہباز شریف اس کیس میں قصو ر وار بھی قرار دیئے گئے تھے یا سزا یافتہ ہوتے تو ان پر تب بھی Tens of Billions Of A Embezzlement Fundsکا الزام ان پر نہیں لگنا چاہیے تھا ۔عدالت میں ڈیلی میل کے وکلاء نے تین مرتبہ کہا کہ ان کے پاس شہباز شریف ،ان کی فیملی اور علی عمران یوسف کی منی لانڈرنگ کے حوالے سے ٹھوس اور اصل شواہد موجود نہیں ۔ڈیلی میل کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان میں اثاثہ ریکوری یونٹ کی طرف سے دی گئی رپورٹ ملنے کے بعد ڈیوڈ روز نے ڈیلی میل میں آرٹیکل لکھا ۔اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے لئے وزیراعظم کے مشیر احتساب شہزاد اکبر کی طرف سے دیئے گئے شواہد کی بنیاد پر ڈیلی میل میں سٹوری شائع کی گئی تھی ۔لندن ہائیکورٹ میں ڈیلی میل کے وکلاء نے تین مرتبہ خود تسلیم کیا کہ ان کے پاس برطانوی حکومت کی امداد خرد برد کرنے کے ثبوت نہیں ۔ڈیلی میل میں آرٹیکل شائع ہونے کے بعد برطانیہ کے ترقیاتی ادارے DFIDنے شہباز شریف کی طرف زلزلہ زدگان کی امدادی رقم خرد برد کرنے سے متعلق ڈیلی میل میں چھپنے والے کالم کی تردید کی تھی اور کہا کہ ڈیلی میل نے اپنی سٹوری کو سچ ثابت کرنے کے لئے بہت کم ٹھوس ثبوت دیئے ۔ہم نے دی جانے والی رقوم اور تعمیرات کا آڈٹ کرایا تھا۔ برطانوی ٹیکس دہندگان کا پیسہ بالکل ٹھیک جگہ پر خرچ ہوا اور رقم سے زلزلہ متاثرین کی مدد ہوئی ۔واضح رہے کہ مذکورہ اخبار برطانوی حکومت کی جانب سے ترقی پذیر ممالک کو دی جانے والی امداد کی مخالفت کے حوالے سے مشہور ہے ۔

تحریک انصاف حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد اب تک سیاسی حکمت عملی یہی رہی ہے کہ سیاسی مخالفین کو کرپٹ کہا جائے ۔خراب معیشت ،بڑھتی ہوئی مہنگائی،بیروزگاری کا الزام بھی سابقہ حکومتوں پر لگایا جائے ۔تحریک انصاف کی ڈھائی سالہ کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے ۔ان کے ووٹرز ،سپورٹرز بھی پریشان ہیں ۔حکومت ڈلیور نہیں کر رہی ہے ۔قوم کے سامنے جھوٹ بولنے اور دوسروں پر الزامات عائد کرنے سے حکومت نہیں چل سکتی ۔حکومت کی خراب کارکردگی کی وجہ سے ڈھائی سال بعد عوام کی اکثریت کہتی ہے کہ مسلم لیگ(ن)کا دور حکومت ترقی اور خوشحالی کا تھا۔ شہباز شریف نے عوام کے مسائل کو عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کیا اور انقلابی منصوبے شروع کئے تھے اس کی مثال ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔قوم آج محمد شہباز شریف کے بہترین طرز حکمرانی کو یاد کر رہے ہیں ۔


ای پیپر