Ali Imran Junior, columns, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
05 مارچ 2021 (11:45) 2021-03-05

دوستو،کہا جاتا ہے کہ ہمیں صحت مند رہنے اور طویل عمر پانے کے لیے روزانہ سبزیوں اور پھلوں کے پانچ پورشن کھانے چاہئیں تاہم اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں ان پانچ پورشنز کے متعلق ایک تنبیہ کر دی ہے ورنہ ان پانچ پورشنز کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ امریکی سائنسدانوں نے دنیا بھر سے 20لاکھ لوگوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے نتائج میں بتایا ہے کہ سبزیوں اور پھلوں کے پانچ پورشن روزانہ کھانا صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے مگر یہ تبھی فائدہ مند ہو گااور آپ طویل عمر پا سکیں گے جب ان میں ایک خاص تناسب رکھا جائے گا اور کچھ مخصوص سبزیاں وغیرہ ان میں شامل نہیں ہوں گی۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ روزانہ 2پورشن پھل اور 3پورشن سبزیاں ہونی چاہئیں۔ سبزیوں میں نشاستے کی حامل سبزیاں، مٹر وغیرہ، اور آلووں کا اس حوالے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اسی طرح پھلوں کے جوس کا بھی طویل العمری کے حوالے سے کوئی فائدہ سامنے نہیں آیا۔ اس کی بجائے پھل کھانا قبل از وقت موت کے خطرے میں کمی لاتا ہے۔امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے جریدے کیلکولیشن میں شائع ہونے والے اس تحقیق کے نتائج میں سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ روزانہ پھلوں کے 2اور نشاستے کے بغیر سبزیوں کے 3پورشن کھانے سے انسان کو دل کی بیماریاں اور کینسر لاحق ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے اور وہ طویل عمر پاتا ہے۔واضح رہے کہ ایک پورشن کا وزن سائنسدانوں نے 80گرام بتایا ہے، جو آم یا سیب کی دو بڑی قاشوں یا ایک گاجر کے برابر ہے۔

امریکہ اور جاپان نے زمین کے ماحول کا ایک ماڈل بنا کر یہاں زندگی کے خاتمے کے متعلق ایک حیران کن پیش گوئی کر دی ہے۔ امریکی و جاپانی سائنسدانوں کی مشترکہ تحقیق میں بنائے گئے اس ماڈل سے معلوم ہوا ہے کہ 1ارب سال بعد ہماری زمین پر آکسیجن کا لیول اس قدر کم ہو جائے گا کہ یہاں بیشتر زندگی ختم ہو جائے گی۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سورج کی وقت کے ساتھ بڑھتی ہوئی چمک زمین کی سطح کے درجہ حرارت اور پودوں میں ضیائی تالیف 

(Photosynthesis)کے عمل کو متاثر کرے گی، جس سے ایک طرف زمین کا درجہ حرارت بہت بڑھ جائے گا اور دوسرے آکسیجن کا لیول انتہائی کم ہو جائے گا۔ تاہم یہ دونوں کام ہونے میں کم و بیش 1ارب سال کا عرصہ لگے گا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہماری اس تحقیق کے نتائج سے یہ اندازہ کرنے میں آسانی ہو گی کہ ہمیں کتنی دیر میں کسی اور ایسے سیارے کی تلاش کر لینی چاہیے جہاں زندگی ممکن ہو۔ اگر تب تک ایسا کوئی سیارہ نہ ملا تو انسانیت نابود ہو جائے گی۔

کورونا وائرس کا خوف تاحال اس قدر ہے کہ ایک حالیہ سروے میں59فیصد لوگوں نے کہا ہے کہ وہ جراثیموں اور وائرسز کے خوف سے مستقبل میں لوگوں کو ملتے ہوئے انہیں گلے نہیں لگائیں گے، بوسہ نہیں دیں گے اور حتیٰ کہ ہاتھ بھی نہیں ملائیں گے۔ تاہم ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں بغل گیر ہونے کا ایسا فائدہ بتا دیا گیا ہے کہ یہ لوگ بھی وائرس کے خوف کو ایک طرف رکھتے ہوئے لوگوں سے گلے مل کر ہی انہیں خوش آمدید کہا کریں گے۔ میل آن لائن کے مطابق ماہرین نے اس تحقیق کے نتائج میں بتایا ہے کہ گلے ملنے سے لوگوں کو کئی طرح کی بیماریوں سے تحفظ ملتا ہے اور ایسے لوگ دوسروں کی نسبت زیادہ طویل زندگی پاتے ہیں۔یونیورسٹی آف لندن اور یونیورسٹی آف گولڈزسمتھس کے ماہرین نے اس مشترکہ تحقیق میں 112ممالک کے 40ہزار لوگوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے نتائج مرتب کیے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر مائیکل بینیسی کا کہنا تھا کہ ’’ہماری تحقیق میں یہ ثابت ہوا ہے کہ جن لوگوں کو دوسروں کے جسم کا لمس جتنا زیادہ ملتا ہے، ان کی صحت اتنی ہی بہتر ہوتی ہے اور ان میں تنہائی کا احساس اتنا ہی کم ہوتا ہے جو ان کی جسمانی و ذہنی صحت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ تحقیق میں شامل جو لوگ دوسرے سے ملاقات کرتے انہیں گلے ملتے تھے ان میں بلڈپریشر مستحکم پایا گیا۔ اس کے علاوہ ان میں ذہنی پریشانی بھی بہت کم تھی اور ایسے لوگوں کو تکلیف کا احساس بھی کم ہوتا تھا۔اس کے مدافعتی نظام کے لیے بھی فوائد سامنے آئے، جس کے نتیجے میں لوگ کئی طرح کی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں اور نتیجتاً دوسروں سے زیادہ طویل عمر پاتے ہیں۔

ایک نوجوان اپنی زندگی کے معاملات سے کافی پریشان تھا۔اک روزایک درویش سے ملا قات ہو گئی تواپنا حال کہہ سنایا۔ کہنے لگا کہ بہت پریشان ہوں۔ یہ دکھ اور پریشانیاں اب میری برداشت ہے باہر ہیں۔ لگتا ہے شائد میری موت ہی مجھے ان غموں سے نجات دلا سکتی ہے۔درویش نے اس کی بات سنی اور کہا۔۔ جاؤ اور نمک لے کر آؤ۔۔نوجوان حیران تو ہوا کہ میری بات کا نمک سے کیا تعلق پر پھر بھی  لے آیا۔درویش نے کہا۔۔پانی کے گلاس میں ایک مٹھی نمک ڈالو اور اسے پی لو۔ نوجوان نے ایسا ہی کیا تو درویش نے پوچھا:اس کا ذائقہ کیسا لگا؟نوجوان تھوکتے ہوئے بولا۔۔بہت ہی خراب، ایک دم کھارا ۔۔درویش مسکراتے ہوئے بولا۔۔اب ایک مٹھی نمک لے کر میرے ساتھ اس سامنے والی جھیل تک چلو۔صاف پانی سے بنی اس جھیل کے سامنے پہنچ کر درویش نے کہا۔۔چلو اب اس مٹھی بھر نمک کو پانی میں ڈال دو اور پھر اس جھیل کا پانی پیو۔نوجوان پانی پینے لگا، تو درویش نے پوچھا۔۔ بتاؤ اس کا ذائقہ کیسا ہے، کیا اب بھی تمہیں یہ کھارا لگ رہا ہے؟نوجوان بولا۔۔نہیں، یہ تو میٹھا ہے۔ بہت اچھا ہے۔درویش نوجوان کے پاس بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔۔ہمارے دکھ بالکل اسی نمک کی طرح ہیں۔ جتنا نمک گلاس میں ڈالا تھا اتنا ہی جھیل میں ڈالا ہے۔ مگر گلاس کا پانی کڑوا ہو گیا اور جھیل کے پانی کو مٹھی بھر نمک سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ اسی طرح انسان بھی اپنے اپنے ظرف کے مطابق تکلیفوں کا ذائقہ محسوس کرتے ہیں۔  جب تمھیں کوئی دکھ ملے تو خود کو بڑا کر لو، گلاس مت بنے رہو بلکہ جھیل بن جاؤ۔اللہ تعالی کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔  اس لئے ہمیں ہمیشہ یقین رکھنا چاہیے کہ جتنے بھی دکھ آئیں ہماری برداشت سے بڑھ کر نہیں ہوں گے۔ 

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔دولتمندلوگ لڑکیوں کی نظر میں کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر